واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


جُليبِب رضي اللہ عنہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-07-10, 10:41 AM   #1
جُليبِب رضي اللہ عنہ
میاں شاہد میاں شاہد آف لائن ہے 31-07-10, 10:41 AM

جُليبِب رضي اللہ عنہ

اپ کا نام کچھ غیر مانوس اور نامکمل سا تھا۔ جُلیبِب "جلباب" کا مختصر مترادف ہے جس کا مطلب ہے "کوتاہ بڑھوتی"۔ اس نام ہی سے ظاہر ہے کہ جُلیبِب کوتاہ قد اور کسی حدتک کبڑے جیسے حالت کے حامل تھے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کو "دامیم" سے بھی ظاہر کیا گیا ہے جس کا مطلب بدصورت، بدنما اور متنفر کرنے والا ہے۔

اس سے بھی پریشان کن بات یہ تھی کہ جس معاشرے میں وہ رہتے تھے وہاں حسب نسب کی بڑی اہمیت تھی مگر جُلیبِب کے نسب کا بھی کو ئی پتہ نہیں تھا۔ اس بات کا کوئی علم نہ تھا کہ ان کے والد اور والدہ کون تھے اور یہ کہ کس قبیلہ سے ان کا تعلق تھا۔ یہ اس معاشرے میں ایک بہت بڑی معذوری تھی جس کے وہ فرد تھے۔ جُلیبِب اس معاشرے سے کسی قسم کی کوئی رفاقت، مدد اور محافظت کی توقع نہیں تھی جہاں حسب نسب ہی انسان کی بڑائی سمجھاجاتا تھا۔ ان کے بارے میں صرف اتنا معلوم تھاکہ وہ ایک عرب ہیں اور جہاں تک اسلام کی تشکیل کردہ نیا معاشرے کا تعلق تھا اس میں ان کی تعلق انصار سے تھا۔ شاید ان کا تعلق مدینہ سے باھر کے کسی قبیلہ سے تھا اور بعد میں وہ شہر میں منتقل ہوگئے یا وہ شاید مدینہ ہی کے کسی انصار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔

اس معذوری کے ساتھ جس میں جُلیبِب مبتلا تھے بہت کافی تھا کہ لوگ ان کا مذاق بناتے اور معاشرے میں کمتر مقام کے حقدار ٹھہرتے اور درحقیقت انہیں کچھ گھروں میں داخل ہونے کی ممانعت تھی مثلاً اسلم قبیلہ کے ابو بارزہ۔ انھوں نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا:

" جُلیبِب کو گھر میں داخل نہیں ہونے دینا۔ اگر وہ داخل ہوں تو میں ان کے ساتھ سخت سلوک کروں گا" شاید اس لیے کہ جُلیبِب مردوں کی محفل میں سخت مذاق، طعن و تشنع کا نشانہ بنتے اور خواتین کی پناہ ليتے تھے

کیا اس بات کی کچھ توقع تھی کہ جُلیبِب کے ساتھ باوقار طریقے سے برتاؤ کیا جائے گا؟ کیا اس کی کچھ امید تھی کہ بطور ایک فرد اور مرد کے وہ اپنے جذبات کی تسکین کرسکیں؟ کیا اس بات کی کچھ امید تھی کہ وہ حقوق جن کو ہرکوئی پیدائشی حق گردانتا ہے ان کے حصے میں بھی اسکیں؟ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اسلام کے روبہ تشکیل نئے معاشرے میں کیا ان کی حثیت اتنی ہی معمولی رہے گی کہ وہ ریاست کے عظیم معمولات اور زندگی کے بالاتر معاملات میں ہمہ تن مصروف پیغمبر (ص) کی توجہ سے محروم رہیں؟

تقدیر اور زندگی کے بارے میں اعلیٰ ترین علم رکھنے والے رحمت العالمین (ص) کو اپنے اس صحابی کے ضروریات اور حساسیت کے بارے میں بھی اچھی طرح علم تھا۔

۔ پیغمبر اسلام (ص) جُلیبَب (ر) کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک صحابی کے پاس گئے اور کہا " میں چاہتا ہوں کہ اپ اپنی صاحبزادی کی شادی کردیں"۔ "کتنی اچھی اور مبارک بات ہے اے رسول اللہ اور یہ تو میری انکھوں کی ٹھنڈک ہوگی"۔ انصاری صحابی نے خوشی اور مسرت کے ساتھ کہا۔ "میں اپنے لیے بات نہیں کررہا ہوں" پیغمبر نے مزید کہا۔ " پھر کس کے لیے اللہ کے پیغبر (ص)"۔ صحابی نے کچھ اداسی کے ساتھ کہا۔ "جُلیبَب کے لیے" پیغمبر (ص) نے کہا۔

انصاری ذرا صدمہ سا پہنچا اور وہ بمشکل کہہ سکے کہ " میں اس کے ماں سے مشورہ کرلوں" اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی شادی کرلے"۔ انھوں نے اپنی شریک حیات کو مطلع کیا۔ " یہ تو بہت اچھا خیال ہے اور ہمارے لیے بہت ہی خوشی کی بات ہے" شریک حیات نے سرشاری کی سی کیفیت میں جواب دیا۔ " مگر وہ خود شادی کے خواہش مند نہیں ہیں بلکہ وہ جُلیبِب کے ساتھ شادی کی منشا ظاہر کی ہے"۔ تو وہ بھی ششدر رہ گئیں۔

"جُلیبِب کے ساتھ! نہیں، جُلیبِب کے ساتھ کبھی نہیں، اللہ کی قسم، ہم جلُیبَب کے ساتھ اس (بیٹی کی) شادی نہیں کریں گے"۔ انھوں نے احتجاجاً کہا

انصاری اپنی بیوی کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتانے جانے کے لیے اٹھ ہی رہے تھے کہ ان کی صاحبزادی جو اپنی والدہ کا احتجاج سن چکی تھیں نے کہا :" کس نے اپ کو کہا کہ میری شادی کردیں؟"

ماں نے اپنی صاحبزادی رسول اللہ کی جُلیبِب کے ساتھ شادی کی درخواست کے بارے میں بتایا۔ جب انھوں نے سنا کہ درخواست رسول اللہ (ص) کی طرف سے ہے اور ان کی والدہ نے اس کی مخالفت کی ہے تو وہ بہت پریشان ہوگئیں اور کہا :

" کیا اپ اللہ کے رسول کی درخواست کو مسترد کررہے ہیں؟ اپ یہ بات قبول کرلیں کہ یقیناً وہ میرے لیے بہتر ہی کریں گے"۔ یہ ایک ایسے عظیم شخصیت کا جواب تھا جو بلاشبہ یہ جانتی تھی کہ بحیثیت مسلمان ان سے کیا درکار ہے۔ اس سے زیادہ قابل اطمینان اور تکمیل ایمان کسی مسلمان کے لیے کیا ہوسکتا ہے کہ وہ بالخوشی اللہ کے رسول کی درخواست و احکام کے اگے سر تسلیم خم کرے۔ بلاشبہ ان صحابی رسول جن کا نام معلوم نہیں نے یہ ایات جان رکھیں تھیں کہ:

"اور تھمارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو۔ بے شک خدا باریک بیں اور باخبر ہے (33) (جو لوگ خدا کے اگے سراطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی ) مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سےیاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں ۔ کچھ شک نہیں کہ ان کے لیے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کررکھا ہے (35) اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا (36) ( القران : سورہ احزاب 33-36)

یہ آیات حضرت زینب بنت جیش اور حضرت زید ابن الحارث کی شادی کے پش منظر میں نازل ہوئی تھیں جس کا انتطام پیغمبر رسول (ص) نے معاشرتی مساوات کی اسلامی روح کو اجاگر کرنے کے لیے کیا تھا۔ زینب (ر) پہلے پہل تو زید (ر) سےشادی کے خیال سے تو ذرا دلگیر ہوگئیں اور شادی سے انکار کردیا۔ مگر رسول اللہ (ص) کی ترغیب پر بالاخر یہ شادی منقعد ہوگئی۔ مگر شادی اخرکار طلاق پر ختم ہوئی اور حضرت زینب (ر) کی شادی پھر رسول اللہ (ص) سے ہوئی۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انصاری خاتون نے یہ آیات تلاوت کیں اور اپنے والدین سے کہا:

"میں مکمل مطمئین ہوں اور جو کچھ میرے لیے بہتر سمجتھے ہیں اس کے اگے سر تسلیم خم بخوشی کرتی ہوں"

رسول اللہ (ص) نے انصاری خاتون کا عمل سنا اور اس کے لیے دعا یوں فرمائی :" اے رب، اس پر خیر کثیر نازل فرما اور اس کی زندگی کو مشکل اور پرمصیبت نہ بنا۔"

کہا جاتا ہے کہ وہ خاتون شادی کے لیے انصار کے درمیان سب سے بہتر انتخاب تھیں۔ انھوں نے رسول اللہ (ص)کے حکم پر جُلیبِب (ر) سے شادی کی اور پھر ان کے ساتھ ہی رہیں حتیٰ کہ جُلیبِب کو شہادت کارتبہ مل گیا۔

اور جُلیب کیسے شھید ہوئے؟ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک معرکہ میں شریک تھے اور ان کی کچھ مشرکین کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی۔ جب لڑائی ختم ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے پوچھا: " کیا اپ کا کوئی ساتھی کم ہے؟"۔ قریبی رشتہ دار اور دوستوں نے ان لوگوں کے نام بتائے جو شھید ہوئے تھے۔ ایک اور گروپ نے کہا کہ ان کا کوئی نقصان نہیں ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نےکہا :

