05-12-07, 09:30 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
8رکنی کمیٹی چارٹر آف ڈیمانڈ کے بیشترنکات پر متفق،ججوں کی بحالی پا اختلافات
8رکنی کمیٹی چارٹر آف ڈیمانڈ کے بیشترنکات پر متفق،ججوں کی بحالی پا اختلافات
اسلام آباد (جنگ نیوز) اے آر ڈی اور اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں پر مشتمل آٹھ رکنی کمیٹی نے صدر پرویز مشرف کو پیش کرنے کیلئے چارٹر آف ڈیمانڈ کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے اور کمیٹی کے ارکان کے مابین بیشتر نکات پر اتفاق ہوگیا ہے جبکہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں ججز کی بحالی کامطالبہ اے آر ڈی شامل کرنے کیلئے تیار نہیں۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کو آج بدھ کو حتمی شکل دے دی جائے گی جس کے بعد اسے نواز شریف اور بینظیر بھٹو کو پیش کردیا جائیگا۔کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ مطالبات ایسے ہوں جو حکومت ماننے کیلئے تیار ہواور ان کا تعلق براہ راست انتخابات سے ہو۔ آٹھ رکنی کمیٹی کا اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر میاں رضا ربانی کے چیمبر میں ہوا جس میں کمیٹی کے ارکان صفدر عباسی‘ نوید ملک‘ عبدالقدیر خاموش‘ اسحاق ڈار‘ احسن اقبال‘ عبدالرحیم مندوخیل اور پروفیسر خورشید احمد نے شرکت کی۔ اجلاس تین گھنٹے سے زائد جاری رہا اور چارٹر آف ڈیمانڈ کو حتمی شکل دینے کیلئے مختلف تجاویز زیربحث آئیں۔ اے پی ڈی ایم کے ارکان اسحاق ڈار‘ احسن اقبال‘ عبدالرحیم مندوخیل اور پروفیسر خورشید کا موقف تھا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں ججز کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل کیا جائے کیونکہ عدلیہ کی آزادی اور ججز کی بحالی بہت ضروری ہے اور عوام بھی یہی چاہتے ہیں۔ ا ے آر ڈی کے ارکان نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ہمیں چارٹر آف ڈیمانڈ میں ایسے مطالبات شامل کرنے چاہئیں جو حکومت ماننے کیلئے تیار بھی ہو اور ان کا براہ راست تعلق آئندہ عام انتخابات کے شفاف انعقاد سے ہو۔ تاہم اس مسئلے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور کمیٹی کے ارکان آج بھی اس معاملے پر مذاکرات جاری رکھیں گے۔ منگل کو جن امور پر اتفاق کیا گیا ان میں کہا گیا ہے کہ حکومت انتخابات مقررہ وقت یعنی آٹھ جنوری کو ہی کرائے اس میں کوئی ردوبدل نہ کیا جائے۔ صدر پرویز مشرف 16 دسمبر کو ایمرجنسی اور پی سی او ختم کرکے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کریں۔ وفاق اور صوبوں میں نگراں حکومتیں برطرف کرکے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے غیر جانبدار حکومتیں بنائی جائیں تاکہ انتخابات ان کی نگرانی میں ہوں اور سب کیلئے قابل قبول ہوں‘ ضلعی حکومتیں فوری معطل کردی جائیں‘ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد جتنے بھی تقرر و تبادلے ہوئے ہیں انہیں منسوخ کردیا جائے اور آئندہ تبادلوں پر پابندی کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ الیکشن کمیشن میں سندھ اور سرحد کی خالی نشستیں پر کی جائیں‘ گھوسٹ پولنگ اسٹیشن ختم کئے جائیں، چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل مطالبات کو تسلیم کرنے کیلئے حکومت کو پندرہ دسمبر کی ڈیڈ لائن دی جائے۔ اجلاس میں شریک اے آر ڈی کے ایک رہنما نے بتایا کہ ہم آج بدھ کو اپنی تجاویز کو حتمی شکل دے دیں گے جس کے بعد چارٹر آف ڈیمانڈ کا ڈرافٹ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو بھجوادیا جائے گا جو اس میں ردوبدل کرنے کی مجاز اتھارٹی ہوں گے اور اسے فائنل کرکے صدر پرویز مشرف کے حوالے کردیا جائیگا۔
|
|
|