واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-08-07, 09:34 PM   #1
Senior Member
 
چاچا کمال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
کمائي: 7,524
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟

پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟

ایک پاکستانی سرمایہ کار نے کہا: ’پاکستان ایک بڑی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔‘
اس سے پہلے کہ آپ یہ نتیجہ نکالیں کے فاروق احمد کی مراد ملک کی سیاسی صورتحال ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔

مسٹر احمد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ان درجن بھر بین الاقوامی ماہرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملک کی سب سے بڑی نمائش ’آئی ٹی سی این 2007‘میں شرکت کی ہے۔

فاروق احمد کا کہنا تھا کہ ’ اگر آپ گزشتہ آٹھ نو برسوں پر نظر دوڑائیں تو آپ محسوں کریں گے کہ چین اور ہندوستان میں سرمایہ کاری کی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن اصل سرمایہ کاری اتنی زیادہ ہوئی نہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ رہی کہ سرمایہ کار اس بات کا اندازہ نہیں کر سکے کہ ان ممالک میں سرمائے کو کیا خطرات ہو سکتے ہیں۔‘

یہ صورتحال اس وقت بدلی جبکہ کچھ سرمایہ کاروں نے انڈیا اور چین میں سرمایہ کاری کی اور اس کے بعد نئی پرکشش کاروباری تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے زیادہ سرمایہ کاری ہونے لگی۔
فاروق احمد کو یقین ہے کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تیز ترقی کو مدنظر رکھیں تویہ کہانی یہاں بھی دہرائی جا سکتی ہے۔

تیز نمو

پاکستان سافٹ وئر ایکسپورٹ بورڈ کے اعدا وشمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں ہر برس انفارمیشن ٹیکنالبجی کی برآمد میں پچاس فی صد کا اضافہ ہوا ہے اور جون دو ہزار سات میں ختم ہونے والے مالی سال میں اس کی مالیت چالیس کروڑ ڈالر تھی۔

ان اعداد و شمار کو اگر آپ علاقائی تناظر میں دیکھنا چاہئیں تو اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ دو ہزار سات میں ختم ہونے والے مالی سال میں انڈیا کی آئی ٹی برآمدات کی مالیت تین ارب ڈالر تھی۔

قدرتی طور پر دونوں ممالک کی برآمدات کا مقابلہ کیا جائے گا لیکن پاکستان سافٹ وئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سربراہ اس سے پریشان نہیں ہیں۔ اشرف کپاڈیا کا کہنا تھا کہ ’ اس بات سے کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ انڈیا نے برآمدات سے ہم سے بیس گنا زیادہ رقم کمائی کیونکہ اس کی آبادی ہم سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔‘

اشرف کپاڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو جن وجوہات کی بناء پر برتری حاصل ہے ان میں کم قیمت ہونا اور خود کو ثابت کرنے کی خواہش شامل ہیں۔’ میری کمپنی، سسٹمز لمیٹڈ، کا ایک ذیلی دفتر بنگلور میں بھی ہے اور مجھے اسے چلانے کے لیے پاکستان کی نسبت تیس فی صد زیادہ پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اور چونکہ ہم زیادہ سے زیادہ ٹھیکے لینے کے لیے بے چین ہوتے ہیں اس لیے ہم وہ پیچیدہ کام بھی لے لیتے ہیں جو انڈین اور چینی کمپنیاں اس لیے نہیں لیتیں کہ ان میں زیادہ منافع نہیں ہوتا۔‘

گزشتہ چند برسوں کے دوران سسٹمز لمیٹڈ، ایٹیلیز اور ایل ایم کے جیسی کمپنیوں نے آئی بی ایم، این سی آر اور مینٹر گرافکس جیسی بین الاقوامی کپمنیوں کے ساتھ کام کرکے پاکستان کو آئی ٹی اور آئی ٹی سے چلنے والی سروسز کے لیے پاکستان کو پرکشش بنانے کے لیے شاندار کام کیا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ کہ اب کاروباری افراد کی ایک نئی نسل پر امید ہے کہ وہ اس کو اگلے مرحلے تک لیجا سکتی ہے۔

دس برس امریکہ گزارنے کے بعد واپس پاکستان آنے والے رشتے کے دو بھائیوں کی ’انوو 8‘ نامی کمپنی ایسی نئی کمپنیوں کی ایک اچھی مثال ہے۔

ان کی کمپنی کی نئی مصنوعات میں بِلوں کی ادائیگی کا ایک موبائل کمپیوٹر سسٹم ہے جسے پاکستان میں موبائل فون کا سب سے بڑا نظام موبی لِنک جلد ہی استعمال میں لانے والا ہے۔ موبی لنک کے صارفین کی تعداد تین کروڑ ہے۔

’انوو 8‘ کے ایک بانی اور کمپنی کے صدر بشیر شیخ کا کہنا تھا:’ میں اور میرے کزن حسنین امریکہ چھوڑنا چاہتے تھے اور دوستوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان میں کام شروع کرنے کے اچھے مواقع ہیں۔‘

چیلنج

تاہم بشیر شیخ کا مزید کہا تھا کہ ان کے لیے پاکستان میں ہنر مند افراد تلاش کرنا ایک چیلنج تھا۔ ’ ایسے افراد کی تلاش بڑا مسئلہ ہے جو آئی ٹی اور کاروباری صلاحتیوں کے یکساں مالک ہوں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے ملازمین کو خود تربیت دینا پڑی۔‘

’پاشا‘ کے اشرف کپاڈیا بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ فی الحال ہمارے ہاں اتنے ہی ہنر مند لوگ ہیں جو کہ اس صنعت کی ضرورت کے لیے کافی ہیں۔ اگر ہم اپنی موجودہ شرح نمو پر قائم رہتے ہیں تو آنے والے برسوں میں ہمیں پچیس ہزار افراد درکار ہوں گے۔ تقریباً دو ہزار ہمیں لاہور، کراچی اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں سے مل جائیں گے اور دو ہزار دیگر یونیورسٹیوں سے لیکن اس کے بعد بھی ہمیں دس سے پندرہ ہزار ہنر مند لوگوں کی ضرورت ہو گی۔‘

ہنر مند افراد کی کمی کے بعد دوسرا مسئلہ ملک کی شناخت یا امیج کا ہے۔ پاکستان کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر اویس احمد لغاری کا کہنا ہے: ’ میں جانتا ہوں کہ امریکہ میں جب بھی کوئی بڑا کاروباری شخص یہ کہتا ہے کہ میں پاکستان جا رہا ہوں اس کے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ عالمی ذرائع ابلاغ کو مانتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان کی گلیوں میں شدت پسند کلاشنکوفیں اٹھائے گھوم رہے ہوتے ہیں۔‘

مسٹر لغاری کا کہنا تھا کہ وہ اس امیج کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ’حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کاروبار کرنے کے لحاظ سے ایک اچھی اور محفوظ جگہ ہے۔ نئی سرمایہ کاری پر کوئی انکم ٹیکس نہیں ہے اور اگر آپ کاروبار ختم کر کے جانا چاہئیں تو یہ بھی مشکل نہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ لوگ جو پاکستان آچکے ہیں انہیں گلیوں میں کلاشنکوف بردار شدت پسند بھی نظر نہیں آئے ہوں گے۔‘

مسٹر لغاری کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے سرکاری یونیورسٹیوں کی مالی امداد میں تین گنا کا اضافہ کر دیا ہے اور اس کے علاوہ ’ ہم سافٹ وئر کپمنیوں کی بھی معالی اعانت کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے لوگوں کی تربیت کر سکیں۔‘

ان تمام کوششوں کے ثمرات ظاہر ہونے میں شاید کچھ سال لگ جائیں۔ دریں اثناء پاکستان کی سافٹ وئر کمپنیاں اپنے ملازمین کی تربیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور ان کا دوسرا ہدف پاکستان کو آئی ٹی کے شعبے میں ثابت کرنا ہے۔

یہ کمپنیاں پُرامید ہیں کہ انڈیا اور چین میں آئی ٹی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے اخراجات بین الاقوامی کمپنیوں کی نظر میں پاکستان کو زیادہ پرکشش بنائیں گے۔ اس سلسلے میں ’پاشا‘ کے اشرف کپاڈیا کا کہنا تھا: ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ان کمپنیوں کا پہلا انتخاب بن جائے۔ ہم انڈیا اور چین کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور ہم اس قابل ہیں کہ بین الاقوامی کمپنیوں کو اسی معیار کا کام کم قیمت میں کر دیں۔‘

’صحیح سرمایہ کاری اور فضا سازگار رہے تو ہمیں اس طرح ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا جیسی کہ اس عشرے کے ابتدائی برسوں میں انڈیا اور چین نے کی ہے۔‘
چاچا کمال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-08-07, 09:58 PM   #2
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,483
شکریہ: 0
560 مراسلہ میں 1,026 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میرے خیال سے پاکستان اب آئی ٹی کی فیلڈ میں بہت سے ممالک سے آگے ہے جو کہ ایک خوش آئین بات ہے
__________________
[SIGPIC][/SIGPIC]
زبیر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کمپیوٹر, کراچی, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیر, لوگ, چین, نظر, موبائل, موجودہ, مقابلہ, آبادی, انفارمیشن ٹیکنالوجی, امریکہ, اسلام, تلاش, جلد, رشتے, سافٹ, سال, شہر, شناخت, شخص, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پښتو لیكلو كښے ګرانی؟ - پشتو لکھنے میں دشواری؟ محبوب عالم پشتو فورمز 2 07-01-12 07:07 PM
شہباز شریف پاکستانی ہیں یا پنجابی؟ شریف خبریں 19 10-07-10 03:14 PM
ڈیرہ بگٹی:شہر ہے یا چھاؤنی؟ حیدر بلوچی فورمز 0 20-10-09 04:31 PM
پاکستان: آئی ٹی کی دنیا کا اہم کھلاڑی؟ پاکستانی خبریں 1 17-08-07 09:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger