واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاکستان کے کوئلے کے 60کھرب ڈالر کے ذخائر لٹ جانے کا خطرہ ،ارباب رحیم کے دور میں غیر معروف کمپنی کو ٹھیکا دے دیا گیا تھا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-02-08, 03:29 AM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,803
کمائي: 2,339,131
شکریہ: 17,797
12,253 مراسلہ میں 28,473 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default پاکستان کے کوئلے کے 60کھرب ڈالر کے ذخائر لٹ جانے کا خطرہ ،ارباب رحیم کے دور میں غیر معروف کمپنی کو ٹھیکا دے دیا گیا تھا

پاکستان کے کوئلے کے 60کھرب ڈالر کے ذخائر لٹ جانے کا خطرہ ،ارباب رحیم کے دور میں غیر معروف کمپنی کو ٹھیکا دے دیا گیا تھا

پاکستان کے کوئلے کے 60کھرب ڈالر کے ذخائر لٹ جانے کا خطرہ ،ارباب رحیم کے دور میں غیر معروف کمپنی کو ٹھیکا دے دیا گیا تھا
اسلام آباد(انصار عباسی)پاکستان کے سب سے بڑے کوئلے کے قدرتی ذخائر جنکی مالیت 60 کھرب ڈالر ہے، لٹ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ سندھ کے حکام پر اسلام آباد کی جانب سے سخت دباؤ ہے کہ وہ معمولی رقم کے عوض بغیر کوئی سرکاری نوٹس جاری کئیدیئے جانے والے اس ٹھیکے کو منسوخ کرنے کے آرڈر کو واپس لیں جو کہ ارباب رحیم کے دور میں ایک غیر معروف کمپنی کو دیا گیا تھا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ ایک نامعلوم کمپنی کو پورے صوبے کے کوئلے کے ذخائر کے ”خصوصی حقوق“ دیئے گئے تھے۔ اس کمپنی کا عالمی سطح پر معدنیات نکالنے یا تلاش کرنے کے حوالے سے کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اسے سندھ میں کوئلہ تلاش کرنے اور کول بیڈ میتھین (Coal bed Methane ) پیدا کرنے کا ٹھیکا دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کمپنی کو کئی برسوں تک کوئلے کے ان ذخائر کا واحد مالک بنا دیا ہے جنکی مالیت کا تعیّن نیپر ا نے 40 امریکی ڈالر فی ٹن کے حساب سے 60 کھرب ڈالرسے زائد کا کیا ہے۔اب یہ اندازہ لگانے پر کوئی انعام رکھنا چاہئے کہ ان ذخائر پربے قیمت اجارہ داری قائم کرنے کی اجازت دیئے جانے پر قومی خزانے کو کیاملا،وہ سمجھوتہ جو اب منسوخ کیاجا چکا ہے اس کے تحت سندھ کو سالانہ 15 ہزار ڈالرکے حساب سے چار سال تک لائسنس پر ادائیگی ہونا تھی ، معاہدے کی شرائط کے مطابق سندھ حکومت کو اس حوالے سے مستقبل قریب میں سندھ کے اندر کسی اور کمپنی کو کان کنی یا کوئلے سے متعلق کسی اور سرگرمی کی اجازت نہ دینے کا پابند کیا گیا تھا۔کان کنی اور معدنیا ت کے محکمے کے ایک ترجمان سے اس حوالے سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ یہ ٹھیکا منسوخ کر دیا گیا تھا،اس نے مزید انکشاف کیا کہ وہ نجی کمپنی اب حکومت کے اقدام پر سوال اٹھارہی ہے۔سندھ حکومت کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملک کے اندر براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھگانے اور سندھ میں کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کو الوداع کہنے کا بھرپور منصوبہ تھا۔اس عہدیدار نے مزید انکشاف کیا کہ اگر اس ٹھیکے کو بحال کر دیا گیا تو اس کے نتیجے میں دیگر تمام سرمایہ کاروں کو پہلے اس ٹھیکے کا انعام حاصل کرنے والی اس کمپنی” سونیری انرجی کمپنی لمیٹڈ “سے این او سی لینا ہوگا، مذکورہ کمپنی کینیڈا میں رجسٹرڈ ایک اور غیر معروف کمپنی میسرز کیتھی آئل اینڈ گیس کی ذیلی کمپنی ہے اور اس کمپنی نے پہلے تین برسوں میں محض 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے اور اسے اپنی فیزیبلٹی اسٹڈی میں مصروف دیگر سرمایہ کاروں کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری روکنے کے اختیارات ہونگے۔تھر میں کوئلے کے ذخائر کا تخمینہ 150 ارب ٹن ہے اور یہ سعودی عرب کے ایندھن کے تمام تر ذخائر سے زیادہ ہے۔ یہ عطیہ خداوندی دنیا بھر سے ہر قسم کے سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہا ہے۔ چینی، جرمن ، برطانوی، آسٹریلوی، امریکی اور مقامی سرمایہ کاروں سمیت تقریباً ہر کسی نے اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اگر تیل کی درآمدی لابی اتنی مضبو ط نہ ہوتی اور اس قدر اثرو رسوخ کی حامل نہ ہوتی کہ نیپرا پر اثر ڈال سکتی تو بہت بڑی تعداد میں معدنیا ت تلاش کرنے والی کمپنیاں پہلے ہی ان منصوبوں پر کام شروع کر چکی ہوتیں۔سونیری انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کی نمائند گی کرنے والے پرویز محمود سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس امر کی تردید کی کہ وہ اس ٹھیکے کی بحالی کیلئے اسلام آباد کے ذریعے سندھ حکومت پر دباؤ ڈلوارہے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک اس پر کام کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں تمام ضابطے کی کارروائیوں کے بعد ٹھیکا دیا گیا تھااور یہ کہنا غلط ہے کہ انہیں خصوصی حقوق دیئے گئے تھے۔سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب رحیم نے بھی اس منصوبے میں کسی کک بیک کے ہونے سے انکار کیاتاہم انہوں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ یہ ٹھیکا بغیر سرکاری نوٹس کے دیا گیا تھا، انہوں نے انکشاف کیا کہ کمپنی کے مالکان ان کے پاس آئے اور اپنی سروسز دینے کی پیشکش کی ، انہوں نے مزید بتایا کہ ابتداً وفاقی حکومت ہمیں یہ ٹھیکا جاری کرنے کی اجاز ت نہیں دے رہی تھی لیکن بعد ازاں وہ راضی ہوگئی۔تاہم ذرائع نے انکشاف کیا کہ محض60 ہزار ڈالر کے عوض چار برس تک اس بے پناہ دولت پر خصوصی حقوق رکھنے والی کمپنی کو اس عرصے کے بعد تلاش اور کان کنی کیلئے بالترتیب 9 اور 60 برس کیلئے لائسنسوں کے اجراء کی درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا، اس دوران سندھ حکومت کو یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ کسی اور کمپنی کو کوئلے سے متعلقہ کسی سرگرمی کی اجازت دے۔وزارت پٹرولیم اور معدنی ذخائر میں ایسے ذرائع موجود ہیں، جنہوں نے کمپنی اور حکومت سندھ کے مابین طے پانے والے سمجھوتے کا مسودہ دیکھ رکھا ہے، ان ذرائع نے موجودہ روایات، قواعد اور قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ٹھیکا ابتداء سے ہی غیر قانونی تھا۔وزارت نے اس سلسلے میں پہلا ایس آر او ستمبر 2006 میں جاری کیا، جس کے ذریعے صوبہ سندھ کو کول بیڈ میتھین نکالنے کی اجازت دینے کا اختیاردیا گیا تھا۔وزارت نے حکومت سندھ سے کہا کہ لائسنس حاصل کرنے والی کمپنیوں سے ان کے پروفائل اور پرفارمنس کی ضمانت لی جائے، منصوبے کے مسودے پر وزارت نے حکومت سندھ سے یہ بھی کہا کہ وہ کان کنی کے حوالے سے اپنے موجودہ قوانین و ضوابط کا نفاذ اس منصوبے میں کرے۔اس نے یہ مشورہ بھی دیا کہ ثالثی کے ایکٹ 1940 کو لاگو کیا جائے اور ثالثی کی جگہ پاکستان میں ہونی چاہئے، اس میں یہ بھی کہا گیاکہ کمپنی کے تجویز کردہ رائلٹی چارجز2.5 فیصد کے بجائے 12.5 فیصدچارجز لئے جائیں، اس میں یہ بھی کہا گیا کہ کمپنی کو 200 میٹر سے زیادہ گہرائی میں کان کنی کی اجازت نہ دی جائے۔وزارت نے اس سلسلے میں روایت کے مطابق وزارت دفاع سے سیکورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کا مشور ہ دیا تھا۔