ڈاکٹر قدیر جس سے ملنا چاہیں وہ ان سے مل سکتا ہے،ان کے اسٹیٹس میں تبدیلی نہیں کی جارہی ،جنرل قدوائی
ڈاکٹر قدیر جس سے ملنا چاہیں وہ ان سے مل سکتا ہے،ان کے اسٹیٹس میں تبدیلی نہیں کی جارہی ،جنرل قدوائی
ڈاکٹر قدیر جس سے ملنا چاہیں وہ ان سے مل سکتا ہے،ان کے اسٹیٹس میں تبدیلی نہیں کی جارہی ،جنرل قدوائی
اسلام آباد(رپورٹ، صالح ظافر) چےئرمین اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن لیفٹننٹ جنرل (ر) خالد احمد قدوائی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات پر کوئی پابندی نہیں ہے اور کوئی بھی جو ان سے ملنا چاہے وہ مل سکتا ہے۔اور چونکہ ہر پاکستانی ہی ان سے ملنا چاہے گا اس لئے واحد شرط یہ ہے کہ ڈاکٹر خان خود بھی مہمان سے ملنے کیلئے تیارہوں ۔دی نیوز کو انہوں نے بتایا کہ ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان قابل احترام شخصیت ہیں اور ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ان کی صحت بہترین ہے، جنرل قدوائی دیگر حساس ذمہ داریوں کے علاوہ ملک کے اس ممتاز و قابل احترام سائنسدان کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔وہ اسٹریٹجک اثاثوں کے حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بھر پور طریقے سے مسلح اور بھرپور تربیت یافتہ فوجی دستے کی قیادت کررہے ہیں، جنرل قدوائی نے بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے واضح کیا کہ ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں کیونکہ حکومت نے جدید ترین اور ناقابل تسخیر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کر رکھا ہے اور یہ اسی طرح کا نظام ہے جیسا ترقی یافتہ ممالک نے اپنا رکھا ہے۔اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کے چےئر مین نے سینیٹر ایس ایم ظفر اور مشاہد حسین سید کے ان بیانات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان سے مل چکے ہیں ۔ا پنے بیانات میں انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ڈاکٹرخان پر عائد پابندیاں جزواً اٹھا لی گئی ہیں اور انتخابات کے بعد انہیں مکمل طور پر آزاد کیا جا سکتاہے۔جنرل قدوائی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر خان کے اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جارہی اور یہ کہ انہیں ابتداء ہی سے مناسب انداز میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔دریں اثناء باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ انتخابات کے بعد ڈاکٹر خان کو چھوڑنے کے حوالے سے جوقیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ان میں صداقت نہیں اور ڈاکٹر خان آج کل جس قسم کے حالات میں رہ رہے ہیں انہیں تبدیل کئے جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ اس معاملے کے بین الاقوامی سطح پر اثرات ہوں گے اور حکومت ایساکوئی اقدام نہیں کرے گی جس کے نتیجے میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں۔ذرائع نے یاددہانی کرائی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زیرتحویل شخص کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہئے، انہیں ہمیشہ سے ہی سخت سیکورٹی انتظامات کے تحت رکھا گیا، ان کے ارد گرد کی صورتحال ان کی سخت سیکورٹی کی متقاضی ہے اور سیکورٹی کی متعدد سمتیں ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمانبریگیڈیئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اردگرد سے سیکورٹی ختم کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کسی بھی تبدیلی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس معاملے پر حکومتی سطح پر یا کسی اور بلند ترسطح پر کوئی مشاورت نہیں ہورہی ۔جہاں تک ان پر عائد پابندیاں ہٹالینے کا تعلق ہے مجھے اس پر شک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے بعد اس حوالے سے کچھ پیشرفت ہو سکتی ہے اور میر ے خیال میں تبدیلیاں ہمیشہ آتی رہتی ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں اس قسم کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|