چیف جسٹس اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے معاملے میں سیاستدانوں نے غداری کی ہے ،عمران خان
چیف جسٹس اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے معاملے میں سیاستدانوں نے غداری کی ہے ،عمران خان
چیف جسٹس اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے معاملے میں سیاستدانوں نے غداری کی ہے ،عمران خان
کوئٹہ......پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے معاملے میں سیاستدانوں نے غداری کی ہے ،انہیں اپوزیشن میں آزاد اور حکومت میں غلام عدلیہ چاہیئے ،ملکی امن و امان تہہ و بالا کرنے والے پرویز مشرف کو سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ملک سے باہر بھیجنا شرمناک عمل ہے،مسلم لیگ (ن )دو کشتیوں کی سواری چھوڑ کر حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔وہ بلوچستان کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر روانگی سے قبل کوئٹہ ایئرپورٹ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضے لینا مسائل کا حل نہیں اگر ایسا ہوتا تو آج تمام مسائل حل ہوچکے ہوتے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضے لینے سے صرف اور صرف عوام پر اضافی بوجھ پڑے گا اور غربت میں اضافہ ہوگا جبکہ اس کا فائدہ صرف ایک چھوٹے طبقے کو پہنچے گا ،سب جانتے ہیں کہ دنیا کے جن ممالک نے آئی ایم ایف سے قرضے لیے ہیں وہاں غربت میں اضافہ ہے ،انہوں نے کہا کہ معاشی بحران کا حل آسان یہ ہے کہ اخراجات میں کمی کرکے آمدنی میں اضافہ کیا جائے ، حکمران اور عوام صحیح طریقے سے ٹیکس ادا کریں ، زرداری بتائیں انہوں نے خود کتنا ٹیکس ادا کیا ہے ؟۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ایک ایسے شخص کو جس نے آئین توڑا اور خود اس کا اعتراف بھی کیا ، لال مسجد آپریشن جیسے ظالمانہ اقدام اٹھایا، سرحد اور بلوچستان میں بے گناہ لوگوں کو شہید کیا ،نواب اکبر بگٹی جیسی شخصیت کو نشانہ بنایا ، ایسے شخص کوفرار کا راستہ فراہم کرنا شرمناک عمل ہے انہوں نے کہا کہ خود آصف زرداری نے پرویز مشرف پر دہشت گردی کے خلاف ملنے والے فنڈز میں سے اربوں ڈالر خورد برد کرنے کا الزام لگایا ، ایسے شخص کو عدالت میں لاکھڑا کرنا چاہیئے تھا ،این آر او کے تحت پرویز مشرف نے زرداری کو ریلیف فراہم کیا اس لیے انہیں معافی دی گئی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے نام پر مینڈیٹ لینے والی جماعتوں نے وعدے پورے نہیں کئے، پیپلز پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی ،جمعیت علمائے اسلام اور حکومت میں شامل دیگر جماعتیںجب اپوزیشن میں تھیں تو عدلیہ کی آزادی کے لیے ہمارے ساتھ سڑکوں پراحتجاج کیا لیکن آج حکومت میں آکر انہیں غلام عدلیہ چاہیئے،یہی وجہ ہے کہ جب فوجی حکومت آتی ہے تو لوگ مٹھائیاں بانٹتے ہیںانہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی شہید چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے خود چیف جسٹس کے گھر کے سامنے کہا تھا کہ اصل چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی ہے آج وہی پیپلز پارٹی افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے مختلف بہانے کررہی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ افتخار چوہدری سیاسی ہوگئے اگر وہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی طرح کام کرتے تو غیر سیاسی ہوتے انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے عدلیہ کی آزادی کے لیے آواز بلند کی ۔ عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور آزاد عدلیہ کے حوالے سے سیاستدانوں نے غداری کی ہے ، انہیں اپوزیشن میں آزاد اور حکومت میں غلام عدلیہ چاہیئے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو متحدہ اپوزیشن کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن دو کشتیوں کی سواری چھوڑ کر حکومت یا حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔
|