واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ھوتا ھے شب و روز تماشہ لوگوں کے آگے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-07-08, 03:36 PM   #1
Senior Member
 
Real_Light's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Islamic Republic of Pakistan
مراسلات: 3,203
کمائي: 16,924
شکریہ: 3,117
983 مراسلہ میں 1,950 بارشکریہ ادا کیا گیا
Real_Light کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں Real_Light کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Arrow ھوتا ھے شب و روز تماشہ لوگوں کے آگے

ھوتا ھے شب و روز تماشہ لوگوں کے آگے

ھوتا ھے شب و روز تماشہ لوگوں کے آگے

یوں تو ھر روز ایک خبر پہلی خبر سے ذیادہ دھماکہ خیز ھوتی ھے۔ابھی تک ھماری نیی حکومت کسی فیصلے تک ھی نہیں پہنچ سکی۔ابھی تک یہ بھی نا جان سکیے کہ حکومت کرنا کیا چاہتی ھے۔ اور کیا کر رہی ھے ۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن) کے درمیاں اتحاد ھی نہیں ھو پا رہا۔تازہ خبریں آنے تک پھر قایدین کا اجلاس ھونے جا رہا ھے ۔اب پھر کیا صورتحال نکلتی ھے ۔کیا پھر یہ اجلاس مری دبئی کا چکر کاٹ کر واپس وھی دم توڑے گا۔ اس سے نا صاف وقت کو برباد کرنا ھے بلکہ ملک کے خزانے پر مزید بوجھ ڈالا جائے گا اب دیکھنا یہ ھے ،کہ اب کی بار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ھے۔
ھمارے وزیراعظم جو بلکل ایک کٹ پتلی کی طرح ھیں ۔جب دل چاہا اور جس نے چاہا ان کو موڑ دیا ۔ ھر روز ایک بیاں دے دیتے ھیں۔ وہ بھی امریکہ کے کہنے پر کہ ھم شدت پسند عسکریتوں کے ساتھ کسی طور مزاکرات کرنے کو تیار نہیں ھیں ۔ ھم ان کو ملک میں مزید دیشتگردی کی اجازت نہیں دیں گے ۔کیا انھوں نے آپ سے دشتگردی کی اجازت مانگی ھے۔ ابھی تک تو آپ یہ بھی نا جان سکے کہ کوں ھیں یہ لوگ اور کہان سے آئے ھیں ۔اور انکے پیچھے کن اجنسوں کا ھاتھ ھے ۔کون نا مر جائے اس سادگی پر
پہلے ھمارے صدر صاحب امریکہ کے آگے کٹ پتلی بنے ھوئے تھے ۔سمجھ ھی نہیں آتا تھا ۔ کہ پاکستان کی اپنی پہچان کیا ھے ۔سب کچھ اگر امریکہ نے ھی کرنا ھے تو باقی سب کس درد کی دوا ھیں ۔ اس میں کوئی شک کی گنجاش باقی نہیں بچتی کہ امریکہ ایک بڑی طاقت ھے ۔لیکن ھمارے ھر عمل دخل میں امریکہ ھی کیوں ؟ اور اب یہی حال زرداری کا ھے وہ خود تو پیچھے ھے۔ لیکن اس کی ڈور وزیراعظم کی گردن میں اور ھاتھوں میں ھے ۔وہ خود تو دبئی میں ھیں لیکن انکے وزیر اور اعظم پاکستان میں ناچ رہئے ھیں بلکہ دھمال ڈال رہئے ھیں ۔
اور یہی حال ھمارے باقی وزراہ کا ھے۔اب تو پی پی پی اور نواز کی حکومت کا یہ حال ھو گیا ھے کہ چادر چھوٹی پڑ گی سر پر ڈالتے ھیں تو پاوں ننگے ھوتے ھیں ۔اور اگر پاوں کو مچھروں سے بچاتے ھیں تو وہ منہ پر کاٹتے ھیں۔
ملک میں منہگائی اس حد تک بڑہ گیی ھے کہ ایک عام آدمی کی زندگی اس کے لیے مشکل ھو گیی ھے ۔پریشانی میں لوگوں کو سمجھ ھی نہیں آرہی وہ کیا کریں اور کہاں جاہیں ۔سفید پوش تو اپنی عزت کا بھرم رکھے ھوئے ھے۔ نا کسی کے آگے ھاتھ پھیلا سکتا ھے ۔ اور نا ھی موت کو گلے لگا سکتا ھے۔اس کی حالت تو اس طرح ھو گیی ھے کہ ننگی نہاے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔
اور غریب اپنی غربت سے پہلے تنگ تھے ۔ لیکن تھوڑی محنت مزدوری سے گزارہ ھو جاتا تھا ۔لیکن اب تو فاقوں کی نوبت آن پہنچی ۔جس ملک میں گرمی میں بجلی نا ھو وہاں کیسے اور کیونکر مزدوری ھو سکتی ھے ۔ برے حالات کی وجہ سے اور بھوک کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں تک کا سودہ کر رہئے ھیں ۔ کیونکہ وہ اپنے سامنے ان کو مرتا ھوا نہیں دیکھ سکتے۔اور نا ھی اپنے آپ کو مارنا چاہتے ھیں ۔سو اس کا حل انکے نزدیک یہی ھے کہ بچوں کو ھی فروخت کر دو۔ خس کم جہان پاک
مانا کہ مہنگائی پوری دنیا میں ھے لیکن اس کا حل بھی ان کے پاس ھے ۔دنیا کی کسی دوسرے حصے میں کبھی یہ سننے کو نہیں آیا کہ آٹا نا ھونے کی وجہ سے لوگ بھوکے سوئے ھیں ۔ یا مہنگائی کی وجہ سے اپنے بچوں تک کا سودا کیا جا رہا ھے یا ١٦ گھنٹے بجلی نہیں ھے ۔ایک بھوک کی وجہ سے اور دوسرے گرمی کی وجہ سے لوگ مر رہیے ھیں ۔اور منہگائی اس حد تک بڑھے گی کہ لوگ اپنے بچوں تک کو فروخت کریں گے۔اور حکومت کو نا کچھ دکھائی دیتا ھے اور نا ھی سجائی۔اور اگر سب کچھ جانتے بھی ھیں تو انکھیں بند کر رکھی ھیں ۔ان کے کون سے اپنے اس صورتحال سے گزر رہئے ھیں ۔ان کے نزدیک عوام کو تو عادی ھو جانا چاہئے۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اس حد تک اضافہ کیا گیا ھے ۔ایک عام شہری سفر کے قابل ھی نہیں رہا ۔پیسے والوں کو نا پہلے مسلہ تھا اورنا اب ھے ۔ ان کے بچے پہلے بھی ملک سے باھر ھی ھوتے تھے اور اب بھی ھیں اور انکے بڑے ملک کو دونوں ھاتھوں سے لوٹ رہئے ھیں یہ کہہ کر کہ ان کو پاکستان سے بہت پیار ھے۔انکے لیے پیٹرول کی کیا قیمت ھے ماسوائے اس کے جو انھوں نے اپنی تقریر میں بتانا ھوتی ھے ۔اگر یہی حالات رہئے تو عین ممکن ھے کہ ایندہ ھم سب کو یہ خبر ملے کہ جن کے اسکول دور ھیں وہ بچے پڑھیں ھی نہیں ۔اگر ان کے پاس بس کا کرایہ نہیں ھے ۔اور جو دفاتر ملازمین ھیں وہ اپنے گھر سے ٣ گھنتے پہلے نکلیں ۔اور پیدل دفتر جاہیں ۔۔گر می ھے تو کیا ھوا ھر سال گرمی پڑتی ھے ۔ یہ کوئی نیی بات تو نہیں ھے ۔بسوں میں جانے سے وقت برباد ھو گا ۔پیدل چلنے سے صحت بھی اچھی رہئے گی اور پیسے بھی بچ جاہیں گے۔بلے دفتر تک پہنچتے پہنچتے آپ کا دم نکل جائے۔اس کا جواب بھی موجود ھے ۔مرنے کا وقت مقررہ تھا۔بس مرنے والے کے لیے دعا خیر کرو۔کہ اس کا وہ جہاں اچھا ھو لیکن ایسا کوئی کام خود نہیں کرنا ۔جس سے ان کی بھی آخرت اچھی ھو ۔عوام تو ایک بند ڈبے میں بیٹھی یہ تماشہ دیکھ رہی ھے ۔کہ کب ختم ھو سب اپنے اپنے گھروں کا رستہ لیں ۔
__________________
پھوٹا تھا جو کبھی کسی نیزے کی نوک سے،ہر عہد پر محیط وہی انقلاب ہے
ہر دَور میں‌حُسین ع نے ثابت یہ کر دیا،ہر دور کےیزید کا خانہ خراب ہے
Real_Light آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, پہچان, پاکستان, پسند, وزیراعظم, مہنگائی, موت, ممکن, آدمی, امریکہ, بچوں, جواب, حل, خبر, دھماکہ, دل, دبئی, دعا, زندگی, زرداری, سفر, سودا, سال, عزت, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فیس بک پر نوجوانوں کے شب وروز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ جاویداسد خبریں 2 01-10-10 09:48 AM
حساس ادارے کی عمارت پر حملے کی خبرغلط۔۔دہشت گردوں نے گارڈز کر یرغمال بناکر عمارت پر قبضہ کرلیا جاویداسد خبریں 1 28-08-10 07:32 PM
دکانوں کے بورڈز گلاب خان گپ شپ 4 22-11-09 04:59 PM
ارمانوں کے بہکنے کا گمان ھوتا ھے،!!!!!!! عبدالرحمن سید عبدالرحمن سید 8 10-08-08 02:47 PM
وزیر اعلیٰ بھوتانی کا بلوچستان کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 11:04 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger