وزیر اطلاعات دھمکیاں نہ دیں ور نہ بغاوت شر وع ہو جائیگی ،اے پی ڈی ایم
وزیر اطلاعات دھمکیاں نہ دیں ور نہ بغاوت شر وع ہو جائیگی ،اے پی ڈی ایم
وزیر اطلاعات دھمکیاں نہ دیں ور نہ بغاوت شر وع ہو جائیگی ،اے پی ڈی ایم
فیصل آباد(نمائندہ جنگ)اے پی ڈی ایم نے کہا ہے کہ ہم الیکشن کے مخالف نہیں بلکہ 18 فروری کو ہونیوالے فراڈ الیکشن کا بائیکاٹ کیاہے کیونکہ یہ جمہوریت کیلئے آمریت کی مضبوطی کا باعث بنے گا جو سیاسی جماعتیں ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں،وہ آمریت کی مضبوطی میں شریک جرم ہونگی،انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں آزاد عدلیہ نہیں چاہتیں کیونکہ یہ ان کے مفادات کے بھی خلاف ہے، وفاقی وزیراطلاعات 3 نومبر کی صورتحال پیدا کرنے کی دھمکیاں نہ دیں اب ایسا ہوا تو ملک میں بغاوت شروع ہو جائیگی،صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان خیالات کا اظہار قاضی حسین احمد، محمود خان اچکزئی، عمران خان، لیاقت بلوچ، عبدالحئی بلوچ، عابد حسن منٹو اور اے پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں نے دھوبی گھاٹ گراؤنڈ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ ناانصافی کی وجہ سے صوبوں میں نفرتیں جنم لے رہی ہیں اور بلوچستان، سرحد اور سندھ میں علیحدگی پسند تحریکیں نہیں حقوق کے حصول کیلئے جدوجہد چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسلام کے نام کو ہمیشہ ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیاجاتا رہا ہے جب تک عوام کا اقتدار نہیں ہوگا، اس وقت تک استحصالی نظام ختم نہیں ہوسکے گا، 3 نومبر کو عدلیہ کا بحران پیدا کرنا انقلاب کا آغاز ہے، دوبارہ حکومت دھمکیاں دے رہی ہے، مگر اب عوام دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے۔امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا کہ وزیراطلاعات 3 نومبر کی دھمکی کا مطلب واضح کریں اور بتائیں کہ یہ دھمکی پرویز مشرف کی طرف سے ہے یا ملک میں نئی ایمرجنسی یا مارشل لا لگانے کا اشارہ ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا نے حکمرانوں کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے اسرائیل کو معلومات دینے کی ذمہ داری سونپی ہے اور اسرائیلی وزیر دفاع سے یہی باتیں ہو رہی ہیں ۔امریکہ کے مفاد میں ہے کہ فوج اور عوام کو لڑایا جائے اور پاکستانی حکمران اس کی مرضی کے مطابق یہ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پرویز مشرف مستعفی اور ججز بحال نہیں ہوتے تب تک الیکشن میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ غلط اور فرسودہ نظام کو بچانے کیلئے انتخابات ہو رہے ہیں جب تک ججوں کو بحال اور آزاد عدلیہ کو یقینی نہیں بنایا جاتا، انصاف کی امید بھی قائم نہیں کی جاسکتی، اس وقت عدالتیں حکومت کا حصہ بن چکی ہیں جو ان کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 18 فروری کے الیکشن کے بعد 19 فروری سے ملک بھر میں عوامی تحریک شروع ہو جائیگی، ہم انتخابات سے پہلے تحریک شروع کر چکے ہیں بہت سی جماعتیں ریکارڈ دھاندلی کا سامنا کرنے کے بعد ہمارے ساتھ شامل ہونگی۔عمران خان نے کہا کہ ق لیگ کی حکومت نے پانچ سال میں مسلسل جھوٹ بول کر واقعی ایک ریکارڈ قائم کیا ہے، ملک میں 250 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کا شور مچا کر عوام کو دھوکہ دیا گیا حالانکہ ملک بھر میں صرف 13 ارب روپے کے ترقیاتی کام ہوئے جبکہ اسلام آباد کا ترقیاتی بجٹ 22 ارب روپے ہے۔ عبدالحئی بلوچ نے کہا کہ حکومت اپنے لوگوں پر ہی گولیاں برسا کر سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے،اب عوام چاہیں گے تو آمریت کا خاتمہ ہوگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ عوام حکمرانوں اور غلط نظام کے خلاف سڑکوں پر آٰجائیں۔ اس موقع پر عابد حسن منٹو، لیاقت بلوچ، حیدر ملاح، محمد فاروق طارق احسن رشید، سردار ظفر حسین خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|