19-12-07, 08:40 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پریس قوانین میں ترامیم کے آرڈیننس واپس لئے جائیں ، سی پی این ای
پریس قوانین میں ترامیم کے آرڈیننس واپس لئے جائیں ، سی پی این ای
پریس قوانین میں ترامیم کے آرڈیننس واپس لئے جائیں ، سی پی این ای
کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے کراچی سے تعلق رکھنے والے اراکین کا غیر رسمی اجلاس کونسل کے صدر عارف نظامی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سی پی این ای کے مختلف تنظیمی امور کا جائزہ لینے کے علاوہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آزادی صحافت کے حوالے سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں آزادیٴ صحافت کی صورتحال کو شدید تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پریس قوانین میں ترامیم کے آرڈیننس واپس لئے جائیں۔ کونسل نے کہا کہ اگرچہ ایمرجنسی ہٹانے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم ابھی تک پاکستان میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر عائد پابندیاں بدستور جاری ہیں۔ جیو ٹی وی نیٹ ورک پر 46 دنوں سے بندش عائد ہے جبکہ جنگ گروپ کے سرکاری اشتہارات اس کی ادارتی پالیسیوں کی بنا پر مکمل طور پر بند ہیں۔ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے خلاف 3 نومبر کو عائد کی گئی پابندیوں کو ابھی تک برقرار رکھا گیا ہے۔ مزید برآں پیمرا نے نجی چینلوں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت لائیو پروگرام کرنے اور لائیو کال لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور دھمکی دی گئی ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں نجی چینلوں کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں صحافت شدید دباؤ ، گھٹن اور تادیبی کارروائیوں کا شکار ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اندر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر شدید سرکاری دباؤ، پابندیوں اور کارروائیوں کے نتیجے میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے منصفانہ ہونا اور آزادانہ ہونا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ قرارداد میں اسلام آباد میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین پر پولیس کے وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اظہار کی آزادی آئین میں ایک بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے اور اظہار رائے کی آزادی کا مطالبہ کرنے والوں پر ظلم غیر اخلاقی بھی ہے۔ اجلاس نے وزیر اطلاعات کے ساتھ میڈیا تنظیموں کے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی غور کیا اور طے کیا کہ جب تک حکومت صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات نہیں کرتی، جنگ گروپ کے اشتہارات بحال نہیں کئے جاتے ، جیو ٹی وی کی نشریات بحال نہیں کی جاتیں اور 3 نومبر کو اٹھائے گئے اقدامات واپس نہیں لئے جاتے ، حکومت سے پریس قوانین پر مذاکرات سعی لاحاصل ہیں۔ اجلاس نے ایک قرارداد میں مطالبہ کیا کہ تمام پریس قوانین میں ترامیم کے آرڈیننس واپس لئے جائیں، جنگ گروپ کے اشتہارات اور جیو نیٹ ورک کے تمام چینل کھولے جائیں تاکہ حکومت پریس تعلقات کیلئے خوشگوار ماحول مہیا ہوسکے۔ اجلاس میں جن اراکین نے شرکت کی ان میں صدر سی پی این ای عارف نظامی ، سینئر نائب صدر ڈاکٹر جبار خٹک ، نائب صدر اسلام آباد مہتاب خان ، نائب صدر سندھ شاہین قریشی ، فنانس سیکریٹری عامر محمود ، وامق زبیری ، نجم الدین شیخ ، قاضی اسد عابد ، علی اختر رضوی ، جاوید مہر شمسی ، محمد اسلم قاضی ، انقلاب ماتری ، غلام نبی چانڈیو ، سعید خاور ، ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی ، نصیر ہاشمی ، یونس ریاض ، جاوید محمود ، محمد یوسف قریشی،عبدالحق اور پروفیسر ایس بی حسن شامل ہیں۔
|
|
|