| دعاء اور اذکار دعاء اور اذکار |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
![]() Sayyiduna Amr ibne Abasah (RadhiAllaho anho) narrates that Rasulullah (Sallallahu Alaihi Wasallam) told me: Indeed, the closest the Rabb comes to His slave, is in the last part of the night; If you can remember Allah Subhanahu wa ta'ala at that time, then do so. { Mustadrak Hakim } |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے میاں شاہد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
چھوٹے چچا، کافی دنوں بعد تشریف لائے ہیں۔ فورم پر بے رونقی محسوس ہو رہی تھی۔ جزاک اللہ خیرا۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ صحیح بخاری کتاب الجمعۃ باب الدُّعَاءِ فِي الصَّلَاةِ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ "ہر رات جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰآسمانِ دنیا پر اترتا ہے اور کہتا ہے "کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کا جواب دوں، کون ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں، کون ہے مجھ سے معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کر دوں " اللہ تعالیٰہمیںاس وقت سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ Last edited by عبداللہ حیدر; 03-05-09 at 12:37 AM. |
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | خرم شہزاد خرم (02-05-09) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
////جزاک اللہ میاں صاحب ////
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ حیدر (02-05-09) |
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ
شاہد بھائی کہاں ہیں آجکل GTG سے بچنے کے پروگرام ہیں کیا ؟؟
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,300
کمائي: 86,524
شکریہ: 1,995
3,504 مراسلہ میں 12,349 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، شاھد بھائی ، اللہ آپ کو مزید خیر کی توفیق عطا فرمائے ، ان شا اللہ باخیر و عافیت ہوں گے ، آپ کی کمی کمی سے دل اداس رکھتی ہے ، اور بھتیجے چلو تمہیں بھی جزاک اللہ خیرا ، ویسے یہ تو بتاو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے آسمان دنیا پر اترنے کا کیا مفہوم ہے ؟؟؟ و السلام علیکم۔ |
|
|
|
| عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (03-05-09) |
|
|
#6 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
ہمارے معاشرے میں وحدت الوجود کے ماننے والوں کے زیر اثر اللہ تعالیکے بذاتہ ہر جگہ موجود ہونے کا عقیدہ عام ہے جبکہ قرآن و حدیث کے محکم دلائل سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے البتہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ کو محیط ہے۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰکس طرح عرش پر مستوی ہے تو انہوں نے جواب میں فرمایا: "الاستواء معلوم، و الکیف مجہول، و الایمان بہ واجب و السئوال عنہ بدعۃ" "اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا تو (قرآن و فرمان رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) سے معلوم ہے، اس کی کیفیت مجہول ہے (یعنی کوئی نہیںجانتا کہ کس طرح ہے) اور اس پر ایمان واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے" یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول فرمانے کا ہے۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے لہٰذا اس پر ایمان رکھنا واجب ہے لیکن اس کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، نہ اس کی تاویل، تفویض یا تعطیل کی جائے گی۔ چچا جان، میںنے کچھ غلط لکھ دیا ہو تو آگاہ فرمائیے۔ یہ آپ کا خاص موضوع ہے۔
|
|
|
|
| عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | فیصل ناصر (03-05-09) |