::: معاشرے کے بے حسی، 2007 کے دوران 1101لاوارث خواتین نے ایدھی سینٹرز میں پناہ لی :::
::: معاشرے کے بے حسی، 2007 کے دوران 1101لاوارث خواتین نے ایدھی سینٹرز میں پناہ لی :::
کراچی(اسٹاف رپورٹر)2007میں ملک بھر میں ایدھی سینٹرز کی تعداد313ہوگئی ہے جس کے ذریعے 23لاکھ 45ہزار80مریضوں کو ایمبولنس کی سروس فراہم کی گئی جبکہ 12ہزار 3سو 95لاوارث میتوں کو غسل اور کفن دے کر تدفین کی گئی۔جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 23%فیصد اضافہ ہے ایدھی کے اعلامیہ کے مطابق 18اکتوبر کو کراچی میں محترمہ بینظیر بھٹو کے استقبال کے موقع پر ہونیوالے بم دھماکے میں ہلاک ہونیوالی میتوں کی شناخت اور تدفین کی گئی۔ ایدھی کے 313 سینٹروں کی 1250ایمبولینسوں کے ذریعے 2345680مریضوں کو گھروں سے اسپتالوں اور اسپتالوں سے گھروں تک پہنچانے کیلئے سروس فراہم کی گئی جبکہ بیرون شہر 46125مریضوں کی میتوں کیلئے سروس فراہم کی گئی گزشتہ سال 51بم دھماکوں اور سانحہ لال مسجد میں 318افراد کی میتوں اور2180زخمیوں کو بلامعاوضہ اسپتال پہنچایا گیا ۔12مئی کو فائرنگ سے28افراد ہلاک 57زخمیوں اور 18اکتوبر کو ہونے والے بم دھماکے میں138افرادہلاک اور 200سے زائد زخمیوں کو بلامعاوضہ اسپتال پہنچایا گیا۔ محراب پور ریلوے کے حادثے میں اور دیگر حادثات میں ہلاک ہونے والے 1127افراد اور 8591زخمیوں کو بلامعاوضہ اسپتالوں اور گھروں تک پہنچایا گیا۔ 2007ء میں ایدھی ایمرجینسی میڈیکل سروس کی جانب سے 3118زخمیوں اور بیماروں کی اسپتالوں تک منتقلی کے دوران جان بچانے میں مدد کی گئی کراچی شیر شاہ میں پل گرنے کے حادثے میں زخمی ہونیوالے 2افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا28دسمبر محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر اندرون سندھ فائرنگ سے زخمی ہونیوالے افراد کو چار فلائٹ کے ذریعے کراچی پہنچایا گیا ۔ سندھ اور بلوچستان میں سیلاب میں گھیرے ہوئے972افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ گزشتہ سال بلوچستان اور سندھ میں سیلاب سے متاثر ہونیوالے 8190خاندانوں کو راشن فراہم کیا گیا۔کراچی میں کچرے کے ڈھیروں سے ملنے والے 314نوزائیدہ بچوں کی لاشوں کو اور پورے پاکستان میں 828نوزائیدہ بچوں کی لاشوں کی تدفین کی گئی ۔ نوزائیدہ بچوں کی ملنے والی لاشوں میں40فیصد اضافہ ہوا ایدھی ویلیج میں1835مریضوں کو داخل کیا گیا جبکہ 1442کو ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ ایدھی نارتھ کراچی سینٹر (برائے ذہنی معذور خواتین) میں 1101لاوارث عورتوں کو پناہ دی گئی اور 850عورتوں کو ورثاء کے ملنے پر اُن کے حوالے کیا گیا ۔ ایدھی فی میل چائلڈ ہوم میں 187لڑکیوں کو داخل کیا گیا۔ اس کے علاوہ ہزاروں خواتین کو مختلف سینٹرز سے ورثاء کے ملنے پر ان کے حوالے کیا گیا۔ گزشتہ سال ایدھی اینمل اسپتال میں 12زخمی گدھوں ،3زخمی گھوڑوں 28کتوں اور 42زخمی بلیوں کو داخل کیا گیا2007ء میں کراچی سمیت پاکستان کی مختلف ایدھی فری ڈسپنسریوں میں520031مریضوں کا علاج کیا گیا جبکہ ایدھی موسیٰ لائن سینٹر کراچی میں اسپیشلسٹ ڈائیگنوسٹک کلینک میں 9213مریضوں کا علاج کیا گیا اور 21231مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئے۔ ایدھی فری ٹریننگ سینٹر میں245لڑکیوں کو نرسنگ کی ٹریننگ دی گئی۔ ایدھی فری لنگروں میں مجموعی طورپر 2لاکھ سے زائد افراد کو دو وقت کا کھانا فراہم کیا گیا گزشتہ سال پاکستان کے مختلف شہروں میں قدرتی آفات اور دیگر وجوہات کی بناء پر بے گھر ہونیوالے 18100سے زائد خاندانوں کو ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کی گئیں ۔ گزشتہ سال مستحق مریضوں کو 1212وہیل چیئرز اور تین ہزار مریضوں کو بے ساکھیاں فراہم کی گئیں۔27دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونیوالے بم دھماکے میں ہلاک ہونیوالے18افراد کی نعش اور 32زخمیوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ جب کہ ان تین دنوں کے دوران کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص، ملتان ، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی ، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور میں مجموعی طورپر 13نعشوں اور 145افراد کو اسپتالوں تک پہنچایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق28دسمبر2007ء کو روہڑی ریلوے اسٹیشن ، نوابشاہ ریلوے اسٹیشن اور سرہاری ریلوے اسٹیشن پر 6ٹرینوں کے پھنسے ہوئے 5000 سے زائد مسافروں کو کھانا اور ناشتہ اور بچوں کو دودھ فراہم کیا گیا اور ایدھی ایمبولینسوں کے ذریعے محفوظ علاقوں تک پہنچایا گیا۔ 28دسمبر2007ء کو تقریباً 150سے زائد مسلح افراد نے ایدھی ویلیج پر حملہ کرکے وہاں داخل ذہنی اور جسمانی معذوروں کو زدوکوب کیا جبکہ اندرون سندھ شکار پور میں کراچی سے نعشیں لے جانے والی ایدھی ایمبولینس کو نذر آتش کردیا گیا۔ کراچی میں 4ایدھی ایمبولینسوں کو اغواء کیا جو بعد میں بازیاب ہوگئیں جب کہ ایمبولینسوں کو مکمل طورپر تباہ کردیا۔
|