پرویز مشرف نے دھاندلی کا منصوبہ بنارکھا ہے،نواز شر یف،سابق وزیر اعظم کو جسٹس افتخار اور دیگر ججوں سے ملنے سے روک دیا گیا
پرویز مشرف نے دھاندلی کا منصوبہ بنارکھا ہے،نواز شر یف،سابق وزیر اعظم کو جسٹس افتخار اور دیگر ججوں سے ملنے سے روک دیا گیا
اسلام آباد (ایجنسیاں، جنگ نیوز) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پرویز مشرف نے خود کو اقتدار میں رکھنے کیلئے انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ بنا رکھاہے، میرے اور شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی انتقامی بنیادوں پر مسترد کیے گئے، اگر اے پی ڈی ایم نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ملک کے ہر حصے میں جا کر انتخابی مہم چلاؤں گا، 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو عالم اسلام میں نمایاں مقام دلایا اور اسی وجہ سے آج اسلامی دنیا بھی پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں 14 اسلامی ملکوں کے سفیروں سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سابق وزیر اعظم کو جسٹس افتخار محمد چوہدری اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے دیگر ججوں سے ملنے سے روک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف سے ایران، عراق، سعودی عرب، فلسطین، سوڈان اور مصر سمیت دیگر ممالک کے سفیروں نے میاں نواز شریف کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ نوازشریف نے انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنے موقف سے آگاہ کیا جبکہ سفیروں نے ان پر زوردیا کہ وہ اور تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں اور پاکستان میں جمہوری عمل کو آگے بڑھائیں کیونکہ پاکستان کی ترقی اور استحکام عالم اسلام کے لیے بہت اہم ہے۔ سفیروں نے کہا کہ وہ پاکستان میں بحران نہیں جمہوری اداروں کا فروغ چاہتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے انہیں بتایا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دونوں ادوار حکومت میں جو پالیسیاں عالم اسلام سے تعلقات کی بہتری کیلئے بنا رکھی تھیں، اقتدار میں آکر ان ہی پالیسیوں پر دوبارہ عملدرآمد کیا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا کہ ہم نے سفیروں کو بتا دیا ہے کہ ہم اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے حامی ہیں اور عدلیہ کی آزادی کی جدوجہد کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء میں جب میں جدہ میں تھا تو اس وقت انتخابات کیلئے میرے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے، آج ایسی کون سی تبدیلی آگئی کہ میرے کاغذات مسترد کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں بہت بڑی دھاندلی ہوگی کیونکہ پرویز مشرف نے خود کو صدارت کے عہدے پر برقرار رکھنے کیلئے اکثریت حاصل کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن واپسی پر ہمیں عوام کی طرف سے جوپذیرائی ملی اس سے ق لیگ کے حوصلے پست ہورہے تھے اور ان حوصلوں کو بلند کرنے کیلئے ہمارے کاغذات مسترد کیے گئے، تاہم ہم کاغذات مسترد ہونے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل نہیں کریں گے، کیونکہ ہم پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کو جج نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف خود دیکھیں گے کہ ان کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائینگے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ نگراں حکومت جانبدار ہے یہ کسی صورت شفاف اور آزادانہ انتخابات نہیں کراسکتی کیونکہ اس کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے، دھاندلی کا بڑا منصوبہ بن چکاہے اور پرویز مشرف ق لیگ کی حمایت کر رہے ہیں۔ ادھر میاں نواز شریف کو جمعرات کو چیف جسٹس اور دیگر معزول ججوں سے ملاقات کیلئے ججز انکلیو جانے سے روک دیا گیا تاہم انہوں نے ریڈ زون کے آغاز پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں پر کھڑے ہو کر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا اکبر حیات اور ایڈیشنل ایس پی ناصر آفتاب کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین پر واضح کر دیا گیا کہ ججز انکلیو روڈ پر صرف منسٹرز کالونی کے گیٹ تک جانے کی اجازت ہے اس سے آگے کا علاقہ ریڈ زون ہے، ریڈ زون کے آغاز پر پولیس کے ساتھ آنسو گیس کی شیلنگ کرنیوالی بکتر بند گاڑی بھی موجود تھی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ڈکٹیٹر پہلے صرف وزرائے اعظم کو گرفتار کرتے تھے انہیں پھانسی اور جلاوطنی کی سزا دی جاتی رہی مگر اب عدلیہ پر شب خون مار کر توہین آمیز سلوک کیا گیا ہے۔ کسی مہذب ملک میں چیف جسٹس اور 7ججوں کو نظربند اور محبوس رکھنے کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ جیو بھی بحال ہو گا، نواز شریف نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|