| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
| رائے شماری کا نتیجہ دیکھیں: کیا یوسف کو کپتان بنانے کا فیصلہ درست ہے؟ | |||
| ہاں |
|
0 | 0% |
| نہیں |
|
3 | 75.00% |
| معلوم نہیں |
|
1 | 25.00% |
| ووٹ دینے والے: 4. آپ شائد اس میں ووٹ نہیں ڈال سکتے | |||
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان یونس خان کی جانب سے اس عہدے سے دستبرداری کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے مڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف کو نیا کپتان مقرر کیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد یونس خان نے دبئی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے ملاقات کی اور نیوزی لینڈ کے دورے پر جانے سے معذرت کر لی۔ ان کے اس فیصلے کے بعد محمد یوسف کو قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ وکٹ کیپر کامران اکمل ٹیم کے نئے نائب کپتان ہوں گے۔ محمد یوسف اس سے قبل بھی ٹیم کے کپتان رہ چکے ہیں۔ یہ بات ابھی واضح نہیں کہ یونس خان آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں کپتان کی حیثیت سے واپس آئیں گے یا ان کی واپسی عام کھلاڑی کے طور پر ہوگی۔ یونس خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی جیتا تھا لیکن چیمپئنز ٹرافی میں شکست کے بعد ٹیم کے متعدد کھلاڑیوں نے ان سے اختلافات کے بعد شاہد آفریدی کے توسط سے پاکستان کرکٹ بورڈ کےچیئرمین اعجاز بٹ سے شکایت کی تھی تاہم اعجاز بٹ نے یونس خان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کا اعلان کردیا تھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دوران ٹیم میں تبدیلیوں اور خود ان کی خراب بلے بازی پر یونس خان کو سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی زبردست تنقید کا سامنا رہا اور اب کرکٹ کےحلقے یونس خان کی کپتانی سے دستبرداری کو پلیئرز پاورکی جیت قرار دے رہے ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــ بی بی سی۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
یا تو یونس خان کو ہی کپتان رہنے دیا جاتا یا پھر کسی اور ایکٹو کھلاڑی کو کپتانی کے فرائض سونپے جاتے۔ جس کے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ اچھیCoordinationہو
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعمر کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (11-11-09), اخترحسین (12-11-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,762
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
یونس کو کپتانی سے ہٹانا ٹھیک فیصلہ ہے لیکن محمد یوسف پہلے بھی کپتان رہ چکے ہیں اور زیادہ کامیاب نہیں رہے، کسی اور کپتانی دی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا، آفریدی کو بھی آزمایا جاسکتا تھا۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (12-11-09), اخترحسین (12-11-09) |
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
میرے خیال سے تو یونس ہی کپتان ٹھیک ہے، یوسف بھائی کو پہلے بھی کپتانی دی گئی لیکن وہ اسے ٹھیک طریقے سے نہیں چلاپائے۔ اگر ٹیم میںتجربات کم کر دیے جائیں اور ایک بندے کو 1، 2 سال کے لیے کپتان مخصوص کر دیا جائے تو بقیہ کھلاڑی بھی اپنا دھیان کھیل کی طرف دیں۔ سری لنکن ٹیم جب کمزور ٹیموں میں سے ایک تھی تو رانا ٹنگا اس ٹیم کا کپتان تھا، اس کی کپتانی کا یہ دور عرصہ دس سال سے بھی زیادہ رہا، لیکن بالاخر اس نے اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ کا فاتح بنا کر دم لیا۔ میرے خیال سے کپتان کو بھرپور موقع دینا چاہیے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (12-11-09), اخترحسین (12-11-09) |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یونس خان وہ واحد کپتان ہے جس نے تمام کھیلاڑیوں کو متحد کیا تھا۔ لیکن کچھ کھیلاڑی مسلسلہ یونس خان کے خلاف سیاست کر رہے ہیں جن میں ملک اور آفریدی بھی شامل ہیں۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (12-11-09), اخترحسین (12-11-09) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
یونس اچھا تھا اور اچھا ہی رہے گا ہی از فائیٹر
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے تو حالیہ شکستوں سے یہی لگ رہا ہے کہ ٹیم میں وہی کیڑے پھر سے کلبلا رہے ہیں جو ماضی میں ہوتے تھے۔ یعنی کپتان پسند نہیں آ رہا۔ ٹیم کی حالت بھی بعینہ قوم کی ہے۔ جس طرح قوم بھی چند ماہ میں ایک حکمران سے تھک جاتی ہے تو ٹیم بھی، میرے خیال میں تو یونس خان کو ہی کپتان رہنا چاہیے تھا ۔ ۔ ۔ جبکہ کیڑوں کو نکال باہر کرنا چاہیے ۔
|
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (13-11-09) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کھلاڑی جیت گئے،کرکٹ بورڈ ہار گیا،یونس خان کا بعض حقائق کے بارے میں لب کشائی سے گریز
کراچی(عبدالماجد بھٹی،اسٹاف رپورٹر)یونس خان کی کپتان کی حیثیت سے رخصتی کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ میں ایک بار پھرپلیئرز جیت گئے اور بورڈ ہار گیا،نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست اور کپتانی چھوڑنے کے بعد صاف گو یونس خان بعض حقائق کے بارے میں لب کشائی سے گریز کررہے ہیں لیکن شائقین کرکٹ نے جو کچھ دیکھا وہ سب کے سامنے ہے۔وہ جانتے ہیں کہ حقائق کیا اور کس نے ٹیم کو جیتا ہوئے میچ میں ہار کردیا۔نمائندہ جنگ کو جمعرات کو دبئی سے خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے یونس خان نے انکشاف کیا ہے کہ چیئرمین اعجاز بٹ نے مجھ سے استعفیٰ نہیں مانگا میں نے خود کپتانی چھوڑی ہے اعجاز بٹ چاہتے تھے کہ میں کپتان رہوں لیکن میں نے ان سے معذرت کرلی ، چیئرمین نے مجھے جس انداز میں اعتماد دیا اس پر میں ان کا شکر گذار ہوں۔اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ میں مستقبل میں قیادت کروں گا یا نہیں۔البتہ اس بات کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں کہ کپتان کی ذمے داری دوبارہ قبول کروں۔فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ٹیم پرمکمل کمانڈ حاصل نہیں تھی۔اگر کسی کو ٹیم پر کمانڈ حاصل نہیں ہے تو اسے کپتانی کرنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیئے۔ اس لیے میں نے بہتر سمجھا کہ میں آرام کروں اور بھر پور فارم کے ساتھ ٹیم میں واپس آوں۔کرکٹ سے میری روزی وابستہ ہے۔اور کوئی کام نہیں کرسکتا اس لیے کرکٹ کھیل کر پیسے کمانا چاہتا ہوں۔البتہ انہوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا کہ کیا نیوزی لینڈکے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست کی وجہ سنیئر کھلاڑیوں کی از خود خراب کارکردگی تھی۔اگر میں نے رنز نہیں کیے تو باقی بیٹسمین کیا کررہے تھے۔چند دن قبل میرااحتساب کیا گیااگر کسی اور نے جوڑ توڑ کی ہے تو اسے بھی منظر عام پر لایا جائے۔میں پبلک ریلشینگ کاعادی نہیں ہوں ،ہر ایک سے گھل مل نہیں سکتا میرا پورا کیئریئر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں نے تمام کرکٹ میرٹ پر کھیلی ہے۔یونس خان کو 32دن قبل اعجاز بٹ نے2011کے ورلڈ کپ کے لیے قیادت سونپی تھی۔لیکن ان کے اچانک فیصلے نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے63ٹیسٹ میں50.09 کی اوسط سے5260اور197ون ڈے انٹرنیشنل میں33.12کی اوسط سے5698رنز بنانے والے یونس خان دبئی سے ٹیلی فون پر انٹر ویو دیتے ہوئے بے حد محتاط تھے اور وہ باربار یہ جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ میں جوکہہ رہا ہوں وہی موقف اخبار میں آنا چاہیئے۔یونس خان نے کہا کہ میری بیٹنگ فارم ٹھیک نہیں تھی۔ایسے میں جب کہ مجھ سے خود اسکور نہ ہورہا ہو۔میں کسی کھلاڑی کو کس طرح سمجھا سکتا ہوں یا اس سے باز پرس کرسکتا تھا۔اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ٹیم پر بوجھ نہ بنوں اور کپتانی چھوڑکر آرام کروں۔جب فارم واپس آجائے گی تو میں ٹیم کو جوائن کرلوں گا۔چیئرمین اعجاز بٹ سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے چیئرمین اعجاز بٹ کی جانب سے بھرپور حمایت ملی۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں قیادت چھوڑوں۔انہوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کیوں استعفیٰ دے رہے ہو۔میں نے کہا کہ مجھے آرام کی ضرورت ہے۔قائد اعظم ٹرافی کھیل کر فارم بحال کرنا چاہتا ہوں۔چوں کہ فارم میں نہیں ہوں اس لیے میری ٹیم پرمکمل کمانڈ نہ تھی۔اس لیے میں چاہتا تھا کہ بوجھ بننے کے بجائے ٹرافی کھیل کر فارم حاصل کروں۔اگر کپتان کو اپنی ٹیم پر کمانڈ حاصل نہیں ہے تو اسے کپتانی کرنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیئے۔اگر کپتان خود صفر پر آوٹ ہورہا ہے تو وہ کسی کھلاڑی کو کس طرح مشورہ دے سکتا ہے۔تین چار ماہ سے میں کرکٹ کی وجہ سے مشکل میں رہا اس لیے میں چاہتا ہوں کہ کچھ عرصہ باہر رہ کر اپنے معاملات درست کروں اور فارم کے ساتھ پاکستان کے لیے کھیلوں۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید تھی کہ بٹ صاحب مجھ سے کہیں گے کہ یونس ٹیم اچھا نہیں کھیل رہی اور تمہاری فارم بھی نہیں ہے اس لیے تم کپتانی سے مستعفی ہوجاؤ۔لیکن ان کا جس قدر شکریہ ادا کروں کم ہے کہ انہوں نے مجھے مکمل سپورٹ کیا۔انہوں نے کہا کہ کل کچھ لوگ مجھ سے استعفیٰ مانگتے۔اس لیے میں اپنی کارکردگی کا تجزیہ خودکرتا ہوں اور خوداحتسابی پر یقین رکھتا ہوں۔اس بار بھی کپتانی چھوڑنے میں پہل کرکے میں نے کوشش کی ہے کہ میرا پلہ بھاری رہے۔واضع رہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے بعد قومی ٹیم کے سات کھلاڑیوں نے جس میں تین ایسے کھلاڑی بھی تھے جن کا ڈبییو یونس خان کی کپتانی میں ہوا،نے اعجاز بٹ سے رابطہ کرکے یونس خان کے رویّے کی ان سے شکایت کی تھی۔یونس خان نے کہا کہ پاکستان ٹیم میں واپس آنے کے لیے مجھے رنز کرنا ہوں گے۔میں نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ مستقبل میں قومی ٹیم کی قیادت کروں گا یا نہیں لیکن حالات مشکل دکھائی دے رہے ہیں۔تمام باتوں کا جواب حالات اور وقت دیکھ کر کروں گا۔اگلے دو تین دن میں پاکستان آرہا ہوں اور اپنے ادارے حبیب بینک سے قائد اعظم ٹرافی کھیلوں گا۔ایک سنچری سے بھی میرے اعتماد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔فارم میں واپسی کے بعد بورڈ کو اپنی دستیابی دوں گا۔کرکٹ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے۔کیوں کہ مجھے کرکٹ کے علاوہ کچھ اور نہیں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گرے ہوئے کو اور گرانے کی روایت ہے لیکن میں اعجاز بٹ کا بے حد شکر گذار ہوں کہ انہوں نے مجھے اعتماد اور حوصلہ دیا۔جہاں تک نیوزی لینڈ کے خلاف ہار کی بات ہے آخری ون ڈے میں محمد عامر اور سعید اجمل زندگی کی بہترین بیٹنگ کرکے ہمیں شکست سے نکال کر جیت کے قریب لے گئے۔ہم ہارے ضرور لیکن مقابلہ کرکے۔دونوں کی جس قدرتعریف کی جائے وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے مجھ سے ملک کی خدمت لینا ہے تو میں دوبارہ گروانڈ میں دکھائی دوں گا۔پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ جارہی ہے،اگر ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی تو اس کی تعریف کروں گا۔میرا جیو نیوز سے معاہدہ ہے اگر ٹیم خراب کھیلی تو باہر بیٹھ کر اس کی کارکردگی پر کھل کر اظہارکروں گا۔یونس خان نے کہا کہ میرا کھلاڑیوں کے ساتھ اوڑھنا بجھونا ہے۔اب بھی ان سے مل رہا ہوں۔ان کے ساتھ آج بھی کھانا کھایا ہے۔دوستیاں کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔یونس خان نے کہا کہ میں کسی پر براہ راست الزام تراشی نہیں کروں گا اگر کسی نے ملک کے مفاد کے برعکس کیا تو اس کا نقصان یونس خان کو نہیں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ہو سکتا ہے۔یہ وقت میرے لئے آزمائش کا ہے لیکن یہ صورتحال میرے لئے نئی نہیں ہے۔انشاء اللہ اس باہر آوں گا۔بیٹسمین کے کیئریئر پر اچھے برے وقت آتے رہتے ہیں لیکن بلاوجہ مخصوص لابی کی تنقید درست نہیں ہے۔انضمام الحق اور شعیب ملک بھی کپتانی میں اس صورتحال سے دوچار ہوئے تھے۔سابق منیجر یاور سعید کی یونس خان کے بارے چیمپنز ٹرافی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے حوالے سے بھی وہ خاموش ہیں۔اور کہتے ہیں کہ وہ میرے بزرگ ہیں میں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (14-11-09) |
|
|
#10 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,559
شکریہ: 50,033
10,123 مراسلہ میں 32,020 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
------------------------------------------
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 3,666
کمائي: 80,762
شکریہ: 918
2,435 مراسلہ میں 6,912 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
اس بیچاری قوم کا بنیادی مسئلہ ہی یہ ہے کہ کپتان ٹھیک نہیں ملے تو قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان کس کس کھلاڑی کو پسند آئے گا وہ لوگ زیادہ نہیں ہوں گے۔ ہمیں قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی اچھا کپتان نہ ملا اسی طرح کرکٹ ٹیم کو عمران، وسیم (یا شاید کوئی اور کپتان کھلاڑیوں کو پسند آیا ہو) کے علاوہ کپتان پسند نہیں آتا۔ اللہ تعالٰی ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ امین۔ |
|
|
|
| گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (18-11-09) |
![]() |
| Tags |
| پاکستان, پاکستانی, پسند, قائداعظم, لیاقت علی خان, لوگ, موقع, مقابلہ, معذرت, آج, اللہ, الزام, بہترین, بھائی, جواب, خلاف, خان, دبئی, سیاست, سال, عرصہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| آسٹریلیا میں ناقص کارکردگی، محمد یوسف و یونس خان پر تا حیات پابندی | محمدعمر | خبریں | 9 | 11-03-10 07:18 AM |
| یوسف رضا گیلانی کا دورہ بیجنگ ، پاکستان اور چائینہ کے درمیان سول نیوکلیئرمعاہد ہ کا امکان | ابن جلال | خبریں | 0 | 20-10-08 08:10 PM |
| لکشمن کی جگہ ایڈم گلکرسٹ دکن چارجرزکے کپتان مقرر | champion_pakistani | کرکٹ | 1 | 02-10-08 09:49 AM |
| یوسف کیس:’دیر پاکستانی بورڈ سے | محمدعدنان | کرکٹ | 0 | 27-04-08 03:33 PM |
| سینٹرل کنٹریکٹ: یوسف، یونس و رزاق کو مہلت مل گئی | خرم شہزاد خرم | کرکٹ | 0 | 17-08-07 09:49 AM |