ٹی وی اور اخبارات کے مالکان کو قتل اور ان کے دفاتر کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں
ٹی وی اور اخبارات کے مالکان کو قتل اور ان کے دفاتر کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں
کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) نے پریس قوانین میں کی جانے والی حالیہ ترامیم اور ان کے تحت اخبارات کو جاری کردہ نوٹسوں کی فوری منسوخی کامطالبہ کیا ہے۔ اے پی این ایس نے کہا ہے کہ حالیہ بحران سے نکلنے کیلئے حکومت کیساتھ مذاکرات، ان ترامیم کی منسوخی اور نوٹسوں کی واپسی سے مشروط ہوں گے، اے پی این ایس کی مجلس عاملہ نے اے پی این ایس کے صدر کو لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لئے ایکشن کمیٹی کے قیام کے اختیارات دے دیئے ہیں۔ اے پی این ایس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مجلس عاملہ کے منعقدہ ہنگامی اجلاس میں ایمرجنسی کے بعد پریس قوانین میں کی جانیوالی ترامیم کو مسترد کردیا گیا ہے کیونکہ ان سیاہ قوانین کو پاکستان کی سول سوسائٹی اور میڈیا کو خاموش کرنے اور آزادی صحافت کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے اے پی این ایس کے صدر کو اس بات کا اختیار بھی دیا ہے کہ کسی بھی اخبار کیخلاف حکومتی کارروائی کی صورت میں تمام اخبارات ایک روزہ ہڑتال کریں گے۔ اے پی این ایس کے صدر کو فوری طور پر پریس رائٹس سیکریٹریٹ قائم کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے جو اخبارات کے خلاف تشدد، دھمکیوں اور خوفزدہ و ہراساں کرنے کی کوششوں کی مانیٹرنگ کرے گا اور اس سلسلے میں بین الاقوامی میڈیا برادری کے ساتھ مل کر فوری ایکشن لے گا۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا ہے کہ آزادی صحافت کے حصول کے لئے عالمی سطح پر ایک مہم چلائی جائے گی۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ کالے پریس قوانین کے نفاذ سے اس دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں پریس کو آزادی ملی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پریس ریگولیشن آرڈی نینس2002ء میں کی جانے والی ترامیم کے تحت ضلعی انتظامیہ کو پریس ڈیکلریشن منسوخ کرنے کے صوابدیدی اختیارات دے دیئے گئے ہیں جس کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر 30/ یوم کے لئے اخبارات کی ڈیکلریشن معطل کی جاسکتی ہے اور یہ کالے قوانین صدر جنرل ایوب خان کے دور سے بھی کہیں زیادہ سخت اور سفاکانہ ہیں۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کو مبینہ طور پر طالبان کی جانب سے ملنے والی دھمکی آمیز خط کی شدید مذمت کی جس میں جنگ اور جیو کے دفاتر کو بم سے اڑادینے کی دھمکی دی گئی ہے، اجلاس میں کہا گیا کہ یہ غلط فہمی پر مبنی حرکت ہے کیونکہ اخبارات کسی طور پر آزادی اظہار کے حقوق کے سلسلے میں اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے۔ اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ حکومت فوری طور پر اخباری مالکان اور میڈیا کے افراد کی حفاظت کے لئے فول پروف اقدامات کرے تاکہ انہیں جان و مال کا تحفظ حاصل ہوسکے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ گزشتہ دنوں کے دوران پولیس نے میڈیا سے تعلق رکھنے و الے لوگوں کو گرفتار کیا اور انہیں ہراساں کرنے کے لئے اخبارات بالخصوص جنگ کے دفاترپر چھاپے مارے اور شام کے اخبار عوام کی کاپیاں ضبط کرلیں اور روزنامہ اوصاف سمیت دیگر اخبارات کو نوٹس بھی دیئے گئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت نے قومی اخبارات کی خبروں کو مانیٹر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان اقدامات کے باعث اخباروں کی اشاعت اور عوام تک اطلاعات کی رسائی مشکل بنادی گئی ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ پرنٹ میڈیا کسی طور پر آزادی صحافت کے قوانین کی منسوخی کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ یہ آزادی بہت قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کی گئی ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|