واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


1857 کی جنگ میں سندھ کا کردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-09-07, 09:31 PM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,523
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default 1857 کی جنگ میں سندھ کا کردار

1857 کی جنگ میں سندھ کا کردار

پاکستان اور بھارت آزادی کا ساٹھواں سال منا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی برصغیر میں انگریز سرکار کے خلاف پہلی جنگ آزادی یا غدر کو بھی ڈیڑھ سو سال ہورہے ہیں، بھارت میں تو اس جنگ اور اس کے ہیروز یا سورماؤں کو یاد کرنے کے لیے تقریبات بھی منعقد کی گئیں مگر پاکستان میں کسی کو یہ بات یاد نہیں رہی۔
1857 کی یہ جنگ برصغیر میں انگریز سامراج کے قبضے کے خلاف مسلح کارروائیوں کا آغاز تھی، جس میں سندھ نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور لوگوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے مگر اس بارے میں کم ہی لوگوں جانتے ہیں۔

جنوری سن 1857 کے اوائل میں مختلف چھاؤنیوں میں مسلح جھگڑوں کے اکا دکا واقعات ہونا شروع ہوئِے جنہوں نے مئی میں ایک بھرپور شکل اختیار کرلی جو انیس سو سینتالیس میں برصغیر میں انگریز حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔

1843 میں نیپیئر کی سربراہی میں سندھ بھی مفتوح ہوچکا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ پہلی جنگ آزادی میں سندھ نے حصہ لیا تھا۔

مورخ بھی کراچی سے جیکب آباد تک مختلف شہروں میں سابق حکمران تالپور خاندان کے افراد اور مقامی سرداروں کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہیں۔

سندھ مغل سلطنت کے مرکز سے باہر کی ریاست تھی۔ تاریخ دان پروفیسر لائق زرداری کے مطابق تخت چھن جانے کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے تالپور حکمران میر شیر محمد تالپور کو ایک خط لکھ کر بغاوت میں مدد فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ میر شیر محمد نے اپنے سپاہیوں کو اسلحہ اور رقوم دے کر بادشاہ کی خدمت میں روانہ بھی کیاتھا۔ تاہم تالپور خاندان ہی کے ایک فرد کی انگریزوں کو مخبری کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔

ان دنوں سندھ میں بمبئی نیوانفٹری کی چار رجمنٹوں کے علاوہ سیکنڈ یورپین انفٹری، ہارس آرٹلری کی چوتھی بٹالین کی دو کمپنیاں اور دیگر فوج تعینات تھی۔

سندھ میں جنگ آزادی کی ابتدا ستمبر ااٹھارہ سو ستاون میں کراچی کی بندرگاہ پرایشیا نامی جہاز کے لنگر انداز ہونے سے ہوئی۔ اس جہاز پر حملہ کیا گیا مگر اس بغاوت کو جلد ہی کچل دیا گیا تھا۔

جہاز کے کپتان نے اپنی اور جہاز کی حفاظت اور بے چینی کو روکنے کے لیے باغی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جس پر احتجاجا باقی عملے نے کام کرنے سے انکار کردیا۔

مقامی سپاہیوں نے اس واقعے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا اور پورے سندھ میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔ اس بے چینی کے اہم مراکز کراچی، حیدرآباد، شکارپور، جیکب آباد، سکھر اور میرپورخاص تھے۔

سندھ کی تاریخ پر ڈاکٹریٹ کرنے والے پروفیسر لائق زرداری کے مطابق ایک برطانوی اہلکار نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ چودہ ستمبر اٹھارہ سو ستاون کی رات کو گیارہ بجے دو ہندوستانی افسران نے کراچی کے کمانڈنگ آفیسر کو مطلع کیا کہ اکیسویں رجمنٹ کے سپاہی مشورہ کر رہے ہیں اور آدھی رات کو بمبئی نیٹیو انفنٹری بغاوت کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمانڈر نے فوری طور پر شہری انتظامیہ کو مطلع کیا۔

انگریز خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ جب کہ سیکنڈ یورپین انفنٹری نے اکیسویں رجمنٹ کے رہائشی علاقے کا محاصرہ کر کے سپاہیوں کو پیش ہونے کاحکم دیا۔ سپاہیوں کو غیر مسلح کرنے کے بعد چھپائے گئے اسلحہ کی کھوج لگائی گئی۔

جب کہ بمبئی انفنٹری کے تیس سپاہی جن کو باغیوں نے جنرل کمانڈنگ آفیسر، کمشنر اور دیگر اہلکاروں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا وہ پہاڑیوں کی طرف فرار ہو گئے جنہیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کورٹ مارشل کر کے تین کو توپ سے اڑا دیا گیا اور باقی گیارہ کو پھانسی اور کچھ کو جلاوطن کردیا گیا۔

کراچی کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے آرکیٹیٹ عارف حسن کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کا سرغنہ بریلی سے تعلق رکھنے والا صوبیدار رامے پانڈے تھا جس کے ساتھ تین ’باغیوں‘ کو توپ دم کیا گیا یعنی توپ کے دہانے سے باندھ کر اڑایا گیا تھا۔

کراچی سے اس وقت سندھی میں شایع ہونے والے اخبار القاصدنےاٹھارہ ستمبر اٹھارہ سو ستاون کی اشاعت میں واقع کا ذکر کچھ اس طرح سے کرتا ہے’ّّ دس کی تعداد میں قیدیوں کو لکڑی کے بنے ہوئے ایک چبوترے پر یورپی پہریداروں کی نگرانی میں ان کی کور کے سامنے لایا گیا۔ بریگیڈ کے میجر بلیک نے زوردار آواز میں الزامات اور فیصلہ پڑھ کر سنایا جس کی میجر گولڈ سمتھ نے وضاحت کی۔ سات افراد کو سزائے موت سنائی گئی اور تین کو توپ سے اڑا دیا گیا‘۔

ان سزائے موت پر عمل کی چشم دید تفصیلات کچھ یوں دی ہیں سات قیدیوں کو فوری طور پر سیڑھیوں کے ذریعے تختے پر پہنچایا گیا ’ ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، ان کی آنکھوں پر پٹی باندھے بغیر ان کی گردنوں میں رسی کس دی گئی اور مقامی جلادوں کو اشارہ کیا گیا کہ وہ ان کے پیروں تلے تختہ کھینچ لیں‘ بعد ازاں اپنے ساتھیوں کا انجام دیکھنے والے تین قیدیوں کو کھلے میدان میں کھڑا کیا گیا جہاں یورپی اور دیسی سپاہیوں نے پوزیشن اختیار کی ہوئی تھی۔

تین توپیں تیار کی گئیں پشت کی سمت بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ باغیوں کو ان کے سامنے کھڑا کیا گیا۔ میجر بلیک نے ہاتھ لہرا کر اشارہ دیا۔ توپچیوں نے توپیں چلا دیں اور ان کے اعضا اڑ کر دور دور تک جاگرے، جنہیں فوری طور پر خاکروبوں نے جمع کیا اور ایک ریڑھے میں ڈال کر لے گئے۔

’ اس کے بعد پھانسی پانے والوں کی رسیاں کاٹ دی گئیں اور انہیں بھی اسی طرح لے جایا گیا‘۔

عارف حسن کا کہنا تھا کہ کراچی کا مشہور تاجر ناؤ مل ہوتچند انگریزوں کا جاسوس تھاجس نے اس بغاوت کی مخبری کی تھی، سندھ کے بعض دیگر محقیق بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔

ان واقعات کو اس سال اٹھارہ ستمبر میں ڈیڑہ سو سال ہو رہے ہیں لیکن کراچی کے لوگ اپنے ان سورماؤں سے انجان ہیں۔ عارف حسن کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے نام سے یہاں ضرور کوئی یاددگار یا سڑک ہونی چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں ان سے باخبر رہیں۔

پروفیسر لائق زرداری کا کہنا ہے کہ تمام ریکارڈ اور شواہد انگریز اپنے ساتھ لے گئے، اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ میں ان کے سورما کون تھے۔

یہ تو ظاہر ہے کہ پاکستان تو کیا سندھ کے نصاب کی کتابوں میں بھی جنگ میں شریک لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے حالانکہ انیس سو ستاون کی جنگ کے تین اہم شہروں میں سے کراچی بھی ایک تھا۔

برطانوی فوج میں شامل ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف اس بنا پر بغاوت کی تھی کہ ان کی بندوقوں کی گولیوں پر گائے اور سؤر
کی چربی چڑھی ہوئی تھی جسے چھونا ان کے مذہب میں منع تھا۔

اس جنگ کی ابتدا میرٹھ سے ہوئی تھی جو پورے ہندوستان میں پھل گئی، منگل پانڈے بھی اس جنگ کا ایک سورما ہے۔

بی بی سی
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
چاچا کمال کا شکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی (14-09-07)
پرانا 14-09-07, 10:03 PM   #2
ناظم اعلی
 
پاکستانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 24
مراسلات: 4,506
کمائي: 53,785
شکریہ: 8,634
2,598 مراسلہ میں 6,419 بارشکریہ ادا کیا گیا
پاکستانی کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں پاکستانی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب۔اچھی اور لاجواب شئیرنگ کی آپ نے شکریہمزید کا انتظار رہے گا
پاکستانی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کتابوں, کراچی, پاکستان, واقعات, مکمل, موت, منتقل, منصوبہ, انتظامیہ, بچوں, جلد, حسن, خواتین, خلاف, درخواست, رات, زرداری, سال, غم


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger