قیادت سے دلبرداشتہ پی پی رکن اسمبلی کا ملک اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ اسلام
قیادت سے دلبرداشتہ پی پی رکن اسمبلی کا ملک اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ اسلام
قیادت سے دلبرداشتہ پی پی رکن اسمبلی کا ملک اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ
اسلام آباد( رؤف کلاسرا) پی پی پی کے انتہائی وفا دار موجودہ رکن قومی اسمبلی عبدالقیوم جتوئی جنہوں نے اپنی انتخابی کامیابی سے ڈرامائی طور پر مظفر گڑھ ضلع کو منی لاڑکانہ میں تبدیل کردیا تھا، پاکستانی سیاست اور غالباً اپنی قیادت سے اتنے دل برداشتہ ہوگئے ہیں کہ انہوں نے سیاست چھوڑ کر لندن میں انسانی حقوق کی تحریکوں کے لئے کام کرنے کا اعلان کیا ہے، جتوئی کی طرف سے یہ دہلا دینے والا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آصف علی زرداری ”سیاسی مفاہمت“ کے نعرے لگانے میں مصروف ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی اپنی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی سیاست سے مایوس ہو رہے ہیں، لوگوں کے لئے یہ امر حیران کن ہے کہ وہ رکن قومی اسمبلی جس نے بطور ضلع ناظم مظفر گڑھ 5سال کے عرصے میں پرویز الٰہی حکومت کا انتقامی کارروائیوں کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا، اتنی جلدی اپنی حکومت سے مایوس ہو گیا ہے اور ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، شاہ محمود قریشی کے بعد قیوم 2002ء کے الیکشن کے بعد پنجاب میں اُن چند پی پی پی ناظمین میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی ضلعی حکومت بنائی اورحکومت اور ایجنسیوں کی طرف سے وفاداری بدلنے اور مسلم لیگ ق میں شامل ہونے کی کئی کوششوں کے باوجود مزاحمت ترک نہ کی ، قیوم جتوئی نے دی نیوز کے رابطے پر بتایا ”ہاں یہ سچ ہے کہ میں پاکستان کی سیاست سے ناامید ہو گیا ہوں اور لندن جا کر انسانی حقوق کی تحریکوں میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے“۔ زرداری کی طرف سے مظفر گڑھ سے وزارت کے لئے حنا ربانی کھر کو ترجیح دینے کے بعد جتوئی اپنی پارٹی کی ہائی کمان سے حقیقی طور پرنالاں ہیں، حنا اور برطانیہ میں حال ہی میں تعینات ہونے والے پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کے درمیان نئے خاندانی رشتے نے مس کھر کو شوکت عزیز کی کابینہ میں خدمات سرانجام دینے کے بعد پی پی پی سے ٹکٹ کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے، پی پی کی طرف سے محسن قریشی اور قیوم جتوئی جیسے وفا دار ارکان اسمبلی کو نظر انداز کرنے اور وفاداری تبدیل کرنے والوں کو ترجیح دینے کے افسوسناک فیصلے کا پی پی رہنماؤں اور حامیوں پر براہ راست اثر پڑرہا ہے اور انہیں اپنے علاقوں میں سخت تنقید کا سامنا ہے۔ جتوئی کے حامی اتنے غصے میں تھے کہ صوبائی اسمبلی کی وہ نشست جو فروری کے انتخابات میں انہوں نے جیتی تھی وہ مخالفین سے ہار گئے یہ مظفر گڑھ کی حالیہ انتخابی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، قبل ازیں قیوم جتوئی نے مظفر گڑھ میں اس وقت ڈٹ جانے کی بھی ایک نئی تاریخ رقم کی جب وہ 2002ء کے انتخابات میں اکیلے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ضلع ناظم کا الیکشن جیتے۔چوہدری پرویز الٰہی نے انہیں جھکانے کے لئے گاجر اور ڈنڈادونوں استعمال کئے لیکن وہ کسی لالچ میں نہ آئے اور بدستور بینظیر بھٹو کے وفادار رہے، ان کے ڈٹ جانے کے باعث پرویز الٰہی غصے میں آگئے اور اُنہیں سزا دینے کا فیصلہ کیا، پہلے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد ضلع کے فنڈز روکے مگر ان کے حامی اس کے ساتھ کھڑے رہے ایک موقع پر پرویز الٰہی اتنے نالاں ہوئے کہ انہوں نے پولیس کے ذریعے ضلع کونسل کے دفاتر کو تالے لگوا دیئے ،قیوم جتوئی میں پھر بھی کوئی لچک نہ آئی اور انہوں نے ضلع کونسل کے لان میں اجلاس کرڈالاجب نئے انتخابات ہوئے تو انہوں نے دو قومی اسمبلی اور اتنی ہی صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، ان کے برادر نسبتی معظم جتوئی اورخود انہوں نے قومی اسمبلی کی سیٹیں جیتیں، انہوں نے صوبائی سیٹ پر بھی کامیابی حاصل کی لیکن ضمنی انتخابات میں یہ نشست ہار گئے اور ان کے ووٹرز نے حناربانی کھر کو جتوئی پر ترجیح دیتے ہوئے وزیر مملکت بنائے جانے پر ان پر طنز کی۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے قیوم جتوئی نے ضمنی انتخابات میں صوبائی سیٹ پر پی پی کی ناکامی کا الزام خفیہ ایجنسویں کو دیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاست میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار نے انہیں پاکستانی سیاست کے حوالے سے مایوس کردیا ہے، انہوں نے بتایا کہ اس کے علاقے کے لوگوں کے پاس تعلیم ہے نہ صحت کی سہولتیں اور بڑی ہی بری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔” میں ان کو اس قدر برے حالات میں رہتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا اور اب اسی لئے لندن جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان معاملات کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لئے عالمی تحاریک میں شامل ہو سکوں“ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ان کو نظر انداز کر کے حنا ربانی کھر کو وزیر بنائے جانے پر ناراض ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں یہ وجہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے وزیر بننے کے لئے پیپلز پارٹی کے اندر لابی بنانے کیلئے کہا گیا لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا“۔قیوم جتوئی نے کہا کہ ”میں دھاندلی اور اپنے علاقے کے سرائیکی لوگوں جن کو عام انسان کی طرح زندگی گزارنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے کی حالت زار کے خلاف احتجاجاً چھوڑ کر جارہا ہوں“۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|