"مگر میں نے جُلیب کو کھو دیا ہے ان کی میدان جنگ میں تلاش کرو۔" انھوں نے تلاش شروع کی اور جُلیب (رضی اللہ عنہ) کو اس حالت میں پایا کہ ان کے قریب ساتھ مشرکین کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جنھیں جُلیب (رضی اللہ عنہ) نے شھادت سے پہلے مضروب کیا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور وہاں پہنچے جہاں جُلیب (ر)، اپ(ص) کے صحابی، کا جسم موجود تھا۔ آپ (ص) وہاں کھڑے ہوگئے اور کہا :" انھوں نے سات افراد کو قتل کیا اور پھر قتل ہوئے۔ یہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔"

اپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دو یا تین دفعہ دھرایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جُلیب (ر) کے ہتھیار لے لیے اور کہا کہ " ان کے لیے رسول اللہ (ص) کو گود سے بہتر کوئی بستر نہیں"۔ پھر رسول اللہ نے ایک قبر خود تیار کی اور اپنے صحابی کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ انھوں نے غسل نہیں دیا کیونکہ شھید کو غسل نہیں دیا جاتا۔

جُلیب (ر) اور ان کی شریک حیات ان صحابیوں میں شامل ہیں جن کا تذکرہ اور مدح اتنی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔ مگر بہت کم تفصیلات جو کہ ان کے بارے میں معلوم ہیں تو معلوم پڑتا ہے کہ اتنے غیر نمایاں صحابیوں کوبھی امید اور عزت نفس رسول اللہ (ص) کی جانب سے عطاہوتی تھی جب وہ تنہا اور مشکل میں ہوتے تھے۔

اس نامعلوم انصاری خاتون کا عمل، جو کہ فوراً جُلیب جیسے غیر نمایاں مرد سے شادی کے لیے تیار ہوگئیں ، ان کے اسلام کی بہترین سمجھ کی جھلک دکھاتاہے۔ اپنے اپ کو اورا پنی ترجیحات کو اسلام کے لیے فنا کرنا جب کہ ان کے والدین بھی شادی کے لیے کچھ رضامند نہ تھے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کے اور رسول اللہ کے احکام کی پابندی کرنا ان کو کتنا محبوب تھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ کی حکمت اور اختیار کے اگے سر تسلم خم کرنا ان کا اختیاری فعل تھا جو کہ ایک سچے مومن کی نشانی ہے۔

جُلیب (ر) ایک ایسے شخص کی مثال ہیں جو کہ ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے معاشرتی طور پر "ناپسندیدہ شخص" کی سی حثیت رکھتے تھے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے توجہ، مدد، اور حوصلہ ملنے سے وہ بہادرانہ اقدامات کرنے کے قابل ہوسکے اور قربانی کی اعلیٰ مثال پیش کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس قول کے مستحق ہوئے کہ " میں ان سے ہوں اور یہ مجھ سے ہیں۔"

Last edited by میاں شاہد; 02-08-10 at 01:28 PM.. وجہ: بلال بھائی کی درخواست پر لفظ تبدیل کیا گیا ہے، بٹن دباکے

 
میاں شاہد's Avatar
میاں شاہد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 149
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-07-10), نورالدین (31-07-10), محمد عاصم (05-08-10), محمدمبشرعلی (31-07-10), مرزا عامر (03-08-10), بلال اویسی (31-07-10)
پرانا 31-07-10, 04:42 PM   #2
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : میاں شاہد مراسلہ دیکھیں
جُلیب (ر) ایک ایسے شخص کی مثال ہیں جو کہ ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے معاشرتی طور پر اچھوت کی سی حثیت رکھتے تھے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے توجہ، مدد، اور حوصلہ ملنے سے وہ بہادرانہ اقدامات کرنے کے قابل ہوسکے اور قربانی کی اعلیٰ مثال پیش کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اس قول کے مستحق ہوئے کہ " میں ان سے ہوں اور یہ مجھ سے ہیں۔"
بہت اعلیٰ مضمون ہے لیکن اس لفظ سے دلی تکلیف ہوئی کیونکہ بات ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں ہے۔اور صحابی بھی وہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیارے ہیں۔ درخواست ہے کہ اگر لفظ نرم ہوجائے تو مہربانی ہوگی۔
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (31-07-10), مرزا عامر (03-08-10)
پرانا 02-08-10, 01:25 PM   #3
Senior Member
 
میاں شاہد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: www.alkamunia.com
مراسلات: 10,442
کمائي: 38,209
شکریہ: 8,508
4,556 مراسلہ میں 9,750 بارشکریہ ادا کیا گیا
میاں شاہد کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں میاں شاہد کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

برادرم بلال
اگر آپ کو لفظ اچھوت پسند نہیں‌آیا تو میں‌معذرت خواہ ہوں اور اسے لفظ ناپسندیدہ سے تبدیل کر رہا ہوں



بٹن دباکے
میاں شاہد آف لائن ہے   Reply With Quote
میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی (02-08-10)
جواب

Tags
لوگ, منتقل, ماں, معلوم, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, اسلامی, اعلیٰ, بہترین, تلاش, جواب, خواتین, خدا, درخواست, دعا, زندگی, شہر, طلاق, عزت, صحابہ, صحابی, صدمہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:31 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger