نیوی وار کالج بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے ان آٹھ افراد کو شامل تفتیش کر لیا
نیوی وار کالج بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے ان آٹھ افراد کو شامل تفتیش کر لیا
نیوی وار کالج بم دھماکے کے سلسلے میں پولیس نے ان آٹھ افراد کو شامل تفتیش کر لیا ہے جن کاتعلق کسی بھی حوالے سے اس موٹر سائیکل کی خرید و فروخت سے ہے جس پر خود کش حملہ آور آئے تھے۔پولیس کیمطابق ایک حملہ آور کا سر اور ٹوٹی ہوئی موٹر سائیکل دو ایسیسراغ ہیں جو اس کیس کو حل کرنے میں اب تک بظاہر مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ لاہور کے تفتیشی ونگ کے سربراہ ڈی آئی جی تصدق حسین کا کہنا ہے کہ انہیں لیڈ ملی ہے اور وہ شدت پسندوں کے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حملہ آوروں کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے اور ماہرین خاکے تیار کر رہے ہیں۔ یہ خاکے ان افراد کو بھی دکھائے جائیں گے جو موٹرسائیکل کی ملکیت یا خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔ اب تک کی تفیتش اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ موٹر سائیکل آخری بار لاہور کے علاقے بیگم کوٹ شاہدرہ میں بیچی گئی تھی تاہم پاکستان میں گاڑیوں کی خریدوفروخت اوپن لیٹر پر کیے جانے کا بھی رواج ہے اس لیے یہ معلوم کرنا باقی ہے کہ اس کا حقیقی آخری خریدار اور استعمال کنندہ کون تھا۔ ڈی آئی جی تصدق حسین کا کہنا ہے کہ حالیہ حملہ میں پہلی بار دو خود کش حملہ آوروں کی نئی تکنیک استعمال کی گئی جو اس سے پہلے پنجاب میں استعمال نہیں کی گئی۔ اس نئی تکنیک کے تحت ایک خود کش حملہ آورنے گیٹ کو اڑایا اور دوسرے نے اندر جاکر زیادہ زوردار دھماکہ کیا۔ایک کے بعد دوسرے بم دھماکے کی تکنیک شدت پسند کئی برس سے کر رہے ہیں لیکن ایک کے بعد دوسرا خود کش حملہ نیا طریقہ اور زیادہ خطرناک ہے۔ منگورہ میں ایک پولیس افسر کے جنازے پر خود کش حملہ بھی اس نئی تکنیک سے مماثلت رکھتا ہے تاہم اس پہلے حملے اور دوسرے حملے میں کئی گھنٹے کا وقفہ تھا۔ ، اس حملے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لاہور میں ہونے والے دھماکوں کے دو عینی شاہد لیفٹنٹ کمانڈروں کے مطابق دونوں حملوں میں محض چالیس یا پینتالیس سیکنڈ کا فرق تھا۔ڈی آئی جی پولیس تصدق حسین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیوی وار کالج میں دھماکے بہرحال سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے ان حملوں کے سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کو شدت پسند حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔دوسرا دھماکہ بھی پارکنگ میں ہی ہوا اور اس سے ایک کوسٹر اور ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور باقی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ۔لاہور میں دو مہینے پہلے پولیس اہلکاروں پر ہونے والے خود کش حملے میں تیئس افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ اس سے بھی پہلے سرگودھا میں پاک فضائیہ کی ایک بس کو نومبر میں خود کش حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پنجاب پولیس نے ان حملوں میں فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر کے ملوث ہونے کی بات کی تھی۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ حملہ کے منصوبہ ساز بھی نیوی کے جوانوں کی نقل وحرکت سے بخوبی آگاہ معلوم ہوتے ہیں۔ لاہور پولیس اب سرگودھا بس دھماکے کے زیر حراست ماسٹر مائنڈ اور دیگر گرفتار شدگان سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔ تھانہ ریس کورس میں درج ایف آئی آر کے مطابق نیوی کے دو لیفٹنٹ کمانڈر اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں جب کہ مقدمہ کے مدعی بحریہ کے کیپٹن مبین اشرف کے مطابق ملک دشمن عناصر نے عسکری فورس کونشانہ بنایا۔ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے نیوی کے تینوں اہلکاروں کی لاشیں تدفین کے لیے ان کے آبائی گاؤں بھجوادی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق اس حملے میں نیوی کے ان تین اہلکاروں اور دو خود کش حملہ آورں کے سوا اور کوئی ہلاک نہیں ہوا۔ پولیس اور دیگر حکام ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے کل سارا دن کنفیوڑ رہے ہیں۔ لاہور ضلعی ناظم نے نیوی کے پانچ جوانوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کیا تھا۔ نگران وزیراعلیٰ نے سات افراد کی ہلاکت کی مذمت کی تھی جب کہ کیپٹل سٹی پولیس چیف چار نیوی اہلکاروں اور دو خود کش حملہ آوروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے رہے تھے۔
|