واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


Googleچین سے خروج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-03-10, 04:04 PM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,089
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Post Googleچین سے خروج

Googleچین سے خروج

پہلے یہ خبر دیکھیں پرانی ہے 14 جنوری کی
Agencies
شاذونادر ہی بزنس کمپنیوں کی خبریں میڈیا میں اتنی زیادہ شہ سرخیوں کی وجہ بنتی ہیں جتنی کہ انٹرنیٹ کمپنی گوگل کی چین میں ممکنہ طور پر اپنی سروسز روک دینے کی خبر بنی ہے۔ بہت کم ہی ایسے اعلانات مغربی بنیادی جمہوری اقدارکواتنا متاثرکرتے ہیں جتنا کہ سرچ انجن گوگل کی جانب سے حال میں سامنے آنے والے اس بیان نے کیا کہ یہ ادارہ چین میں اپنی سرگرمیاں جلد ہی بند کر سکتا ہے۔

گوگل نے یہ دھمکی چین میں پائی جانے والی سنسرشپ کے خلاف، اوراْس کے مطابق چین میں ہیکرز کی جانب سے کئے گئے حملوں، خاص طور سے انسانی حقوق کے کارکنوں کے ای میل اکاؤنٹس کی جاسوسی کے رد عمل میں دی ہے۔ یہ ایک اعلان جنگ ہے، جوانٹرنیٹ سرچ انجن کا کام کرنے والے سب سے بڑے ادارے گوگل کے انصاف کے شعبے کے چیف ڈیوڈ سمن نے ایک تجارتی بلاگ کے ذریعے چینی حکومت کے خلاف کیا ہے، بیجنگ حکومت کی طرف سے پابندیوں اور مختلف سوچ اور رائے رکھنے والے انسانوں کے تعاقب اور انہیں زیر دباؤ لانے کے عمل کے خلاف احتجاج کے طور پر۔ ڈیوڈ سمن اس سارے معاملے کو عالمی سطح پر زیر بحث موضوع یعنی ’چین میں آزادئ رائے‘ کے تناظر میں پیش کر رہے ہیں۔ سرچ مشین گوگل کے لئے آزادئ رائے کا حق اور صارفین میں احساس تحفظ اور ان کے ادارے پر اعتماد ہی ان کے کاروبار کی بنیاد ہے۔ اس امکان کو تسلیم کیا جانا چاہئے کہ گوگل کے اعلیٰ عہدیدار چین میں اپنے ادارے کی خدمات روک دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ جس کے موقف میں کوئی لچک ہو اور جو کسی معاملے میں ڈیل کی گنجائش باقی رکھتا ہے، وہ اتنا شور نہیں کرتا۔ چین میں ہیکرز کے حملوں کی خبر عام ہونے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو بھی اس بحث میں شامل کرنے کا مقصد، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا چین سے ہیکرز کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی ای میلز کو ہدف بنانے کے عمل کی وضاحت کا زور دار آواز میں مطالبہ، یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ تاہم چین میں گوگل کی طرف سے کئے جانے والے شور کی آواز سنائی نہیں دے رہی کیونکہ وہاں خبروں پر سخت سنسرشپ لگی ہے۔ اگر گوگل چین میں اپنی خدمات روک بھی دے تو وہاں کے انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت متاثر نہیں ہوگی، کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح گوگل چین میں انٹرنیٹ مارکیٹ کی قیادت نہیں کر رہا بلکہ اس منڈی میں مقابلے کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے۔ اس بارے میں اب قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں کہ آیا گوگل چین میں اپنی سرگرمیوں پر سخت احتجاج کے چار سال بعد سروسز روک دینے کا فیصلہ چین میں پائی جانے والی انسانی حقوق کی صورتحال کے تحت کرتا ہے یا اُسے ایسا کرنا ہی تھا کیونکہ چینی مارکیٹ سے اُسے کسی خاطر خواہ منافع کی اُمید نہیں ہے۔


اور اب یہ تازہ خبر


گوگل اکاوٴنٹس ہیک ،چین کی تردید
بیجنگ: چینی حکام نے کہا ہے کہ سرچ انجن گوگل کے ای میل اکاوٴنٹس ہیک کرنے میں چینی حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ چینی خبر ایجنسی سہنوا کے مطابق چینی حکام نے چین میں کام کرنے والی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں حکومتی قوانین کا ہر صورت احترام کرناہوگا۔ میلنگ اکاوٴنٹس کے ہیک ہونے کے بعد گوگل نے چینی میں آپریشنز بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
Aaj News, 2010



تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گوگل نے چین میں اپنی سروس بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔
Attached Images
 
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔

Last edited by نورالدین; 19-03-10 at 04:12 PM. وجہ: تصویر
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-03-10), ابن جلال (19-03-10)
پرانا 19-03-10, 06:45 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,396
کمائي: 261,134
شکریہ: 51,152
7,457 مراسلہ میں 21,713 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خبر تو سُنی تھی مگر کارٹون دیکھ کر مجھے ذیادہ مزا آیا!
shafresha آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (19-03-10)
پرانا 21-03-10, 02:21 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مراسلات: 1,445
کمائي: 26,937
شکریہ: 2,789
962 مراسلہ میں 1,962 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default


Agencies
شاذونادر ہی بزنس کمپنیوں کی خبریں میڈیا میں اتنی زیادہ شہ سرخیوں کی وجہ بنتی ہیں جتنی کہ انٹرنیٹ کمپنی گوگل کی چین میں ممکنہ طور پر اپنی سروسز روک دینے کی خبر بنی ہے۔ بہت کم ہی ایسے اعلانات مغربی بنیادی جمہوری اقدارکواتنا متاثرکرتے ہیں جتنا کہ سرچ انجن گوگل کی جانب سے حال میں سامنے آنے والے اس بیان نے کیا کہ یہ ادارہ چین میں اپنی سرگرمیاں جلد ہی بند کر سکتا ہے۔

گوگل نے یہ دھمکی چین میں پائی جانے والی سنسرشپ کے خلاف، اوراْس کے مطابق چین میں ہیکرز کی جانب سے کئے گئے حملوں، خاص طور سے انسانی حقوق کے کارکنوں کے ای میل اکاؤنٹس کی جاسوسی کے رد عمل میں دی ہے۔ یہ ایک اعلان جنگ ہے، جوانٹرنیٹ سرچ انجن کا کام کرنے والے سب سے بڑے ادارے گوگل کے انصاف کے شعبے کے چیف ڈیوڈ سمن نے ایک تجارتی بلاگ کے ذریعے چینی حکومت کے خلاف کیا ہے، بیجنگ حکومت کی طرف سے پابندیوں اور مختلف سوچ اور رائے رکھنے والے انسانوں کے تعاقب اور انہیں زیر دباؤ لانے کے عمل کے خلاف احتجاج کے طور پر۔ ڈیوڈ سمن اس سارے معاملے کو عالمی سطح پر زیر بحث موضوع یعنی ’چین میں آزادئ رائے‘ کے تناظر میں پیش کر رہے ہیں۔ سرچ مشین گوگل کے لئے آزادئ رائے کا حق اور صارفین میں احساس تحفظ اور ان کے ادارے پر اعتماد ہی ان کے کاروبار کی بنیاد ہے۔ اس امکان کو تسلیم کیا جانا چاہئے کہ گوگل کے اعلیٰ عہدیدار چین میں اپنے ادارے کی خدمات روک دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ جس کے موقف میں کوئی لچک ہو اور جو کسی معاملے میں ڈیل کی گنجائش باقی رکھتا ہے، وہ اتنا شور نہیں کرتا۔ چین میں ہیکرز کے حملوں کی خبر عام ہونے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو بھی اس بحث میں شامل کرنے کا مقصد، امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا چین سے ہیکرز کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں کی ای میلز کو ہدف بنانے کے عمل کی وضاحت کا زور دار آواز میں مطالبہ، یہ سب کیا ظاہر کرتا ہے؟ تاہم چین میں گوگل کی طرف سے کئے جانے والے شور کی آواز سنائی نہیں دے رہی کیونکہ وہاں خبروں پر سخت سنسرشپ لگی ہے۔ اگر گوگل چین میں اپنی خدمات روک بھی دے تو وہاں کے انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت متاثر نہیں ہوگی، کیونکہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح گوگل چین میں انٹرنیٹ مارکیٹ کی قیادت نہیں کر رہا بلکہ اس منڈی میں مقابلے کی دوڑ میں کافی پیچھے ہے۔ اس بارے میں اب قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں کہ آیا گوگل چین میں اپنی سرگرمیوں پر سخت احتجاج کے چار سال بعد سروسز روک دینے کا فیصلہ چین میں پائی جانے والی انسانی حقوق کی صورتحال کے تحت کرتا ہے یا اُسے ایسا کرنا ہی تھا کیونکہ چینی مارکیٹ سے اُسے کسی خاطر خواہ منافع کی اُمید نہیں ہے۔

اور اب یہ تازہ خبر
عامرشہزاد آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عامرشہزاد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-03-10), نورالدین (22-03-10)
جواب

Tags
color, ہے۔, کلنٹن, گوگل, وزیر, وضاحت, چین, میڈیا, مطابق, انٹرنیٹ, انجن, احتجاج, اعلیٰ, جلد, حال, خبر, دنیا, سال, سرچ, سرچ انجن, شور, طور, عالمی, صورتحال, صارفین


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger