نواز شر یف کے بجائے ق لیگ اور ایم کیو ایم کیساتھ حکومت بنائیں ،امر یکا اور صدارتی کیمپ کا زرداری پر دباؤ
نواز شر یف کے بجائے ق لیگ اور ایم کیو ایم کیساتھ حکومت بنائیں ،امر یکا اور صدارتی کیمپ کا زرداری پر دباؤ
نواز شر یف کے بجائے ق لیگ اور ایم کیو ایم کیساتھ حکومت بنائیں ،امر یکا اور صدارتی کیمپ کا زرداری پر دباؤ
اسلام آباد ( رپورٹ :… انصار عباسی ) انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل کے مرحلے میں صدارتی کیمپ اور واشنگٹن کے اس دباؤ کے باوجود کہ حکومت سازی میں ق لیگ اور دیگر مشرف حامی قوتوں کو شامل کیا جائے، آصف زرداری کی پہلی محبت ن لیگ ہے ۔ پس پردہ گفت و شنید سے انکشاف ہوا ہے کہ آصف زرداری کو مرکز اور 3صوبوں میں حکومت کی پیشکش اس شرط پر کی گئی ہے کہ وہ نواز شریف سے فاصلہ پیدا کرلیں تاہم جن لوگوں نے آصف زرداری سے رابطہ کیا انہیں زرداری نے بتایا کہ وہ ق لیگ کو سیاسی جماعت تسلیم نہیں کرتے ، اس سلسلے میں جب امریکا اور صدارتی کیمپ کے ذرائع سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں آصف زرداری پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جارہا ہے،حکومت بنانا کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور حالیہ انتخابات میں پاکستان کے عوام نے اپنی پسند کی جماعت کے نمائندے منتخب کیئے ہیں اب ان جماعتوں کو حکومت کی تشکیل کا آئینی حق ہے۔ ادھر بدھ کے روز وہ اسلام آباد میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے چند رہنماؤں کے ن لیگ کے خلاف تحفظات کے باوجود آصف زرداری نے ن لیگ اور اے این پی جیسی جماعتوں کے ساتھ اتحادی حکومت بنانے کے نظریے کی توثیق کر دی ہے بدھ کی رات اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں مقبول ترین جماعتیں مرکز اور صوبوں میں قابل عمل اتحاد بنانے کیلئے مسائل کا حل تلاش کر لیں گی اگرچہ زرداری نے واشنگٹن کے دباؤ کا ذکر نہیں کیا تاہم پارٹی کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکیوں نے آصف زرداری پر زبردست دباؤ ڈالا ہے کہ وہ ن لیگ کے بجائے ق لیگ اور ایم کیوا یم جیسی جماعتوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنائیں برطرف ججوں کی بحالی کی ن لیگ کی اولین ترجیح کو واشنگٹن سے منظوری نہیں مل پا رہی ہے تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں یہ عوام کا اہم ترین مطالبہ ہے نہ صرف یہ کہ امریکا پارٹی پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں مخلوط حکومت کیلئے اتحاد بنائیں جسے بہت سے لوگ مفید سمجھتے ہیں اس کے ساتھ کچھ نام نہاد دانشور بھی اسی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے ایک بااثر ہمدرد نے جمعرات کو آصف زرداری کو بروقت انتباہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے مشوروں سے ہوشیار رہیں۔ ذرائع نے کہا کہ پیپلز پارٹی برطرف ججوں کی بحالی کے مقصد کی مخالف نہیں ہے لیکن ان کا ن لیگ سے صرف حکمت عملی پر اختلاف ہے ابتدائی طور پر یہ پیپلز پارٹی کی مقتول چیئرپرسن بینظیر بھٹو تھیں جنہوں نے برطرف چیف جسٹس کو اپنا چیف جسٹس قرار دیا تھا اور تمام ججوں کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا، بعد میں امریکہ کے دباؤ پر انہوں نے خاصے عرصے تک برطرف ججوں کی بحالی سے گریز کیا وہ برطرف چیف جسٹس سے ملنے ججز کالونی بھی گئیں تھیں تاہم جس روز انہیں قتل کیا گیا اس روز اپنے آخری جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ برطرف جج بحال ہونگے، سابق رکن قومی اسمبلی زمرد خان نے منگل کے روز اس نمائندے سے تصدیق کی کہ بینظیر بھٹو نے 27 دسمبر کو لیاقت باغ کی ریلی میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ججوں کو بحال کرینگی اس کے برعکس نواز شریف پر جوش طریقے سے برطرف ججوں کی بحالی کے مطالبے کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اس کے عیوض انہیں انتخابات کے دن ووٹروں کی جانب سے غیر معمولی ردعمل ملا ہے یہاں تک کہ الیکشن کے بعد بھی انہوں نے اپنے لب و لہجہ اور موقف میں تبدیلی نہیں کی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ججوں کی بحالی انکی اولین ترجیح رہے گی ، الیکشن کی رات نواز شریف نے اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ اپنے مطالبے سے انحراف کا سوچ بھی نہیں سکتے خواہ ان کو اپوزیشن میں ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے انہوں نے کہاکہ حکومت میرا مسئلہ نہیں ہے میں ججوں کو بحال دیکھنا چاہتا ہوں اور اس بات کو یقینی بناؤ نگا کہ خواہ میری جماعت کے سیاسی فوائد داؤ پر ہی کیوں نہ لگ جائیں ، نواز شریف کے مقبول موقف کے برعکس پیپلز پارٹی کی قیادت چاہتی ہے کہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ کے ذریعے حل کیا جائے اور ججوں کی تقرری کا نیا نظام بنایا جائے پیپلز پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ برطرف ججوں کی بحالی بھی پارٹی کے ایجنڈے پر ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ صرف ” چھنے “ ہوئے ججز ہی بحال ہوں پارٹی قومی اسمبلی کی کمیٹی سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ ” چھاننے “ کا عمل کرے جبکہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ تمام برطرف ججز بحال ہوں، حکمت عملی کے اس واضح اختلاف کے باوجود دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے جمعرات کے روز ملاقات کی ہے اگرچہ کہ اس رپورٹ کے تحریر کئے جانے تک ملاقات کے نتیجہ کا انتظار تھا لیکن جمہوریت کے حامی کچھ پیغام رسانوں کی جانب سے کوششیں کی گئی ہیں کہ اس سوال کو ایک کمیٹی کے حوالے کر دیا جائے جو فخر الدین جی ابراہیم اور اعتزاز احسن جیسے لوگوں پر مشتمل ہو، قومی مصالحتی آرڈی ننس کے حوالے سے ن لیگ کے ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ ن لیگ کی قیادت اس آرڈی ننس کو آئینی تحفظ دینے کیلئے تیار ہے بشرطیکہ پیپلز پارٹی حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد برطرف ججوں کو بحال کرنے کا معاہدہ کرے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|