| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,262
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں قریب تین سال بعد دن دہاڑے مسلح حملوں کی شروعات نے جنگ اور بدامنی کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
بعض حلقے کہتے ہیں یہ صورتحال پانچ سال قبل شروع ہوئے ہند۔پاک امن عمل کی ناکامی کا براہ راست نتیجہ ہے جبکہ کچھ دیگر حلقے اسے مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر کی طرف سے امن عمل بگاڑنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف کی رہنما محبوبہ مفتی نے چھ جنوری کو ہوئے لال چوک حملے سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے ’یہ حملہ مرکزی وزیرداخلہ پی چدامبرم کے اس اعلان کے فوراً بعد ہوا ہے کہ وزیراعظم منموہن سنگھ اور خود مسٹر چدامبرم جموں کشمیر سے فوجیں ہٹانے کا عمل شروع کرنے سے متعلق سنجیدہ ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں مفاد خوصی رکھنے والے عناصر سرگرم ہیں، جو نہیں چاہتے ہیں بھارتی افواج کا انخلا ہو‘۔ قانون اور عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر شیخ شوکت حُسین کے مطابق تشدد میں اضافہ کی وجوہات طے کرنا مشکل ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں یہ اُن زیرزمین قوتوں کا ردعمل بھی ہوسکتا ہے، جو غیر محسوس انداز میں امن عمل سے توقعات رکھتے تھے اور اب اس عمل میں جمود سے مایوس ہیں۔ پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر اندرونی صورتحال میں بہتری ناممکن ہے۔ حکومت پاکستان کے بغیر اپنے پسندیدہ گروپوں کے ساتھ بات چیت کرتی ہے۔ یہ تو ایک مذاق ہے۔ اور پھر جموں اور لداخ میں بھی سیاسی آوازیں ہیں، ان کو خاطر میں لائے بغیر حکمراں نیشنل کانفرنس کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نرمل سنگھ بی جے پی رہنما لیکن ڈاکٹر شوکت محبوبہ کے خیال کو بھی امکان کے قریب رکھتے ہوئے کہتے ہیں ’حکومت ہند کی طرف سے فوجی انخلا کے فوراً بعد تشدد میں اضافہ ہونا بھی معنی خیز ہے لیکن ہم کیا کہہ سکتے ہیں، حملہ کی ذمہ داری کچھ شدت پسند گروپوں نے قبول کرلی ہے‘۔ سیاسیات کے پروفیسرگُل وانی کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج کا غالب حلقہ بھارت کو پاکستان کے اندر تشدد کے پھیلاؤ اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کا مرتکب سمجھتا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’چونکہ پاکستانی حکومت پر فوجی مائنڈ سیٹ چھایا ہوا ہے، لہٰذا فوج کا تاثر ہی ملک کی خارجہ پالیسی پر حاوی ہوگا۔ اس صورتحال میں ہوسکتا ہے کہ پاکستانی فوج نے کشمیر محاذ کو دوبارہ گرم کرنے کا منصوبہ بنایا ہو۔ اس سے ملک کے اندرونی پریشر کو بھارت پر منتقل کرنے کی سٹریٹیجی کہا جاسکتا ہے‘۔ صورتحال کا معنی خیز پہلو یہ ہے کہ پچھلے بیس سال میں پہلی مرتبہ بھارت نواز حلقے تشدد میں اضافہ کے لیے حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ بھارت کی ہندوتوا نواز جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی یا بی جے پی کے صوبائی رہنما ڈاکٹر نرمل سنگھ نئی صورتحال کو حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ سال دوہزار دس ٹرننگ پوائنٹ ہوگا۔ وزیراعظم اپنے اس وعدے پر ڈٹ گئے ہیں کہ امن عمل کو کامیاب بنانا ہے۔ یہ جو آپ تشدد کی وارداتیں دیکھتے ہیں، یہ تو ہوتا رہےگا۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ دونوں ملک امن عمل سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ فی الوقت عوام امن اور دوستی چاہتے ہیں۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے پاکستانی اُردو روزنامہ جنگ کے ساتھ کاروباری رشتہ باندھا ہے۔ این جی اوز بھی سرگرم ہیں۔ انتظار کیجیے، آگے بہت کچھ ہوگا۔ امیتابھ مٹو، وزیراعظم کے مشیر ان کا کہنا ہے’پاکستان کو اعتماد میں لیے بغیر اندرونی صورتحال میں بہتری ناممکن ہے۔ حکومت پاکستان کے بغیر اپنے پسندیدہ گروپوں کے ساتھ بات چیت کرتی ہے۔ یہ تو ایک مذاق ہے۔ اور پھر جموں اور لداخ میں بھی سیاسی آوازیں ہیں، ان کو خاطر میں لائے بغیر حکمراں نیشنل کانفرنس کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔ ڈاکٹر سنگھ کے مطابق’تشدد دراصل اسی ناقص پالیسی کا ردعمل ہوتا ہے‘۔ کشمیری دانشور پروفیسر امیتابھ مٹو کشمیری امور اور امن عمل سے متعلق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے مشیر ہیں۔ پروفیسر مٹو امن عمل سے متعلق کافی پُرامید ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ’سال دو ہزار دس ٹرننگ پوائنٹ ہوگا۔ وزیراعظم اپنے اس وعدے پر ڈٹ گئے ہیں کہ امن عمل کو کامیاب بنانا ہے۔ یہ جو آپ تشدد کی وارداتیں دیکھتے ہیں، یہ تو ہوتا رہےگا۔ کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ دونوں ملک امن عمل سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ فی الوقت عوام امن اور دوستی چاہتے ہیں۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے پاکستانی اُردو روزنامہ جنگ کے ساتھ کاروباری رشتہ باندھا ہے۔ این جی اوز بھی سرگرم ہیں۔ انتظار کیجیے، آگے بہت کچھ ہوگا‘۔ لیکن اکثر مبصرین بھارت اور پاکستان کی فوجی قیادت کے تازہ موقف کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔ کشمیری مصنف اور جنوب ایشیائی امور کے ماہر سیّد تصدق حُسین نے اپنی تازہ تصنیف میں واضح پیش گوئی کی ہے کہ سال دوہزار پندرہ تک بھارت اور پاکستان ایک محدود جنگ میں اُلجھ جائیں گے۔ اس پیش گوئی سے متعلق انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ’میرا یقین ہے ایسا ہی ہوگا۔ اور میں نے یہ دو ہزار چار میں کہا تھا جب دونوں ملک امن عمل کے لڈو بانٹ رہے تھے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی فوج کو لگنے لگا ہے کہ بھارت ان کے ملک کے لیے بڑا خطرہ ہے‘۔ مسٹر حُسین اور ان کے ہم خیال مبصرین کہتے ہیں کہ بھارتی افواج نہ صرف جدید ٹریننگ اور ٹیکنالوجی سے لیس ہورہی ہے بلکہ یہاں کی فوجی قیادت بھی اب پاکستان کی دیکھا دیکھی میں ملک کی خارجہ پالیسی میں دخل انداز ہورہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جنرل کپور کے حالیہ بیانات اور اس کے ردعمل میں پاکستانی افواج کے سخت لہجہ کو نظراندازنہیں کیا جا سکتا۔ بی بی سی اردو
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, پہلی, پاکستان, پاکستانی, پسندیدہ, وزیراعظم, نواز, ملک, منتقل, منصوبہ, مطابق, الزام, انداز, اردو, خوش, خصوصی, دیکھا, سال, عوام, عناصر, عالمی, غالب, صوبائی, صورتحال, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|