واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں،4 ریٹائرڈ جر نیلوں سمیت 75 نمائندہ شخصیات کی قرار داد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-11-07, 10:40 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں،4 ریٹائرڈ جر نیلوں سمیت 75 نمائندہ شخصیات کی قرار داد

میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں،4 ریٹائرڈ جر نیلوں سمیت 75 نمائندہ شخصیات کی قرار داد

اسلام آباد(عمر چیمہ) جنرل پرویز مشرف کے سابق ساتھیوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں کا ایک گروپ بھی ان کے ماروائے آئین اقدامات کی مذمت کیلئے پیر کو سول سوسائٹی کے نمائندگان کے ساتھ شامل ہوگیا ہے، انہوں نے قوم پر زوردیا کہ وہ آمر حکمرانوں کیخلاف اُٹھ کھڑی ہو، انہوں نے آرمی چیف اور سیاسی امور میں ملوث اپنے باوردی ساتھیوں سے کہا ہے کہ وہ فوج میں شمولیت کے وقت اُٹھائے جانے والے اپنے حلف کی پابندی کریں اور اس کی خلاف ورزی بند کردیں جو کہ غداری کے مترادف ہے، ریٹائرڈ جرنیلوں کی بہت بڑی تعداد میں سے صرف 4نے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے موجودہ آرمی چیف کے ساتھ جنگ کی لائن کھینچی ہے ان میں مشرف کے سابق وزیرداخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق کور کمانڈر راولپنڈی جنرل (ر)جمشید گلزار کیانی،سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ر) اسد درانی، لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود کے علاوہ بریگیڈیئر (ر) عزت شاہ، وائس ایڈمرل (ر) جاوید اقبال اور بریگیڈیئر (ر) خالدرشید بھی شامل ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل اپنے سابق پرسنل سٹاف افسر(پی ایس او)پرویز مشرف کے ماورائے اقدام کے خلاف آواز بلند کرنے والے پہلے جنرل تھے، جس کے نتیجے میں انہیں جیل جانا پڑا اور بعد میں خرابی صحت کے باعث ہسپتال داخل ہوئے، وہ تمام مشرف کی وفاداری کا حلف نہ اٹھانے والے ججوں جنہوں نے فوری طور پر انہیں اور آئین پاکستان کو بحال کرنے کا مطالبہ کیاکہ معترف مذکورہ بالا افراد باضابطہ طور پر پل ڈاٹ کے پلیٹ فارم سے سول سوسائٹی کے ساتھ شامل ہوئے اور آئین کی بحالی کا مطالبہ کردیا۔ سابق ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس ، سفیروں، ٹیکنو کریٹس و دیگر پر مشتمل سول سوسائٹی کے تقریباً75نمائندوں نے ایمرجنسی کی مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ قرارداد منظور کی اور قوم پر زوردیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ اقدامات کیخلاف اُٹھ کھڑی ہو اور ان کی مزاحمت کرے، قرارداد میں آئین کی بحالی، حلف وفاداری نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی، تمام وکلاء صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی کارکنوں کی غیر مشروط رہائی، میڈیا پر عائد تمام پابندیاں ہٹانے،میڈیا کی آزادی سلب کرنیوالے ڈریکونین قوانین کے خاتمے اورمسلح افراد کے اپنے حلف پر قائم رہنے کے مطالبات کئے گئے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے دی نیوز کو بتایا کہ وہ جو کچھ کر سکتے تھے انہوں نے کیا۔ معین الدین حیدر جو کہ مشرف کے وزیر داخلہ رہے ہیں نے کہا کہ انہوں نے آرمی چیف اور صدر کو اس وقت اور بعد میں کہہ دیاتھا کہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل جمہوریت ہے، انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے موٴقف پر کوئی ملال نہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ مشرف کی پہلی کابینہ میں نیک نیتی سے شامل ہوئے تھے اور وہ کبھی باوردی صدر کے اندھے پیروکار نہیں رہے، انہوں نے کہا کہ وہ اکتوبر2002ء کے الیکشن میں دھاندلی کے مخالف تھے اور بطور وزیر داخلہ جب بھی رائے مانگی گئی، انہوں نے کھری بات کی۔وہ اُن ریٹائرڈ جرنیلوں میں بھی شامل ہیں جنہوں نے دانشوروں کے ایک گروپ کے ساتھ 2006ء میں مشرف کو خط لکھا اور اُن سے وردی اتارنے کا مطالبہ کیا ، اگرچہ ان کے مطالبے پر کان نہیں دھرا گیا تاہم اظہار ناراضی کے طور پر ان کو فراہم کردہ سکیورٹی واپس لے لی گئی۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر نقوی بھی اُس خط کے شریک مصنفین میں سے ایک تھے جس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا، نقوی جو مشرف کے اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے منصوبے کے خالق تھے کو بھی غصے کا سامنا کرنا پڑا اور ان کا سکیورٹی سکواڈ بھی واپس لے لیاگیا، ذرائع کے مطابق نقوی نے بعد میں ہاتھ کھڑے کردیئے اور مشرف کے خلاف کسی بھی سازش کا حصہ نہ بننے کا وعدہ کیا ، اب ماورائے آئین ایمرجنسی کی مخالف کرنے والوں میں وہ شامل نہیں ہیں ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر اختر جیسے کچھ سابق جرنیل جو مشرف کے بارے میں نرم گوشتہ رکھتے ہیں نے خود کو موجودہ بحران سے دور رکھا ہوا ہے، انہوں نے اگلے دن دی نیوز کو بتایا چونکہ سابق فوجی مشرف کے غیر معمولی اقدام کی اصل وجہ کو نہیں جانتے ، اس لئے انہیں ان کے خلاف کسی مہم کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہئے، جہاں تک قرارداد کا تعلق ہے، اس میں مشرف کے دور حکومت میں کام کرنے والے کئی ریٹائر سفارتکار بھی شامل ہیں، جنہوں نے ان کے اقدامات پراپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان میں افتخار مرشد، اقبال احمد، محمد شفقت اوردیگر شامل ہیں مشرف کے پہلے وزیر اطلاعات جاوید جبار بھی دستخط کنندگان میں شامل ہیں، سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی دانشور نسیم زہرہ، ایاز امیر، شفقت محمود ، ڈاکٹر فیصل باری، اطہرمن اللہ ایڈووکیٹ و دیگر لوگوں نے بھی قرارداد پر دستخط کئے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فارم, پاکستان, ڈاٹ, نیوز, موجودہ, منتقلی, مسائل, اللہ, اسلام, جیل, جواب, جاوید اقبال, سٹاف, عزت, صحت, صدیقی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تمام انسانوں تک نبی ا کا پیغام پہنچایاجائے،پیرنصیر الدین نصیر عبدالقدوس خبریں 1 19-05-11 09:12 AM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
پاکستان کو دولخت کرنے والی اندراگاندھی سمیت 100 شخصیات کا انعام جاویداسد خبریں 5 24-08-10 02:40 PM
شمس الحسن بلاول بھٹو زرداری کے میڈیا کوآرڈینیٹر مقرر ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 12:07 PM
جیو کی بندش اورمیڈیا پر پابندیوں کیخلاف لندن ، ٹیکساس ، نیویارک ، ٹورنٹو، بارسلونا،برمنگھم اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے عبدالقدوس خبریں 0 19-11-07 06:34 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:45 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger