واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


کالا باغ ڈیم بہت ضروری ہے،صیح وقت پر بنائیں گے،صدر پرویز

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-12-07, 08:28 AM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,803
کمائي: 2,339,141
شکریہ: 17,797
12,253 مراسلہ میں 28,475 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default کالا باغ ڈیم بہت ضروری ہے،صیح وقت پر بنائیں گے،صدر پرویز

کالا باغ ڈیم بہت ضروری ہے،صیح وقت پر بنائیں گے،صدر پرویز

اسلام آباد ( سکندر لودھی … نمائندہ جنگ) صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی وسیع تر ترقی اور غربت کے مزید خاتمہ کیلئے ہمیں مل جل کر دہشت گردوں سے لڑنا ہے تاکہ ملکی ماحول ٹھیک ہو اور بیرون ملک پاکستان کا امیج بھی بہتر سے بہتر ہو، ملکی ترقی کیلئے کالا باغ ڈیم ضروری ہے، اسے صحیح وقت پر بنائیں گے، حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت نے ترقی کی، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ کی پوزیشن سے باہر نکالا، یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ملک میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، فری مارکیٹ اکانومی میں ایسا ہوتا ہے، ہماری حکومت کے دور میں ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا، فی کس آمدنی 925 ڈالر ہوگئی جس کی وجہ سے قوت خرید بڑھ رہی ہے، ہماری نجکاری پالیسی کامیاب رہی، میں سمجھتا ہوں کہ سرکاری اداروں کو فروخت ہونا چاہئے، سوات میں بہتری آ رہی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ”ایوان صدر سے“ کی، ہفتہ وار نشست میں ”ملکی معیشت“ کے موقع پر اظہار خیال کے دوران کیا۔اس موقع پر وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، وزارت خزانہ کے خصوصی سیکریٹری ڈاکٹر اشفاق حسن خان، وفاقی سیکریٹری اطلاعات و نشریات سید انور محمود اور صدر کے پریس سیکریٹری میجر جنرل (ر) راشد قریشی بھی موجود تھے۔ اس نشست میں صدر مشرف نے بڑے خوشگوار اور ٹھنڈے مزاج سے مختلف سوالات کے جواب دیئے۔ صدر پرویز مشرف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ واقعی پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات سے ملک کے بارے میں تاثر خراب ہوتا ہے اور اس سے معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جامع اقتصادی اصلاحات کے نتیجہ میں ملکی معیشت نے کافی ترقی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت یہاں 700 کے قریب غیر ملکی ادارے 20 فیصد سے 60 فیصد تک منافع لے جارہے ہیں۔ اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مل جل کر دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہے تاکہ ملکی ماحول ٹھیک ہو اور بیرون ملک کسی جگہ پاکستانی پاسپورٹ دیتے وقت کسی پاکستانی کو بھی کوئی مسئلہ در پیش نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے لوگ باہر جاکر خود اپنے ملک کو برا بھلا کہتے ہیں اور روتے ہیں کہ ملکی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ مگر وہاں کے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ ہمارے بیرون ملک پاکستانی بھی باہر بیٹھ کر اپنے ملک کو پروجیکشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ1947ء کے بعد 52 سالوں کی نسبت سات آٹھ سالوں میں ملکی معیشت نے ہر شعبہ میں بڑی ترقی کی ہے۔ ملکی ریونیو 52 سال میں 306 ارب روپے تھا جس میں 700 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ ہم نے نئے ٹیکس لگاکر نہیں بلکہ ٹیکسوں کی بنیاد وسیع کرکے کیا۔ ہم نے ملک کو ”ڈیفالٹ“ کی پوزیشن سے نکالا، کرپشن کے خاتمہ کیلئے سی بی آر نے آفیسران کے صوابدیدی اختیارات ختم کئے۔ بجٹ خسارہ کو کم کیا۔ ڈیٹ سروسز میں ریکارڈ کمی لائے۔ ملکی برآمدات 7 ارب ڈالر سے بڑھاکر 18 ارب ڈالر تک لے گئے اوورسیز پاکستانی پہلے 300 ، 400 ملین ڈالر بھجواتے تھے۔ اب کئی ارب ڈالر بھجوا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایک موقع پر ڈیٹ سروسز بڑھنے پر عالمی بینک کے دوسرے اداروں نے شرح سود بڑھا دی تھی جس سے اقتصادی مستقبل تاریک ہورہا تھا اور مسائل بڑھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی ری شیڈولنگ کے بعد ہماری ڈیٹ سروسز صرف 2 ارب ڈالر رہ گئیں۔ جو اس سے پہلے 5 سے 6 ارب ڈالر تھیں۔ انہوں نے کہاکہ 9/11 سے قبل ہی ہم ملکی برآمدات 7 ارب ڈالر سے بڑھا کر 9.2 ارب ڈالر پر لے گئے تھے۔ اس شعبہ میں ہمیں 9/11 کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کیونکہ ہماری برآمدات اس سے پہلے بڑھ گئی تھیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی جانے والی رقوم میں 9/11 کے بعد عالمی سطح پر ہنڈی کی حوصلہ شکنی کی وجہ سے خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 2004 ء میں بہتر اقتصادی حالات کی وجہ سے ہماری آمدنی 16 ارب ڈالر اور اخراجات 14 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے تھے۔ جس سے ہمارے حسابات جاریہ کا اکاؤنٹ فاضل رہا لیکن اب کئی وجوہ کی بناء پر اس مد میں خسارہ ہے۔ کیونکہ ہمارا درآمدی بل خاص طور پر تیل کا درآمدی بل خاصا بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے پہلے بینکوں میں منجمد قرضوں کی مالیت 240 ارب روپے تک پہنچ گئی تھی۔ بینکوں میں قرضے معاف ہورہے تھے۔ غرض لوٹ مچی ہوئی تھی جس کا داؤ لگتا تھا اس کو قرضہ ملتا تھا اور اسی کا معاف ہوتا تھا۔ اب یہ صورتحال بدل چکی ہے۔ اب قومی بینک فروخت ہوچکے ہیں۔ نجی بینک بڑی احتیاط سے قرضے دیتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف نے کہا کہ 1947ء سے 1999 ء تک ہمارا جی ڈی پی 63 ارب ڈالر تھا۔ آج یہ 161 سے 162 ارب ڈالر ہوچکا ہے۔ اس سے دفاعی اخراجات خود بخود کم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے بھارت سے جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔ ہم نے اس وقت بھی دفاعی اخراجات بڑھانے کی بجائے منجمد کردیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 4 ، 5 سال سے ہمارا جی ڈی پی ریٹ 7 فیصد چلا آرہا ہے جبکہ فی کس آمدنی 435 ڈالر سے بڑھ کر 925 ڈالر ہوچکی ہے جس سے پاکستان درمیانے درجے کی ترقی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔ صدر نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے ہاں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہورہا ہے۔ فری مارکیٹ اکانومی میں ایسا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پوزیشن اس حوالے سے عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ یہ ہے کہ 26 مختلف ممالک کی فہرست میں ہمارا نمبر تیسرا ہے۔ یعنی ہماری 23 ممالک کی نسبت حالت بہتر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق امیر اور غریب کا فرق برازیل میں 58 فیصد، ملائیشیا میں 49.2 فیصد، چین میں 44.7 فیصد امریکا میں 40.8 فیصد، بھارت میں 32.5 فیصد اور پاکستان میں 29.8 فیصد ہے۔ اس طرح یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں امیر و غریب میں فرق زیادہ نہیں ہے۔ لیکن ہم اسے بہتر سے بہتر بنا رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں 22 خاندانوں کا تصور نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ فی کس آمدنی بڑھنے سے عام آدمی کی قوت خرید بڑھی ہے۔ ہمارے غیر ملکی قرضوں کی مالیت 39 ارب ڈالر ہے۔ جو اس سے پہلے 38 ارب ڈالر تھی۔ ڈیٹ کی جی ڈی پی شرح پہلے 101 فیصد تھی۔ جو اب 60 فیصد رہ گئی ہے۔ پبلک سیکٹر ترقیاتی پروگرام کا حجم 80 ارب روپے سے بڑھ کر 520 ارب روپے ہوچکا ہے۔ اس وقت تیل کی قیمتوں میں اضافے پر پریشانی ضرور ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کے بزنس میں اضافہ سے لوگوں نے اربوں روپے کمائے۔ ہماری کرنسی کی قیمت میں استحکام رہا۔ جو صحت مند معیشت کی سب سے بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہاکہ کہا جاتا ہے کہ ہمیں امریکا نے 10 ارب ڈالر دیئے۔ ایسا نہیں ہے امریکا نے 2002 ء میں 5 سال کے لئے 3 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔ جس کے تحت ہمیں ہر سال 600 ملین ڈالر ملتے ہیں۔ باقی پیسے امریکا افغانستان کے حوالے سے ہمیں لاجسٹک سپورٹ کی مد میں دیتا ہے۔ جو اصل میں ”ریفنڈ“ کی شکل میں ہمیں ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکا سے کوئی اربوں ڈالر نہیں مل رہے۔ بلکہ صرف سالانہ 600 ملین ڈالر مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یو بی ایل کو پہلے ہم سالانہ 20 ارب روپے دیتے تھے۔ اس کی فروخت سے حکومت کو بھاری رقم ملی۔ ہماری نجکاری پالیسی ہر لحاظ سے کامیاب رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سرکاری اداروں کو فروخت ہونا چاہئے۔ یہ کام نجی شعبہ کو کرنا چاہئے۔ حکومت کو اس سے آؤٹ ہونا چاہئے۔ حکومت صرف حکومت کرے، سرکاری اداروں میں بددیانتی اور بدانتظامی ہوتی ہے۔ اس لئے نجی شعبہ اسے بہتر طریقے سے چلائے۔ صدر پرویز مشرف نے ایک طالبہ فریحہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ پانی کے شعبہ میں کئی ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ ”میرانی ڈیم“ سبک زئی ڈیم کے بعد بھاشا ڈیم پر کام ہورہا ہے۔ منگلا ڈیم کی توسیع کا کام بھی جاری ہے۔ کالا باغ ڈیم سیاسی طور پر متنازع بن گیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں اس ڈیم کا پاکستان کے لئے بنانا از حد ضروری ہے۔ اسے انشاء اللہ صحیح وقت پر بنائیں گے۔ صدر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری حکومت کے دور میں ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔ لوگوں کی قوت خرید بڑھ رہی ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ملک میں 6 لاکھ موبائل استعمال ہوتے تھے۔ اب 60 ملین استعمال ہوتے ہیں۔ ملک میں پیسہ آیا ہے تو یہ سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت بھی ہے۔ ہم اس میں مزید کمی کیلئے سنجیدہ اقدامات کررہے ہیں۔ اسے ہم 25 فیصد سے بھی نیچے لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت اب حکومت کسی بھی منصوبے کے لئے 60 فیصد سے زائد قرضہ نہیں لے سکتی۔ اس طرح اب بینکوں میں لوٹ کھسوٹ مشکل ہوجائے گی۔ صدر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ دنیا بھر میں ٹیکسٹائل کی تجارت صرف 6 فیصد ہے اور 60 فیصد ہیوی انڈسٹری کی ہے۔ ہمارے ملک میں ٹیکسٹائل سیکٹر نے 6 سال تک اربوں روپے کمائے۔ اب تھوڑا نقصان بھی برداشت کریں۔ بہرحال حکومت اس شعبہ کے معاملات دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سوات کے حالات میں بہتری آرہی ہے۔ وہاں 40 ، 50 لوگ ازبک اور ساؤتھ پنجاب سے آئے ہوئے ہیں۔ وہ بڑے ظالم لوگ ہیں۔ حکومت آہستہ آہستہ وہاں پورا کنٹرول سنبھال رہی ہے۔ وہاں صورتحال آنے والے دنوں میں انشاء اللہ کافی بہتر ہوجائے گی۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
9/11, فری, فروخت, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, لوگ, چین, موقع, موبائل, مسائل, آج, آدمی, اللہ, امیر, اسلام, جواب, حسن, خلاف, خصوصی, ظالم, صحت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اسمبلی توڑنے کا اختیار استعمال نہیں کیا جاسکے گا،صدر پرویز کے مواخذے کیلئے عبدالقدوس خبریں 0 18-04-08 07:46 AM
اقتدار سے رخصتی کی تجویز بلاجواز ہے،صدر پرویز کو امریکی سینیٹروں نے نہیں پاکستانی پارلیمنٹ نے منتخب کیا،صدارتی ترجمان عبدالقدوس خبریں 0 26-02-08 03:26 AM
محاذ آرائی نہیں چاہتے،صدر پرویز کے فوری مواخذے کی ضرورت نہیں،امین فہیم عبدالقدوس خبریں 0 24-02-08 12:37 PM
صدر پرویز 5سال کیلئے منتخب ہوچکے،عہدہ نہیں چھوڑینگے،صدارتی ترجمان عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 03:33 AM
ایمر جینسی لگا کر قومی مقاصد حاصل کئے،احتجاجی سیاست بالکل نہیں کر نے دینگے،صدر پر ویز عبدالقدوس خبریں 0 16-12-07 09:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger