کسی سیاسی جماعت کو وکلا تحر یک پر اثر انداز نہیں ہو نے دینگے،بار کونسلوں ک
کسی سیاسی جماعت کو وکلا تحر یک پر اثر انداز نہیں ہو نے دینگے،بار کونسلوں ک
کسی سیاسی جماعت کو وکلا تحر یک پر اثر انداز نہیں ہو نے دینگے،بار کونسلوں کا اعلان
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) آزادکشمیر سمیت ملک کی چاروں صوبائی بارکونسلوں نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو وکلاء تحریک پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے اور تمام فیصلے پاکستان بار کونسل کرے گی ۔اس امر کا اعلان ہفتہ کو چاروں صوبائی بارکونسلوں اور آزادکشمیر بارکونسل کے مشترکہ اجلاس کے بعد کیاگیا۔ اس موقع پر وکلاء کا ملک گیر کنونشن منعقد کرانیکا فیصلہ کیا گیا تاہم تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائیگا۔ اسلام آباد کلب میں منعقدہ انتظامی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل اورانتظامی کمیٹیوں کے چیئرمین اسلم سندھو نے کہاکہ کسی فرد واحد کو فیصلوں کا اختیار نہیں دیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ کامیاب رہا جس میں عوام اور وکلاء نے قربانی اور جذبوں کی نئی مثالیں رقم کیں ۔ ہم عوام اور وکلاء برادری کے شکر گزار ہیں جنہوں نے طالع آزماقوتوں پرواضح کردیا کہ کسی کو جمہوریت پرشب خون مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء اور پوری قوم عدلیہ کے بارے میں وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں اور اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ وائس چیئرمین چوہدری محمد اسلم سندھ ‘ مظفرلغاری سندھ‘ قاضی نعیم سرحد ‘ چوہدری محمد ابراہیم آزادکشمیر اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی بلوچستان بار محمد انور مسکان زئی ‘ سندھ بارکی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین عبدالحلیم صدیقی اور دیگر ارکان نے شرکت کی اجلاس نے چوہدری اسلم کو چاروں بار کونسلوں کی مشترکہ کمیٹی کا کنونیئر مقرر کردیا جو وکلاء تحریک کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وکلا تحریک عدلیہ کی آزادی اور معزول ججز کی بحالی تک پر امن طریقہ سے جاری رہے گی۔ اس سلسلہ میں ملک گیر وکلا کنونشن جلد ہوگا جس میں اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہنے والے اجلاس میں وکلا تحریک اور لانگ مارچ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اس کے اثرات اور مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ محمد اسلم سندھو ایڈووکیٹ کو وکلا کا ترجمان مقرر کیا گیا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لانگ مارچ کے اختتام کے حوالے سے جو ابہام پھیلایا جارہا ہے وہ ان قوتوں کی سازش ہے جو وکلا تحریک کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں جبکہ وکلا قیادت میں مکمل اتحاد ہے اور ہم وکلا تحریک کے حوالے سے جلد ہی ملک گیر کنونشن بلا رہے ہیں جس میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے وکلا تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا اس کے علاوہ وکلا تحریک کے اگلے مرحلوں میں سیاسی جماعتوں ایکس سروس مین ایسوسی ایشن سفیروں اور سول سوسائٹیز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ محمد اسلم سندھو نے کہا کہ لانگ مارچ اور اس سے قبل ہماری تحریک انتہائی پر امن طریقہ سے چل رہی تھی اس لانگ مارچ کو بھی قانون کے دائرہ میں رہ کر ہی ختم کرنا تھا اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پاکستان بھر کے عوام وکلا تحریک کی حمایت کرتے ہیں اور وہ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی مکمل آزادی کے حامی ہیں۔ اس لانگ مارچ کو ریفرنڈم قرار دیا جارہا ہے جس میں عوام نے آمریت کے احکامات کو مسترد کردیا ہے اور وہ مستقبل میں کسی بھی امر کو غیر آئینی اقدامات کی اجازت نہیں دیں گے۔ محمد اسلم سندھو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ چاروں صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر بار کونسلوں نے قرار دیا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ججز کی بحالی کا جو معاہدہ بھوربن میں ہوا اس پر عمل کیا جائے اور اس معاہدہ کی روح کے مطابق عمل در آمد کیا جائے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|