نواز شریف کی واپسی سے ق لیگ چکنا چور ہوجائے گی
نواز شریف کی واپسی سے ق لیگ چکنا چور ہوجائے گی
اسلام آباد (طارق بٹ) سابق وزیر اعظم نواز شریف اگر بروقت پاکستان واپس آ کر کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہیں تو سب سے پہلے چکنا چور ہونے والی سبک خرام گاڑی چودھری شجاعت کی پاکستان مسلم لیگ (ق) ہوگی۔ ان میں سے ایک کے مطابق ہم میں بیشتر کو اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے امیدواروں کی بڑی تعداد نواز لیگ کا ٹکٹ لینے بھاگ پڑے گی اس کی واپسی ہماری سیاست کا پینترا کر دے گی۔ دریں اثناء سعودی حکام سے صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورے کے دوران بات چیت کے بارے میں بریفنگ لینے نواز شریف جمعرات بعد دوپہر جدہ سے ریاض پہنچے گئے۔ نواز کے مستقبل کا شیڈول ان ملاقاتوں میں حتمی صورت اختیارکرے گا۔ پی ایم ایل کیو کے ایک لیڈر نے کہا کہ مشرف کی اپنی پارٹی کی کامیابی کیلئے تمام ترتیاری نواز کی واپسی سے بری طرح متاثر ہوگی۔ 8جنوری کو منعقد ہونے والے قومی اور صوبائی انتخابات کیلئے متوقع امیدواروں کیلئے ریٹرننگ افسروں کے پاس کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی آخری تاریخ 26 نومبر ہے نواز شریف اگر انتخابات میں اپنی پارٹی قیادت کرنا چاہتے ہیں تو ان کیلئے پاکستان سے باہرقیام کیلئے بالکل وقت نہیں پی ایم ایل کیو کے اور لیڈر نے جوفی الوقت پارٹی کے اعلیٰ قائدین کے ساتھ لیگی امیدواروں کوٹکٹ الاٹ کررہے ہیں۔ کیا صدر کے خصوصیت کے ساتھ نواز کے بارے میں بات چیت کیلئے اچانک دورہ سعودی عرب سے قبل ہمیں یقین تھا کہ چونکہ نواز شریف کو پاکستان سے باہر رکھا جائیگا چنانچہ انتخابات میں ہم بآسانی کامیاب ہوجائیں گے عام انتخابات کے بعد نواز کی واپسی پر ہمیں کوئی اعتراض نہ ہوتا تاہم انہوں نے کہا مشرف کے دورے کا نتیجہ واضح کرتا ہے کہ وہ نواز کی پاکستان واپسی میں رکاوٹ کے سلسلہ میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئے ہمارے لئے یہ مایوسی کا باعث ہے فوری طور پر پی ایم ایل کیو کو الواع کہہ کر نواز لیگ میں منتقل ہونے پر زیادہ مائل ٹکٹوں کی تقسیم میں نظر انداز یا اپنی پسند کا حلقہ انتخاب حاصل نہ کرنے کا احساس رکھنے والے عناصر ہوں گے۔ پی ایم ایل کیو کے لیڈر نے کہا اندرون خانہ تبادلہ خیال میں ہم پر یہ واضح کیا گیا کہ اگر نواز واپس بھی آگئے تو مجرم ہونے کے باعث انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کیس میں نواز کو خصوصی عدالت کی جانب سے دی گئی سزا دسمبر 2000 میں صدر نے معاف نہیں کی تھی۔ تاہم طیارہ اغوا کیس میں نواز کی عمر قید منسوخ ہوچکی ہے۔ شہباز شریف کا جرم بھی معاف کیا جاچکا ہے چنانچہ ان کے انتخابات میں حصہ لینے پر کوئی پابندی نہیں ۔ پی ایم ایل کے لیڈر محسوس کرتے ہیں کہ ان کی فتح کیلئے نہایت احتیاط سے تیار کی گئی موجودہ فضا شہباز کی واپسی سے بگڑ سکتی ہے مگر اس موقع پر نواز کی موجودگی کے باعث معاملات کو الٹاکر رکھ دینے والی بات نہیں ہوگی۔ ان کے خیال میں بیگم کلثوم نواز کے واپس آنے سے بھی ان کی پارٹی پر ملتا جلتا اثر پڑے گا۔ نئے انتخابی قوانین کے تحت مقابلہ میں شامل امیدواروں کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت ذاتی طور پر حاضر ہونا لازم ہے۔ شریف برادران جانتے ہیں کہ وہ اب واپس آنے میں ناکام ہوئے تو پارلیمانی سیاست سے مزید پانچ برس کیلئے باہر ہوجائیں گے پاکستان میں ان کی غیر موجودگی کے دوران ان کے چند نامزدگان کی جیتی ہوئی نشستوں کے سیاسی اثرات بہت کم ہوں گے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|