سندھ میں ارباب انتظامیہ نے عقلمندی پر مبنی ان نصیحتوں کو نظر انداز کر دیا جو کہ سندھ کے مفادات کے تحفظ کیلئے دی گئی تھیں اور جب ارباب انتظامیہ نے اس منصوبے پر دستخط کئے تو اس کا مقصد سندھ کے صوبائی مفادات کا بے رحم قتل تھا۔ تاہم ارباب رحیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں تمام قواعد و ضوابط پر عملدرآمدکیا تھا۔اس ٹھیکے کے تحت کمپنی کو صوبے کا پورا علاقہ مل گیا اور غالباً یہ تاریخ کا ریکار ڈ ہے کہ کسی بھی ایک کمپنی جس کا کوئی خاص پس منظر بھی نہ ہو، اسے کسی فیلڈ میں اتنا بڑا ٹھیکا دیا گیا ہو۔عام طور پر اس قسم کے لائسنس چند سو مربع کلومیٹر تک محدود ہوتے ہیں ،اور یہ اہتمام بھی اس وقت ہوتا ہے جب عالمی معیار کی کمپنیا ں کام کر رہی ہوں۔ علاوہ ازیں اس کمپنی کو جو ریٹ دیئے گئے ہیں،وہ قوانین میں دی گئی اجازت کے 20 فیصد سے بھی کم ہیں۔اس ٹھیکے میں کمپنی کو 2000 میٹر سے زیادہ گہرائی تک کھدائی کی اجازت دی گئی۔ رائلٹی بھی وزارت پٹرولیم کے تجویز کردہ ریٹ 12.5 کے بجائے 2.5 فیصد رکھی گئی۔ انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کو کاروباری ثالث رکھا گیا اور ثالثی کی جگہ بھی پاکستان میں رکھی گئی۔اور یہ سب کچھ محض 15 ہزار ڈالر کیلئے کیا گیا ، اس منصوبے پر کوئی پرفارمنس گارنٹیز بھی نہیں لی گئیں۔لیکن یہ ٹھیکا دینے سے پہلے ایس آر او جس میں پرفارمنس گارنٹیزطلب کی گئی تھی متعلقہ قوانین تبدیل کرنا تھے۔کمپنی اپنے آپ کو کسی بھی طرح پابند کرنا نہیں چاہتی تھی۔ وزارت پٹرولیم پر اتنا دباؤڈالا گیا کہ بالآخر فروری 2007 میں ایک نیا ایس آر او جاری کیا گیا جس میں نہ صرف ستمبر2006 کے ایس آر او کی شرائط واپس لے لی گئیں بلکہ ملک کے تمام قوانین اس معاہدے کے پیروکار بنا دیئے گئے۔کنٹریکٹ پرمارچ 2007 میں دسخظ ہوئے لیکن کمپنی شروع میں ہی کیپیٹل (رقم) کابندوبست نہ کر سکی اور یہ کئی ماہ تک کام کرنے میں ناکام رہی، اس پر وزارت اور سندھ کول اتھارٹی میں شامل ہر شخص نے اطمینان کی سانس لی، پھر بہت سے سرمایہ کاروں نے تھر کول منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیااور مفاہمت کی کچھ یادداشتوں پر بھی دستخط ہوئے، ایسا لگتا ہے جیسے کہ اب صوبہ سندھ کو اس منصوبے سے فائدہ پہنچے گا اور یہ اس سے بجلی حاصل کر سکے گا، ادھر پتہ چلا ہے کہ اس کمپنی کے نمائندے پھر سے وزارت کے گلیاروں میں پھرتے ہوئے نظرآرہے ہیں لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ سندھ کی موجودہ انتظامیہ اسلام آباد کا کوئی دباؤ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اور اس ٹھیکے کی منسوخی جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, وزیر, قواعد, نظر, موجودہ, منصوبہ, انتظامیہ, انعام, اعلیٰ, تلاش, خلاف, درخواست, شخص, ضوابط, صوبے, صوبائی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بلوچستان میں سونے کی کان کا ٹھیکہ غیر ملکی کمپنی کودینے کا اقدام سپریم کورٹ میں چیلنج جاویداسد خبریں 0 06-11-10 09:39 PM
قومی آبی پالیسی کی کنسلٹنسی کیلئے پاکستان نے کشن گنگا ڈیم تعمیر کرنیوالی کمپنی ٹھیکا دے دیا گلاب خان خبریں 1 30-08-10 03:43 AM
نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں غیر ملکی کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دفتر عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 08:19 AM
شاہراہ پاکستان کے تعمیراتی کام میں سست رفتاری پر ٹھیکیدار فرم بلیک لسٹ عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 10:41 AM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 09:45 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger