پختون مسلمان ،دہشت گرد اور تخریب کار نہیں امن پسند قوم ہے،اسفند یار
پختون مسلمان ،دہشت گرد اور تخریب کار نہیں امن پسند قوم ہے،اسفند یار
صوابی (نمائندہ جنگ) عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر اسفند یار ولی خان نے واضح کیا ہے کہ 8 جنوری 2008ء کا الیکشن گلی کوچوں کی پختگی، ایم این ایز یا ایم پی ایز بننے کا نہیں بلکہ اس الیکشن میں پختون قوم کی بقا کی جنگ لڑ کر دنیا کو ووٹ کی پرچی کے ذریعے اے این پی کے حق میں بھرپور فیصلہ کرکے دنیا کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ پختون مسلمان دہشت گرد، انتہاپسند اور تخریب کار ہرگز نہیں بلکہ امن پسند ہیں،وہ اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں اپنے بچوں کیلئے بندوق کی بجائے کتاب، کارتوس کی بجائے قلم اور خودکش جیکٹس کی بجائے اسکول یونیفارم چاہتے ہیں تاکہ ان کے بچّے اسکول جاکر سبق پڑھ سکیں۔ وہ پیر کے روز اسماعیلہ، نظربانڈہ، دھدبیان، یارحسین اور شیوہ میں بڑے انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے تھے ۔اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات محمد رشید ایڈووکیٹاور دیگرنے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر شاہ روم خان، محمد شفیع کونسلر اور علاقہ کی معروف سیاسی شخصیت احمد علی نے خاندان اور ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اسفند یار ولی خان نے شیرپاؤ عیدگاہ میں خودکش حملے اور اس میں 60 کے لگ بھگ بے گناہ مسلمانوں کی شہادت کی شدید مذمت کی اور اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام میں خودکش حملوں کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام بھائی چارے اور امن کا درس دے رہا ہے، پتہ نہیں کہ خودکش حملے کرنے والے لوگ کون سا اسلام چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چارسدہ خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایسے خاندان شامل تھے، جن کے گھروں سے دس دس جنازے بیک وقت اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ صوابی کے غیور پختون انشاء اللہ 8 جنوری کے الیکشن میں پیسوں کے بل بوتے پر الیکشن لڑنے والوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملکی سطح پر کپاس ،گنا کی بات ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس کا حق پنجاب کو حاصل ہے ، چاول اور گیس کی بات ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس کا حق سندھ اور بلوچستان کو حاصل ہے جب ہم اپنے صوبے کی بجلی، پانی، معدنیات، تمباکو کے حق کی بات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ اس کا اختیار مرکز کے پاس ہے اور پختونوں کے بچوں کے منہ سے چھینے گئے نوالے کی بات کرنے اور حق مانگنے پر ہمیں غدار قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز اور پنجاب نے ہمیں دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک نہ کی تو پختون اپنے حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ہم پاکستان میں برابری کی بنیاد پر رہنے کی بات کرتے ہیں، ہمارے صوبے کے وسائل کا اختیار صوبے کے پاس ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اگر 8 جنوری 2008ء کے الیکشن میں پختون قوم نے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرکے دنیا کو امن کا پیغام نہ دیا تو صوبے میں اتنی خونریزی ہوگی جس کا کوئی تصور نہیں کریگا۔ لہٰذا پختون مسلمان صوبے میں قیام امن کیلئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرکے اس خونریزی کو روکنے کیلئے ووٹ کی پرچی کے ذریعے اے این پی کے انتخابی نشان لالٹین کے حق میں اپنا فیصلہ کریں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|