پرویز مشرف صدارت کا حلف 73ء کے آئین کے تحت اٹھائینگے، اٹارنی جنرل
پرویز مشرف صدارت کا حلف 73ء کے آئین کے تحت اٹھائینگے، اٹارنی جنرل
اسلام آباد (جنگ نیوز) اٹارنی جنرل جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ مدت کیلئے سویلین صدر کے عہدے کا حلف پی سی او کے تحت نہیں بلکہ 1973ء کے آئین کے تحت اٹھائیں گے اور وہ حلف اٹھانے سے قبل وردی اتار دیں گے۔ صدر کی اہلیت کے بارے میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ (آج) متوقع ہے۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ بھی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام پٹیشنز خارج ہو چکی ہیں، اب تحریری فیصلہ کا انتظار ہے۔ فیصلہ (آج) جمعہ کو متوقع ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن 6 اکتوبر کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ دستاویزات جمع کراؤں کہ صدارتی انتخاب سپریم کورٹ کے حکم کے تحت منعقد ہوئے تھے اس لئے توقع ہے کہ (آج) جمعہ کو فیصلہ آ جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخابات کے نتائج کا سرکاری نوٹیفکیشن اسی وقت جاری ہو سکتا ہے جب عدالت عظمیٰ صدر جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے کیس میں تحریری فیصلہ دے دے۔ سابق ججوں کی طرف سے مختلف مقدمات میں دیئے گئے احکامات کے بارے میں سوال پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مذکورہ احکامات اور فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ آئین اور عدالتی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔ جن ججوں نے پی سی او کے تحف حلف نہیں اٹھایا اب وہ جج نہیں رہے، وہ اب ریٹائرڈ جج کہلائیں گے اور کوئی جج ریٹائر ہونے کے بعد اس فیصلہ پر بھی دستخط نہیں کر سکتا جو اس نے ریٹائرمنٹ سے قبل تحریر کر رکھا ہو۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب آئین میں کوئی حل موجود نہ ہو تو کچھ ماورائے آئین اقدام اٹھانا پڑتے ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|