ن لیگ کے منشور کا اعلان ،تمام جج بحال،خصوصی عدالتیں اور صوابدیدی اختیارات ختم ، مہنگائی کنڑول اور میڈیا کو آزاد کیا جائیگا،نواز شر یف
ن لیگ کے منشور کا اعلان ،تمام جج بحال،خصوصی عدالتیں اور صوابدیدی اختیارات ختم ، مہنگائی کنڑول اور میڈیا کو آزاد کیا جائیگا،نواز شر یف
لاہور (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 21 نکات پر مشتمل پارٹی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام معزول ججوں کو بحال، خصوصی عدالتوں اور صوابدیدی اختیارات ختم، مہنگائی کو کنٹرول اور میڈیا کو آزاد کیا جائے گا، کم از کم تنخواہ 6 ہزار روپے کی جائے گی، مزدوروں کو تحفظ دیا جائیگا، ججز میرٹ پر مقرر کیے جائینگے، کابینہ کا سائز کم کرکے سینیٹ میں اقلیتوں کی نشستیں بڑھائی جائینگی، تعلیم و صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دی جائے گی۔ منشور کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارٹی قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنی قیام گاہ ماڈل ٹاؤن میں پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف ، مرکزی رہنما سرتاج عزیز ، اسحاق ڈار ، صدیق الفاروق اور دیگر بھی موجود تھے ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ بینظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمن میرے ساتھ عہد نامے پر دستخط کریں کہ وہ پارلیمنٹ میں صدر پرویز کے غیر آئینی اقدامات کی حمایت نہیں کرینگے۔ تفصیلات کے مطابق منشور میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سمیت تمام ججز کو بحال ، 73ء کا آئین بحال، انسداد دہشتگردی اور احتساب کے لیے قائم خصوصی عدالتیں ختم کرکے مقدمات قانون کی عام عدالتوں میں منتقل ، کارگل بحران کی جوہات اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے کمیشن کا قیام ، گزشتہ دو دہائیوں میں نمائندہ حکومتوں کا غیر قانونی تختہ الٹنے کی جوہات جاننے ، تشدد ، غیر قانونی قید، حکومت کی ایما پر اذیت رسانی ، مخصوص منفی مفادات کے تحت کی گئی قانون سازی اور سیاسی بنیادوں پر کیے جانے والے احتساب کے بارے میں اپنی معلومات اور ازالے کے لیے سفارشات پر مبنی رپورٹ حکومت کو پیش کرتے ہوئے ایک کمیشن قائم کیا جائے گا ۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ کا سائز چھوٹا کر دیا جائے گا جب کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے گا ۔ پارٹی منشور میں کہا گیا ہے کہ ملک میں فوجی مداخلت سے پاک مستحکم جمہوری نظام قائم کیا جائے گا ، پارلیمینٹ کی بالادستی ، قانون کی پابندی ، انتظامیہ اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا جائے گا اس کے علاوہ ایک صحتمند اور متحرک اکانومی کے ذریعے امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا ہوا فرق کم اور بیروزگار کو روزگار فراہم کیا جائے گا ۔ معیاری تعلیم عام کرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اور سیکنڈری اسکول تک قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی کے منشور میں وسیع البنیاد اور زندگی کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے قوم کو درپیش چینلجز کا سامنا کرنے اور قومی مصالحت ، ڈائیلاگ اور اتفاق رائے حاصل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ منشور میں اچھی حکمرانی قائم کرنے کے لیے اور ملازمین کو ملازمتوں کا تحفظ دینے ، نیب کی اصلاح کرکے قائد حزب اختلاف کے مشورے سے اس کا چیئرمین مقرر کیا جائے گا ، فوج کو احتساب کے دائرے میں لایا جائے گا اور مسلح افواج کو سیاست سے نکال کر صحیح پیشہ ور فوج بنایا اور اس کی عزت و وقار کو بحال کیا جائے گا۔منشور میں 2008ء سے کم از کم بنیادی تنخواہ 6ہزار کرنے ، محنت کشوں سے متعلق قوانین کو آئی ایل او کنونشن کے مطابق کیا جائے گا ، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم اقتصادی پالیسی نافذ کی جائیگی ، دل کے امراض ، ہیپاٹائٹس اور ایڈز کے علاج کے لیے تحصیل کی سطح تک علاج کی مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی بزرگ شہریوں کو علاج کی سہولتیں ترجیحی بنیادو ں پر اور سستی فراہم کی جائیں گی اور ٹی بی کے علاج کے لیے ایک نئی اور موثر قومی مہم چلائی جائے گی ۔ منشور میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے گا ، مسلم لیگ دہشتگردی کی وبا کو ختم کرنے میں یقین رکھتی ہے اس کے نزدیک دہشتگردی کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنے کی خاطر کشمیر اور فلسطین جیسے بین الاقوامی تنازعوں کا حل ضروری ہے ۔مسلم لیگ کسی حوالے سے سیاسی کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر موثر جد و جہد کرے گی ،آئین میں کنکرنٹ لسٹ کو پوری سختی سے کم کر دیا جائے گا ، اقلیتوں کو نمائندگی دینے کے لیے سینیٹ میں نشستوں کا اضافہ کیا جائے گا ۔ سینیٹ میں نشستیں پارٹیوں کے انتخابات میں حاصل ہونے والے کل ووٹوں کی بنیاد پر الاٹ کی جائینگی ، بلدیاتی اداروں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے ۔ مسلم لیگ (ن) عام جمہوری اداروں کو مضبوط اور مستقل کرنے پر یقین رکھتی ہے وہ عام آدمی کی اقتصادی حالت بہتر کرنے یا اسمبلی کی بالادستی قائم کرنے اور صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دے کر وفاق کی اکائیوں کے درمیان زیادہ اتحاد کو فروغ دینا چاہتی ہے،یہ جماعت حزب اختلاف کے حقوق اور مراعات پر بھی یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ مسلح افواج کو آئین کے تحت جو ذمہ داری سونپی جائے وہ اسے دل و جان سے ادا کرے ، چیف الیکشن کمشنر بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے مقرر کیا جائے گا ۔ آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی مسلم لیگ (ن) نتیجہ خیز اقدامات کے ذریعے عدلیہ کی آزادی اور وقار کو بحال کرنے کا پکاوعدہ کرتی ہے ۔ عدالتی نظام کی تنظیم نو اور اصلاح کے لیے عملدرآمد کرنے کی خاطر سفارشات پیش کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن قائم کرے گی ۔منشور میں کہا گیا ہے کہ جج صاحبان کے تقرر کے طریق کار کی اصلاح کرکے ان کے میرٹ پر تقرر کو یقینی بنائے گی ماتحت عدلیہ کو مزید وسعت دے گی تاکہ فیصلے جلد ہوں اور مظلوموں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے ۔ تمام صوابدیدی اختیارات ختم کر دیے جائیں گے ، پولیس کو اصلاح کے ذریعے جرائم کے خلاف جہاد کرنے والے جدید اسٹیشن میں تبدیل کر دیا جائے گا۔گورنرز مسلح افواج کے سربراہان اور جوائنٹ سروسز چیفس کمیٹی کے چیئرمین کا تقرروزیراعظم کریگا ، کوئی جج پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھائے گا ،ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جو آئین سے متعلق تمام مقدمات نمٹائے گی اس عدالت میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی ہو گی ۔ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو آزادی اور خبر تک رسائی دینے کے لیے قانون سازی کی جائے گی ۔ مسلم لیگ (ن) معاشرے کی ہر سطح پر کرپشن کے خاتمے کو اولین ترجیح میں شامل کرے گی ۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|