پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری اور مقدمات کے اندراج کا امکان
پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری اور مقدمات کے اندراج کا امکان
پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری اور مقدمات کے اندراج کا امکان
اسلام آباد (طارق بٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف امکانی طور پر ایک بڑی کارروائی کے نتیجہ میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل پر احتجاج کے دوران اس کے ہزاروں کارکنوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف بالخصوص سندھ میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار، بینکوں سمیت سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہچانے کے الزامات پر مقدمات کا اندراج عمل میں لایا جائے گا۔ ایک سینئر اہلکار کے مطابق یہ تعداد 10 ہزار تک ہو سکتی ہے اور اربوں روپے کے نقصانات کا موجب بننے والوں سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ مختلف شہروں میں پی پی پی کے ہزاروں کارکنوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کئے جا چکے ہیں اور ابتدائی تحقیقات و اطلاعات کی روشنی میں بہت سے درج ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا بعض مقدمات پی پی پی کے مخالفوں کی شکایات پر قائم کئے گئے جن کی املاک کو آگ لگائی گئی، لوٹا گیا۔ کراچی میں مزید متعدد گرفتاریاں کی جائیں گی جبکہ پی پی پی کے بعض کارکن گرفتار کئے جا چکے ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ سوگواروں نے اے ٹی ایم مشین یا بنک لاکر توڑ کر نقدی اور قیمتی اشیاء نہیں نکالیں، صرافہ بازاروں کو نہیں لوٹا، معصوم لڑکیوں کی آبروریزی نہیں کی اور پولیس سٹیشنوں میں مقید ملزموں کو آزادی نہیں دی تو مجرم کون تھے یہ سب کچھ کس نے کیا؟ اہلکار کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں کے بھیس میں سرکاری اور نجی املاک کو تباہ و برباد کیا۔ جس میں ہنگاموں کے دوران 50 سے زائد ہلاکتیں شامل ہیں۔ 28 اور 29 دسمبر کو تخریب کے مرتکب پی پی پی عناصر کے خلاف تیزی کے ساتھ کارروائی کے ضمن میں وفاقی حکومت سندھ کے حکام کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ سندھ حکومت پر یہ واضح کر دیا گیا کہ احتجاج کے دوران غفلت کا مظاہرہ یا اپنے فرائض سے یکسر لاتعلق ہونے والے تمام سینئر اور جونیئر حکام کے ساتھی سختی کا برتاؤ کیا جائے گا۔ پرتشدد ہنگاموں میں پیش پیش پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی بیشتر گرفتاریاں آئندہ چند ہفتوں کے دوران کی جائیں گی جو 18 فروری کی انتخابی مہم کے لئے انتہائی اہم ہیں اس نوعیت کے اقدامات پیپلز پارٹی کی انتخابی سرگرمیوں کے لئے نقصان کا موجب بھی بنیں گی۔ پی پی پی کے احتجاج کے دوران جبکہ مجرمانہ اقدامات میں ملوث کارکنوں کے خلاف کارروائی سے پاکستان مسلم لیگ ق سمیت ان کے حریفوں کی ہمت افزائی ہو گی جو پی پی پی کے شدید جوابی ردعمل کے خوف سے خود کو چھپائے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے دانستہ طور پر ایک جہاندیدہ ریٹائرڈ سندھی بیوروکریٹ اور سابق وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد یو اے جی عیسانی کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جو دیگر امورکے علاوہ صدمے سے بے قابو ہونے کی آڑ میں صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوٹ مار، آتش بازی، ہلاکتوں اور نجی املاک کی تباہی کا موجب بننے والے لوگوں کی جرائم میں حصہ داری اور شرپسندوں گروہوں کی نشاندہی کا کام کرے گا۔ وزیراعظم محمد خاں جونیجو کے پرنسپل سیکرٹری رہنے والے عیسانی کو اس حیثیت کے لئے نامزد کیا گیا تاکہ سندھ باالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے کارکنوں کے خلاف اقدامات کے ضمن میں احتجاج پر مبنی کسی بھی آواز کو بے اثر کر دیا جائے۔ وزارت داخلہ آئی جی پولیس اور محکمہ خزانہ کے نمائندے بھی کمیشن میں شامل ہوں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|