چند روز میں نوز شر یف کے پاکستان آنے امکان ،سعودی عر ب فر یقین میں کم از کم مفاہمت کرا نے میں کامیاب
چند روز میں نوز شر یف کے پاکستان آنے امکان ،سعودی عر ب فر یقین میں کم از کم مفاہمت کرا نے میں کامیاب
اسلام آباد(رپورٹ…صالح ظافر)صدر پرویزکے ساتھ دورے پر سعودی عرب جانے والے اعلیٰ حکومتی اہلکار نے صدرکے ساتھ واپس آنے کی بجائے سعودی شاہی خاندان کے ہمراہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔قابل اعتبار ذرائع کے مطابق سعودی شاہی خاندان دونوں فریقین کے درمیان کم از کم مفاہمت کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔اس مفاہمت کے نتیجے میں نواز شریف چند روز میں سعودی عرب چھوڑ دینگے اور ان کا پاکستان آنے کا امکان ہے۔پاکستان پہلے کون آئے گا نوا ز شریف ،شہباز شریف یا خاندان کے دوسرے افراد اس بات کا فیصلہ شریف فیلی کرے گی۔پاکستان میں تعینات سعودی سفیرعلی سعید عواد العسیری نے اس تمام معاملات میں اہم کردار ادا کیا اور وہ ابھی تک جدہ ہی میں موجود ہیں ۔ وہ صدر پرویز کو الوداع کہنے ایئر پورٹ تک آئے تھے۔سفارتی ذرائع نے جنگ کو بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی مفاہمت چند روز میں منظر عام پر آجائے گی ،ذرائع کے مطابق صدر نے اس بات کا عتراف کیا ہے کہ سیاسی میدان میں اہم کامیابی انہیں ملک سے باہر ہی ملی ہے۔ذرائع کے مطابق یہ مفاہمت صدر کی بینظیر کے ساتھ ہونے والی ڈیل سے یکسر مختلف ہے جس میں دونوں فریقین کو کئی ایشوز پر سمجھوتے کرنے تھے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ نواز شریف نے حکومتی کیمپ کے کسی بندے سے ملاقات نہیں کی ہے اور جنرل پرویز کی غیر آئینی حکومت کی کوئی بھی درخواست قبول نہیں کرینگے۔صدر کے ترجمان ریٹائرڈ میجر جنرل راشد قریشی نے بھی صدر اور نواز شریف کے درمیان ہونے والی کسی بھی ملاقات سے انکار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل پرویزریاض سے جدہ پہنچنے اور فورا عمرے کی ادائیگی کیلئے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے،اور جب وہ واپس آئے اس دوران نواز شریف عشاء کی نماز کیلئے خاندان کے دیگر افراد ہمراہ مسجد چلے گئے ان کے ساتھ جدہ کے کچھ صحافی بھی تھے۔انہوں نے مسجد میں 2گھنٹے گذارے اور اس دوران سعودی حکام ان سے مسلسل رابطے کی کوششیں کرتے رہے لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔واضح رہے کہ جنرل پرویز نے سعودی عرب میں 16گھنٹے سے بھی کم وقت گذارا۔انہوں نے شاہ عبداللہ اور ولی عہد سلطان بن عبدالعزیز سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ شاہ سے ہونے والی ملاقات میں سعودی عرب کے امریکا میں تعینات سفیر عادل الجبیراور پاکستان میں تعینات علی سعید عواد العسیری بھی موجود تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ان سفراء کی موجودگی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ نواز شریف اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والے معاملات میں امریکا کا بھی کردار ہے۔اسلام آباد سے محمد احمد نوارانی کے مطابق نواز شریف نے کہا ہے کہ جنرل پرویز کا دورہ سعودی عرب ان کی نقل و حرکت اور بیانات پر پابندی عائد کرنے میں ناکام ہو گیا ہے ،جدہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان واپسی کیلئے پر عزم ہیں اور آزاد عدلیہ و میڈیا کیلئے لڑائی جاری رکھیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے قومی ہیرو ز ”جج صاحبان “کی بحالی کیلئے ایک دوسرے کا ساتھ دینگے اور اس وقت تک کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکے گا جب تک عدلیہ کو 3نومبر سے پہلے کی حالت پر بحال نہیں کیا جاتا،ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ آئندہ ایک یا دو روز میں نواز شریف اعلیٰ سعودی حکام سے ملاقات کرینگے اور بعد میں مستقبل کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کا علان کرینگے،ذرائع نے مزید بتایا کہ نواز شریف کو یہ پیغام پہنچ چکا ہے کہ سعودی حکام نے جنرل پرویز کی کسی بھی درخواست کو ماننے سے انکار کر دیا۔لندن سے نمائندہ جنگ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر سعودی حکومت اور جنرل مشرف کے درمیان معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ جلاوطنی ختم کر کے آئندہ ہفتہ تک پاکستان لوٹ سکتے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت جنرل مشرف کی نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان انڈر سٹینڈنگ کے حق میں ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اس بات کا قائل ہے کہ اگر استحکام بحال کرنا ہے تو نواز شریف کی ضرورت ہو گی۔ نواز شریف نے اخبار کو بتایا کہ ان کی پاکستان واپسی سعودی حکام اور جنرل مشرف کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈا میں سرفہرست ہے۔ سعودی حکام اس معاملہ کو آگے بڑھانا چاہتے اور جنرل مشرف اس مسئلہ پر بات کرنے سعودی عرب آئے تھے۔ ان کا شاہی خاندان سے قریبی رابطہ ہے جو 26نومبر تک ان کی واپسی چاہتے ہیں تاکہ وہ 8جنوری کے پارلیمانی الیکشن کے لئے کاغذات داخل کر سکیں۔ ڈیلی ٹیلیگراف کے مطابق صدر مشرف نے ان قیاس آرائیوں کو ہوا دیدی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے سیاسی تعاون مانگ رہے ہیں اس لئے سعودی عرب گئے تھے۔ اخبار کے مطابق جنرل مشرف پر اپوزیشن اور مغربی حکومتوں کا دباؤ ہے کہ وہ ایمرجنسی ختم کریں اور آئین بحال کر کے 8جنوری کو الیکشن کرائیں۔ اخبار کی رائے ہے کہ ممکن ہے جنرل مشرف سعودی حکومت کی پشت پناہی حاصل کرنے گئے ہوں لیکن پاکستان میں بدلتی ہوئی سیاسی الائنس کے پیش نظر ممکن ہے وہ میاں نواز شریف تک یہ بات پہنچانے گئے ہوں کہ وہ بینظیر بھٹو کا متبادل ہو سکتے ہیں جن کی برطانیہ اور امریکہ نے پاور شیئرنگ کے لئے پشت پناہی کی ہے۔ ٹائمز کے مطابق جنرل مشرف کے دورئہ سعودی عرب سے یہ قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں کہ وہ نواز شریف کے ساتھ اختلافات ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جنرل مشرف شاہ عبداللہ سے مذاکرات کے لئے سعودی عرب گئے تھے لیکن اخبار کے مطابق نواز شریف سے ملاقات کی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں کیونکہ نواز شریف نے کہا ہے کہ اس ملاقات کا ان حالات میں کوئی فائدہ نہیں کہ جنرل مشرف نے ایمرجنسی لگا رکھی ہے، آئین معطل اور جج نظربند ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|