کنڑ اور ننگرھار کے گورنروں نے مولانا فضل اللہ کو اسلحے کے ٹرک بھیجے
کنڑ اور ننگرھار کے گورنروں نے مولانا فضل اللہ کو اسلحے کے ٹرک بھیجے
کنڑ اور ننگرھار کے گورنروں نے مولانا فضل اللہ کو اسلحے کے ٹرک بھیجے
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے اور امن وامان کی صورتحال خراب کرنے والے مولانا فضل اللہ کچھ ہی عرصہ قبل طاقتور مسلح جنگجو کمانڈر کی حیثیت سے منظر عام پر آئے۔ مولانا فضل اللہ کا تعلق ضلع سوات کے علاقہ امام ڈھیری سے ہے ان کی عمر تقریبا 32, 30 سال ہے مولانا فضل اللہ تحریک نفاذ شریعت کے سربراہ مولانا صوفی محمد (جو کہ ڈیرہ جیل میں قید ہیں) کے داماد ہیں، معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل اللہ جو کہ حال ہی میں تقریبا عرصہ ڈیڑھ سال میں امام ڈھیری دینی مرکز میں پیش امام بنے، اس سے قبل بعض اطلاعات کے مطابق مولانا فضل اللہ مٹہ سوات کے علاقہ غالجے میں دریا پر واقع ایک پل پر رسیوں کی مدد سے لکڑی کی لفٹ کے ذریعے لوگوں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے پار کرنے کی ملازمت پر فائز رہے اور وہ یہاں 8 سو روپے ماہوار پر ملازمت کرتے رہے۔ کوئی زیادہ پرانی بات نہیں عرصہ ڈیڑھ سال قبل مولانا فضل اللہ نے امام ڈھیری کے مقام پر ایک ایف ایم ریڈیو چینل قائم کیا جہاں وہ لوگوں کو درس قرآن دیتے تھے، مولانا کے ذاتی ایف ایم ریڈیو کے باعث بڑی تعداد میں لوگ ان کے گرویدہ ہو گئے اور عوام نے ان کے زیر تعمیر مدرسہ امام ڈھیری کی تعمیر کے لئے لاکھوں روپے چندہ دیا معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ مدرسہ تاحال زیر تعمیر ہے۔ لال مسجد آپریشن کے بعد انہوں نے اعلان جہاد کیا،بڑی تعداد میں عوام نے ان کا ساتھ دیا بعض اطلاعات کے مطابق گورنر کنڑ اور ننگرھار کے گورنرز کی جانب سے ان کو اسلحے سے بھرے 2 ٹرک بھیجے گئے ہیں۔ مولانا فضل اللہ نے سوات میں مسلح سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے ”شاہین فورس“ کے نام سے اپنی ایک فوج جو کہ اطلاعات کے مطابق 5 ہزار افراد پر مشتمل ہے، قائم کررکھی ہے اور خود اس کے امیر ہیں جبکہ شاہین فورس کی کمانڈ ان کے دست راست سراج الدین نے سنبھالی ہے بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ شاہین فورس میں مسلح جنگجوؤں میں زیادہ تعداد افغان مہاجر کی ہے بعض اطلاعات کے مطابق مولانا فضل اللہ پولیو کے انسدادی پروگرام کے سلسلے میں بچوں کو قطرے پلانے کے خلاف مہم میں بھی سرگرم رہے ہیں۔ مولانا فضل اللہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کوہستان چلے گئے ہیں ان کے بارے میں بعض اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اس سے پہلے وہ افغان جہاد میں بھی حصہ لے چکے ہیں تاہم غیر مصدقہ اطلاع یہ ہے کہ بڑی تعداد میں عوام ان کے حامی ہیں۔ موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ مولانا فضل اللہ کی شاہین فورس کا تحصیل کبل میں مکمل کمان ہے جبکہ مقامی طالبان کی معاونت بھی انہیں حاصل ہے۔
بشکریہ
جنگ
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|