واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


:::‌نظام کی تبدیلی اور ڈاکٹر عشرت العباد کا عزم,,,,گورنرشپ کے 5سال مکمل :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-01-08, 11:34 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
کمائي: 1,824
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 243 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default :::‌نظام کی تبدیلی اور ڈاکٹر عشرت العباد کا عزم,,,,گورنرشپ کے 5سال مکمل :::

:::‌نظام کی تبدیلی اور ڈاکٹر عشرت العباد کا عزم,,,,گورنرشپ کے 5سال مکمل :::

صوبہ سندھ اس لحاظ سے ستاروں کی گردش میں رہا کہ یہاں محرومیوں نے اسے گھیرے میں رکھا۔ کچھ ماضی کی وفاقی حکومتوں کی کوتاہیاں بھی شامل حال رہیں جنہوں نے اسے توانا نہیں ہونے دیا اور نہ ہی مقامی وڈیروں نے جو غیر حقیقی جمہوریت اور کنٹرولڈ جمہوریت کا ساتھ دے کر سماجی شعبوں میں بالخصوص صحت اور تعلیم میں قابل ذکر کام کرنے سے گریزاں رہے نہ ہی فوجی حکومتوں نے اس صوبے کو اس قابل سمجھا کہ اسے 21 ویں صدی میں لانے کے اقدامات کئے جاتے اس طرح صوبہ سندھ محرومیوں کی آماجگاہ بن گیا یہی حالت کراچی کی تھی ایک بیگانگی کا عنصر نمایاں تھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس شہر کا کوئی وارث نہیں صوبہ سندھ کی حالت یہ تھی کہ بجٹوں میں جو رقم ترقیاتی پروگراموں کے لئے مختص کی جاتی تھی اس کا 40 فیصد بھی عمل میں نہیں لایا جاتا تھا۔ حالانکہ 60 سالہ پاکستان کی تاریخ میں سبھی وڈیرے متحدہ قومی موومنٹ کی تحریک کے اجاگر ہونے سے پہلے اور بعد میں وزراء اور وزرائے اعظم بھی رہے ہیں لیکن سندھی غریب کا ماتھا مٹی پر ہی تھا ان کی بے کسی کا جال نہیں ٹوٹا آنکھوں سے غم کی چھال ابھی تک غریبوں نے نہیں نوچی حالانکہ صوبہ سندھ کہہ رہا ہے آجاؤ میں نے دھول سے ماتھا اٹھا لیا نئی نسل نئے آدرشوں کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہے حال ہی میں آئی بی اے سکھر کے ڈائریکٹر سے بات ہو رہی تھی انہوں نے بتایا کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد چونکہ سندھ کی تمام یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں اور ان کو ذاتی طور پر تعلیم کے فروغ میں دلچسپی ہے اس لئے انہوں نے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے آئی بی اے سکھر کو جدید ترین یونیورسٹیوں میں لاکھڑا کیا ہے۔ شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور کی توسیع کے بارے میں ڈاکٹر نیلو فر شیخ نے تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کی تعریف کی ہے ہمارے گورنر اور چانسلر ڈاکٹر عشرت العباد نے ایک خاتون کو صوبہ سندھ میں وائس چانسلر مقرر کر کے تاریخی کام سرانجام دیا ہے انہوں نے یونیورسٹی کے شعبہ جات میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں بتایا کہ اس وقت یونیورسٹی میں سائنس کے گیارہ اور آرٹس کے دس شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔کراچی آرٹ کونسل کے بارے میں پڑھ کر سب کو حیرت ہو گی کہ شہر میں واحد ثقافتی مرکز کو سال بھر میں دس ہزار روپے کی گرانٹ دی جاتی تھی جو ثقافت کے ساتھ ایک ظالمانہ مذاق کے مصداق تھا گورنر عشرت العباد خان کو جب یہ علم ہوا کہ ثقافتی مرکز کسمپرسی کی حالت میں ہے تو انہوں نے گرانٹ میں اضافہ کر کے اسے 50 لاکھ روپے کر دیا اس بارے میں آرٹس کونسل کے نائب صدر مسعود ہاشمی کا کہنا ہے کہ ”میں ڈاکٹر عشرت العباد خان کو دل کی گہرائیوں سے تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے ذاتی ایجنڈے کو ایک طرف رکھ کر ثقافتی اقدار کے فروغ کو مدنظر رکھ کر 50 لاکھ روپے مختص کر دیئے جو پہلے صرف دس ہزار روپے تھے۔“ اسی طرح ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کراچی پریس کلب کو 50 لاکھ روپے کے عطئے کی منظوری دی یہ بھی ایک تاریخ ساز اقدام ہے۔ ان ابتدائی کارہائے نمایاں کو قارئین کی نذر کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ جہاں پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے ایسے حالات کی سنگینی میں کسی گورنر نے اس سے پہلے براہ راست صوبے کی سماجی ثقافتی اور معاشی پہلوؤں کو پیش نظر نہیں رکھا ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے ”ہم مستقبل میں سندھ کو ایسے صوبے کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک مکمل ترقی یافتہ مہذب سوسائٹی پر مشتمل ہو اور یہ سوسائٹی ثقافتی طور پر دھنک رنگی، ذہنی طور پر پختگی، رویئے میں برداشت، فکری طور پر روشن خیال اور جدیت کی علامت ہو عملیت پسندی اس کا نظریہ فروغ پائے مزید براں بہتر سماجی واقتصادی اشاریوں، مکمل خواندگی، اعلیٰ تعلیمیافتہ ہنرمندوں، مکمل روزگار، کم سے کم غربت کے لئے کوشاں ہو اور آبادی کے مفلوک الحال طبقے کی ضروریات کا خیال رکھنے والے سماجی تحفظ کے ایک معقول نظام کا حامل ہو۔“ یہ پیغام کسی بھی پارٹی کے منشور سے بھاری محسوس ہوتا ہے کیونکہ چند سطروں میں دریا کو مٹھی میں بند کر دیا گیا ہے دراصل یہ ان افکار کی عکاسی ہے جن کا قائد تحریک گاہے بگاہے اپنی تقاریر میں ذکر کرتے رہتے ہیں اس میں ان کی فکری نشستوں کے اثرات بھی نمایاں ہیں جس کا اہتمام قائد تحریک طالبعلمی کے زمانے سے کرتے آئے ہیں۔ پھر 5 سالہ دور پر نظر ڈالئے ہائر ایجوکیشن کے فروغ کے سلسلے میں ڈاؤ میڈیکل کالج اور لیاقت میڈیکل کالج جامشورو کو یونیورسٹیوں کا درجہ دینا، پہلے سے قائم یونیورسٹیوں کی گرانٹ میں اضافہ کرنا ان کے پانچ سالہ دور کا اہم ترین سنگ میل ہے مزید برآں علمی وتحقیقی شعبوں کا قیام، سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں صحت کی سہولتوں کی بہتری، ہاؤسنگ انڈسٹری اور اس سے منسلک انڈسٹریز کی بحالی کے سلسلے میں مختلف رہائشی اسکیموں کی تکمیل 3 سے 5 سال سے بند پڑے ہوئے نوری آباد کے صنعتی علاقے کی بحالی، کراچی میں 178 سے زائد صنعتوں کو گیس کی سہولتیں فراہم کرنا بھی ان کا خاصا رہا ہے یہ بھی مشاہدہ کیجئے کہ ان کے عہد گورنری میں گورکھ ہل اسٹیشن اور شاہ بیلو کے علاقوں کو سیاحت کے قابل بنایا کراچی کے علاقے کلفٹن میں تجاوزات میں گھرے ہوئے باغ ابن قاسم، کوٹھاری پریڈ سے تجاوزات کا خاتمہ کر کے ان کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا قومی کھلاڑیوں، سینئر صحافیوں، مشاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور ان کے اہلخانہ کی فلاح وبہبود کے لئے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ہیروز کے لئے ”لیجنڈ فنڈز“ کا اجراء کیا ان تمام کارہائے نمایاں جس کا صرف اجمالی جائزہ لیا گیا ہے ڈاکٹر عشرت العباد گورنر سندھ کہتے ہیں۔ ”میری زندگی کی چند آرزوئیں جو پوری ہوئی ہیں ان میں عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی تجدید وتعمیر، تیسر ٹاؤن اسکیم، بیچ پارک، باغ ابن قاسم اور ٹیلی میڈیسن کا تعارف نہ صرف قابل ذکر ہے بلکہ یہ میری عمر بھر کی تسکین کا ذریعہ ہیں ایک دائمی مسرت ہے جو میرے دل میں موجزن رہتی ہے اس کے لئے میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں۔“ 19 اگست 2003 میں گورنر سندھ نے لانڈھی ٹاؤن میں خورشید بیگم انٹرمیڈیٹ کالج برائے طلبہ کا سنگ بنیاد رکھ کر افتادگان خاک کو خراج عقیدت پیش کیا پھر 7 اکتوبر 2004 کو گورنر ہاؤس کے سبزہ زار پر منعقدہ تقریب میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے لائنز ایریا، لانڈھی، لیاقت آباد، ملیر، اورنگی، قصبہ کالونی، علیگڑھ کالونی، شاہ فیصل کالونی اور دیگر ”نوگو“ ایریاز کے متاثرین میں سات کروڑ روپے کی امدادی رقم تقسیم کی اس تقریب میں پارٹی کے دیگر اکابرین جن میں شعیب بخاری، عبدالرؤف صدیقی، مشی فیصل گبول، فاروق ستار، حمید ظفر، اقبال علی اور امین معین نے بھی شرکت کی اور چیک تقسیم ئے۔ماضی میں گورنر ہاؤس ویرانیوں کا ایک نمونہ تھا کسی ”بڑی“ شخصیت کے آنے پر ہی گہما گہمی نظر آتی تھی اب بڑی شخصیات کے علاوہ پھٹے پرانے کپڑے اوڑھے غریب لوگ بھی بکثرت نظر آتے ہیں پہلے گورنر ہاؤس کا اسٹاف بھی چند گھنٹے کام کرتا تھا اب چوبیس گھنٹے کام کرتا نظر آتا ہے اور اس کا فیڈ بیک گورنر ہر روز لیتے ہیں گورنر ہاؤس میں زبردست ٹیم ورک نظر آتا ہے جس میں کمٹمنٹ کا عنصر بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔کراچی شہر میں ڈاؤ میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینا خود ڈاکٹر عشرت العباد نے اپنے خوابوں کو تعبیر دی ہے جن شعبوں میں شدید کمی تھی ان میں نرسنگ اسٹاف اور ان کی تربیت کا انتظام، میڈیکل ٹیکنالوجی اور ڈینٹل سرجری قابل ذکر ہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مدد سے چار نرسنگ انسٹیٹیوٹ کا اعلان ہو گیا ہے اور ان پر کام بھی آخری مراحل میں ہے مزید برآں انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی عمارت زیرتعمیر ہے یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہو جائے گا اس کالج کے لئے 175,000 مربع فٹ پر اوجھا کیمپس میں شاندار عمارت بنائی جا رہی ہے۔ ہو سکتا ہے مکمل ہونے کے بعد یہ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیکل کالج بن جائے یہ وہ کارہائے نمایاں ہیں جس کا ذکر کرتے ہوئے ہر ایک کو مسرت ہو گی۔ حیرت انگیز بات یہ رہی کہ جب سندھ کے گورنر کے طور پر جواں سال ڈاکٹر عشرت العباد خان کا نام آیا تو بہت سے سفارتی حلقے بھی حیران ہوئے حالانکہ وہ انہیں اچھی طرح جانتے تھے اپوزیشن کی جانب سے دشنام طرازی بھی ہوئی لیکن پانچ برسوں میں دشنام طرازی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی سفارتی سطح پر دنیا کے تمام ممالک بالخصوص مسلمان ممالک کے سفارت کار اور متعدد وفد گورنر ہاؤس میں جلوہ افروز ہوتے رہے سفارتی حلقے بھی ان کے معترف ہیں۔ کراچی شہر کے کاروباری اور صنعتی حلقے بھی گورنر سندھ سے ملنے میں بڑی آسانی اور فرحت محسوس کرتے ہیں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دیہی اور شہری پولورائزیشن میں معقول حد تک کمی کی ہے لیکن اس بوڑھے نظام کو بدلنے کا کام رہ گیا ہے جب تک یہ نظام بدل نہیں جانا 21 ویں صدی کے تقاضے پورے نہیں ہونگے تخلیقی معاشرے اور عالمی سرمائے کی یلغار غیرتخلیقی معاشروں اور سائنس سے دور ملکوں کو روند ڈالیں گے اور یہی آخری منزل ہے سیاست، اور خداوند کریم سے ملنے والے بڑے عہدوں کی کہ وہ تلخی ایام میں شرینی فردا بھر دیں امید ہے کہ ڈاکٹر عشرت العباد کا عزم اس منزل کو پانے کے راستے پر کہیں بھی مصالحت آمیزی نہیں کرے گا۔
ابو کاشان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کراچی, پاکستان, لوگ, مکمل, منشور, منصوبہ, آبادی, اعلیٰ, تعلیم, تعارف, حال, خان, خصوصی, زندگی, سال, سائنس, شہر, شاندار, عہد, غم, صحت, صدی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پٹواری کے غیرقانونی اثاثے۔ 5سال قید۔ 80لاکھ جرمانہ جاویداسد خبریں 1 08-07-10 01:42 PM
امریکی ڈاؤ جونز انڈیکس 5سال میں پہلی بار9ہزار کی سطح سے بھی نیچے زین۔zf خبریں 0 10-10-08 01:42 PM
ججز بحالی کا نیا فارمولا چیف جسٹس کی میعاد 5سال ہوگی محمدعدنان خبریں 1 03-05-08 05:42 PM
صدر پرویز 5سال کیلئے منتخب ہوچکے،عہدہ نہیں چھوڑینگے،صدارتی ترجمان عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 03:33 AM
5سالوں کے دوران بے روزگاری میں نمایاں کمی آئی ہے، صدر مشرف ابو کاشان خبریں 0 14-01-08 10:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 02:54 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger