| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
امریکہ اور برطانیہ کے دو بڑے اخبارات کے مطابق انٹرنیٹ پر خفیہ معلومات جاری کرنے والے ویب سائٹس وکی لیکس افغانستان میں امریکی فوج کی نوے ہزار سے زائد خفیہ معلومات منظرِ عام پر لائی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ امریکی فوج کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں خفیہ معلومات منظرعام پر آئی ہیں۔ امریکہ نے خفیہ معلومات منظر عام پر لانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیا۔ برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وکی لیکس نے خفیہ معلومات پر مبنی دستاویزات انھیں اور ایک جرمن ہفت روزہ در شپیگل کو دکھائی ہیں۔ جرمن اخبار در شپیگل اور نیو یارک ٹائمز نے ویکی لیکس میں پاکستان کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی طرف سے بارہا یقین دہانیوں کے طالبان کے ساتھ تعلقات ختم کردیے گئے ہیں پاکستان نے تعلقات ختم نہیں کیے ہیں۔ امریکہ، افغانستان اور پاکستان سٹریٹیجیک اتحادی ہیں اور تینوں فوجی اور سیاسی طریقے سے القاعدہ اور اس کی اتحادی طالبان کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں حسین حقانی خفیہ ڈائری کے مطابق ایک طرف تو پاکستان امریکہ کا حلیف بن کر سامنے آ رہا ہے اور دوسری جانب طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ تاہم پاکستان کے ایوانِ صدر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منظر عام پر آئی معلومات یک طرفہ ہیں جن کی کبھی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ’اس قسم کی رپورٹیں پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے، ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور خطے میں استحکام کو کوششوں سے روک نہیں سکتیں۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جمہوری حکومت کو پاکستان فوج پر پورا اعتماد ہے وہ ملکی قومی پالیسی کے مطابق کام کر رہی ہے۔ منظر عام پر آئی دستاویزات کے مطابق افغاستان سے باہر پاکستان کی خفیہ ایجنسی طالبان کے سب سے بہترین ساتھی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز، امریکنوں اور ان کے حمائتیوں کے خلاف جنگ پاکستان ہی سے لڑی جا رہی ہے۔ جرمن اخبار ویکی لیکس دستاویزات کے حوالے سے لکھتا ہے کہ طالبان کے لیے پاکستان محفوظ پناہ گاہ ہے۔ نئے رنگروٹ پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جن میں عرب، چیچن، ازبک اور یورپی مسلمان شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق جنگجوؤں کے اجلاس میں آئی ایس آئی کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں اور خاص احکامات بھی جاری کرتے ہیں۔ ویکی لیکس کے مطابق ’ان احکامات میں افغان صدر حامد کرزئی کو ہلاک کرنے کی کوشش بھی شامل ہے۔‘ اخبارات کے مطابق منظر عام پر لائی جانے والی معلومات میں افغان جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنھیں پوشیدہ رکھا گیا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ ’غیر اندراج شدہ اطلاعات‘ موجودہ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’امریکہ، افغانستان اور پاکستان سٹریٹیجیک اتحادی ہیں اور تینوں فوجی اور سیاسی طریقے سے القاعدہ اور اس کی اتحادی طالبان کو شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ تازہ تنازعہ ویکی لیکس میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل کا ذکر ان کا نام لے کر کیا گیا ہے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان رپورٹوں میں جتنی مرتبہ ان کا نام آیا ہے اس سے لگتا ہے کہ پاکستانی فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کو ان میں سے چند کا علم ضرور ہوگا۔ کلِک ’ویکی لیکس نہیں بلکہ ویکیڈ لیکس ہیں‘ ان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں یہ کہ وہ حکمت یار اور جلال الدین حقانی نیٹ ورکس کی دوبارہ بحالی کی کوششیں، جنوری دو ہزار نو میں وانا کا دورہ تاکہ القاعدہ کے رہنما الکنی کی ڈرون حملے میں ہلاکت کا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کی جائے اور یہ کہ وہ طالبان کو پاکستان کی بجائے افغانستان پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ منظرعام پر لائی گئی معلومات کے مطابق طالبان کو ہوائی جہاز گرانے والے میزائلوں (ہیٹ سیکنگ) تک رسائی حاصل تھی۔ امریکی فوج کا ایک خفیہ مشن شدت پسندوں کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی مشن پر ہے۔ اخبارات کے مطابق خفیہ دستاویزات میں نیٹو نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور ایران افغانستان میں طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔ اخبارات کے مطابق افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ریکارڈ پر مبنی یہ معلومات افغان جنگ کی خفیہ دستاویزات ہیں۔ یہ معلومات میدان میں موجود جونیئر افسران نے مہیا کی ہیں جو بعد میں پالیسی سازی کے عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔ اخبارات کے مطابق منظر عام پر لائی جانے والی معلومات میں افغان جنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جنھیں پوشیدہ رکھا گیا۔ یہ شہری طالبان کی جانب سڑک کے کنارے نصب بم اور نیٹو کی ناکام کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ طالبان رہنماوں کے خلاف امریکی فوج کی خفیہ کارروائیوں کی تفصیل شامل ہے۔ منظرعام پر لائی گئی معلومات کے مطابق طالبان کو ہوائی جہاز گرانے والے میزائلوں (ہیٹ سیکنگ) تک رسائی حاصل تھی۔ امریکی فوج کا ایک خفیہ مشن شدت پسندوں کی اعلیٰ قیادت کو ہلاک یا گرفتار کرنے کی مشن پر ہے۔ بی بی سی کی سفارتی امور کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ دستاویزات میں چونکا دینے والی معلومات نہیں ہیں لیکن اس سے افغان جنگ کی مشکلات اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ ایسی خفیہ معلومات، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، اور اس سے ہماری قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے جیمز جونز امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ ایسی خفیہ معلومات، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، اور اس سے ہماری قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ منظرعام پر لائی گئی دستاویزات سال دو ہزار چار سے سال دو ہزار نو تک کی ہیں اور اس وقت تک صدر براک اوباما نے افغانستان کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے بیان کے مطابق پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے ’دہشت گردوں کے خلاف اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا عمل جاری رکھیں۔‘ دوسری جانب ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ وکی لیک کی جانب سے جاری ہونے والی ان دستاویزات میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ’ہم آئی ایس آئی اور پاکستان میں محفوظ مقامات ہیں کے بارے میں کئی بار کہہ چکے ہیں۔‘ اہلکار کا کہنا ہے کہ منظر عام پر لائی گئی دستاویزات جنوری دو ہزار چار سے دسمبر دو ہزار نو تک کے ہیں۔ ’اور یہ وہ عرصہ ہے جس کے بعد امریکی صدر اوباما نے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔‘ وکی لیکس معلومات تک رسائی کی آزادی کے لیے کام کرتی ہے اور اس حوالے سے مختلف ویڈیوز ویب سائٹ پر نشر کرتی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــ بی بی سی۔
__________________
http:// haroonazam.wordpress.com ھارون اعظم کا بلاگ۔ |
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (28-07-10), Nasiwise (27-07-10), محمدمبشرعلی (31-07-10), مرزا عامر (27-07-10), معظم (27-07-10), جاویداسد (27-07-10), عبداللہ آدم (27-07-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,777
کمائي: 45,251
شکریہ: 2,024
1,907 مراسلہ میں 6,371 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم،
ویکی لیکس نے بہت ساری ایسی باتیں بھی لیک کی ہیںجو بی بی سی کے چاہنے والوں کے خلاف ہیں اور جس پر حکومت اور محکمہ دفاع بہت ناراضہے، لیکن بی بی سی اور دوسرے مغربی میڈیا کے پاس "ہاٹ کیش" آئیٹم پاکستان اور طالبان کا اتحاد ہے، سو اسی طرح کی شہہ سرخیاں ان کی زینت رہیں گی۔ والسلام طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 48,863
شکریہ: 2,418
1,901 مراسلہ میں 5,647 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اچھی شیئرنگ کرنے پر مبارک باد وصول کریں
|
|
|
|
| جاویداسد کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (27-07-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
یہ ایک انتہائی اہم خبر ہے مگر تعجب ہے کہ پاک نیٹ پہ اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دی جا رہی
__________________
![]() |
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,149
شکریہ: 26,780
3,502 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آج سب حلوے میں مصروف ہیں بھائی- صرف اس خبر کو ھی نہیں کہیں پر بھی مراسلات نہیں آ رھے۔ خلافت ملوکیت جیسے تھریڈ بھی مصروف نہیں ہیں آج۔
__________________
اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمھیں چھوڑ دے توکون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیئے اٰل عمران 160 |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
ہم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہیں ؟ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے Nasiwise کا شکریہ ادا کیا | جاویداسد (28-07-10), عبداللہ آدم (29-07-10) |
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ یہ ویکی لیکس نہیں بلکہ ’ویکڈ (بغض پرور) لیکس‘ ہیں۔ یہ خفیہ معلومات نہیں بلکہ افسانہ ہے جسے فروخت کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹیں فراڈ ہیں۔ ان کی صحت انتہائی مشکوک ہے۔ یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ امریکہ نے خفیہ معلومات کے حصول کے لیے افغانستان میں سویلین کنٹریکٹرز رکھے ہیں جو ڈالرز کے بدلے معلومات دیتے ہیں۔ انہوں نے پیسہ کمانا ہے اور اس لیے انہوں نے اکانوے ہزار لوگوں کی رپورٹیں بھیج دی ہیں۔ ’یہ خفیہ معلومات نہیں بلکہ غلط معلومات ہیں۔ یہ اوباما کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ اتنی بڑی تعداد میں رپورٹس میں سے اکثر اگر غلط ہوں لیکن کچھ تو درست بھی ہوسکتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عراق میں بھی امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے حلف کے اندر وسیع پیمانے کے ہتھیاروں کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔ ’ساری دنیا جھوٹ بولے تو جھوٹ سچ تو نہیں ہوسکتا ہے۔‘
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 625
کمائي: 11,683
شکریہ: 0
344 مراسلہ میں 656 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
يہ بات خاصی مضحکہ خيز ہے کہ بعض تجزيہ نگار وکی ليک رپورٹس کے منظرعام پر آنے کی خبر کو پاکستان فوج اور آئ – ايس – آئ کو بدنام کرنے کی نئ امريکی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ حقيقت يہ ہے کہ وکی ليک کی جانب سے جو دستاويزات پوسٹ کی گئ ہيں وہ جنوری 2004 سے لے کر دسمبر 2009 تک کی ہيں۔ اس لحاظ سے يہ رپورٹس کسی بھی طرح سے دونوں ممالک کی فوجی قيادتوں کے درميان موجودہ تعلقات کی آئينہ دار نہيں ہيں۔ ميں آپ کو ياد دلا دوں کہ 1 دسمبر 2009 کو صدر اوبامہ نے نئ پاليسی کا اعلان کر کے افغانستان ميں وسائل ميں خاطر خواہ اضافہ کيا تھا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان ميں القائدہ اور طالبان کے محفوظ ٹھکانوں پر مزيد توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور ديا تھا۔ اس کی وجہ وہ خطرناک صورت حال تھی جو گزشتہ کئ برسوں ميں مزيد ابتر ہو چکی تھی۔
ميں يہ واضح کر دوں کہ امريکہ آئ – ايس –آئ پر حملے کی پاليسی پر عمل پيرا نہيں ہے۔ حقیقت يہ ہے کہ امريکہ آئ – ايس – آئ سميت پاکستان کی بہت سے ايجينسيوں کے ساتھ دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کے خاتمے کے ليے کی جانے والی بہت سی کوششوں کے ضمن ميں مل کر کام کر رہا ہے۔ گزشتہ سوا سال کے عرصے ميں پاکستان ميں اس حقيقت کا ادراک ہوا ہے کہ وہ دہشت گرد جو پاکستان ميں محفوظ پناہ گاہوں ميں چپھے ہوۓ تھے وہ خود پاکستان کے ليے خطرہ بن چکے ہيں۔ اس ضمن ميں مزيد اقدامات کے لیے ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہ ہيں تا کہ امريکہ اور پاکستان کو درپيش دہشت گردی کے خطرات کا خاتمہ کيا جا سکے۔ ان رپورٹس کی غير ذمہ دارانہ اشاعت سے امريکہ کے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ گہرے مراسم کے عزائم پر کوئ اثر نہيں پڑے گا تا کہ اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دے کر دونوں ممالک کے عوام کی خواہشات کو پورا کيا جا سکے۔ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov U.S. Department of State |
|
|
|
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | جاویداسد (28-07-10) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد کہہ دیا تھا کہ نائن الیون بہانا تھا
افغانستان ٹھکانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | ARHAM (28-07-10), محمدمبشرعلی (31-07-10), مرزا عامر (27-07-10), معظم (27-07-10), طاھر (27-07-10), عبداللہ آدم (29-07-10) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 3,902
کمائي: 73,149
شکریہ: 26,780
3,502 مراسلہ میں 11,251 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() ![]() ![]() ![]()
|
|
|
|
|
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 48,863
شکریہ: 2,418
1,901 مراسلہ میں 5,647 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
0000000000000000000000000000000000000
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 48,863
شکریہ: 2,418
1,901 مراسلہ میں 5,647 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
00000000000000000000000000000000
|
|
|
|
| جاویداسد کا شکریہ ادا کیا گیا | ھارون اعظم (31-07-10) |
|
|
#13 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,903
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ ویکی لیکس نہیں بلکہ ’ویکڈ (بغض پرور) لیکس‘ ہیں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,294
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,162 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل نے و کی لیکس کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
حمید گل کا کہناہے کہ یہ وکی لیکس نہیں بلکہ ’ویکڈ (بغض پرور) لیکس ہیں۔میں چونکہ امریکا کی کمزوریاں اور غلطیاں جانتا ہوں اس وجہ سے مجھے بار بار ہدف بنایا جاتا ہے۔ یہ خفیہ معلومات نہیں بلکہ افسانہ ہے جسے فروخت کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹیں فراڈ ہیں۔ ان کی صحت انتہائی مشکوک ہے۔ یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ امریکا نے خفیہ معلومات کے حصول کیلئے افغانستان میں سویلین کنٹریکٹرز رکھے ہیں جو ڈالرز کے بدلے معلومات دیتے ہیں۔ انہوں نے پیسہ کمانا ہے اور اس لیے انہوں نے 91 ہزار لوگوں کی رپورٹیں بھیج دی ہیں۔یہ خفیہ معلومات نہیں بلکہ غلط معلومات ہیں۔ یہ اوباما کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی کوشش ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ اتنی بڑی تعداد میں رپورٹس میں سے اکثر اگر غلط ہوں لیکن کچھ تو درست بھی ہوسکتی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ عراق میں بھی امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے حلف کے اندر وسیع پیمانے کے ہتھیاروں کے بارے میں جھوٹ بولا تھا۔ ساری دنیا جھوٹ بولے تو جھوٹ سچ تو نہیں ہوسکتا ہے۔ جنرل حمید گل کا کہنا تھا کہ انہوں نے 11 ستمبر کے واقعات کے بعد کہہ دیا تھا کہ نائن الیون بہانا تھا، افغانستان ٹھکانہ ہے اور پاکستان نشانہ ہے۔ امریکا کو خوش کرنے کی اس وقت کی پالیسی کا یہ نیتجہ ہے۔ وہ ہمیں قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں۔پاکستان کو اگر امریکا اہم حلیف کہتا ہے تو آخر اسے کیوں قربان کرنے پر تلا ہی؟ جنرل حمید گل کا سوال تھا کہ جنرل کیانی کی توسیع پر امریکا میں خوشی منائی گئی لیکن 2004ءسے 2009ءتک کے دور کی خفیہ رپورٹوں کا ذکر کیوں کوئی نہیں کرتا؟ ’امریکی فوجی رہنما مائیک مولن اور جنرل پیٹریاس کہہ چکے ہیں کہ جنرل کیانی ان کے ساتھی ہیں۔انہوں نے جلال الدین نیٹ ورک کی بحالی کی تردید کرتے کہا کہ امریکی حقانی کو طالبان سے الگ دیکھتے ہیں جبکہ وہ اس کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا انہیں اس لیے نشانہ بناتا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اسے افغانستان میں شکست ہوگی۔ یہ بری طرح وہاں بدعنوانی میں ملوث ہیں، ان کے فوجی طیاروں میں منشیات امریکا جا رہی ہیں اور تعمیراتی ٹھیکے مہنگے دیتے ہیں۔ افغان عوام انہیں پسند نہیں کرتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں اپنا بھی بیڑا غرق کر رہے ہیں اور پاکستان کا بھی۔ اقتباس:
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں آؤ۔۔۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا | جاویداسد (28-07-10), عبداللہ آدم (29-07-10) |
|
|
#15 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
اقتباس:
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جو بھی افغانستان کے ساتھ پنگا لیتا ہے اودے نال چنگا نئیں ہندا۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| کوشش, کوششوں, گئی, پاکستان, پاکستانی, ویب, وقت, موجودہ, منصوبہ, مسلمان, world, آزادی, ایران, انٹرنیٹ, امریکہ, اعلیٰ, بہترین, خلاف, روزہ, سال, طالبان, علم, عائد, عرصہ, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ | جاویداسد | خبریں | 2 | 04-10-10 02:20 PM |
| ُپاکستان کو دھمکی دینے والا انڈین آرمی چیف بہرا نکلا | ڈاکٹرنور | گپ شپ | 11 | 30-01-10 11:11 PM |
| پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز میں انتظامیہ کا رویہ | عرفان حیدر | تجاویز اور شکایات | 3 | 29-07-08 08:12 PM |
| الیکشن سے قبل طویل قیام کیلئے 14 رکنی مبصر مشن اگلے ہفتے پاکستان آئیگا، امریکی سفیر | خرم شہزاد خرم | خبریں | 1 | 26-10-07 02:06 PM |