واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


قومی جامع حکمت عملی کی تشکیل - ایک ناگزیر ضرورت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-08, 10:22 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قومی جامع حکمت عملی کی تشکیل - ایک ناگزیر ضرورت

قومی جامع حکمت عملی کی تشکیل - ایک ناگزیر ضرورت

قومی جامع حکمت عملی کی تشکیل - ایک ناگزیر ضرورت



ہفتہ 25/ذوالحجہ 1428ھ 5/جنوری 2008ء چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنا نیا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے عہد کی پہلی اور شماریاتی اعتبار سے 105 ویں کور کمانڈر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت جن مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے اور جو خطرات اسے درپیش ہیں ان سے کامیابی کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا واحد راستہ یہ ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات اپنا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے اپنی سیاسی، سماجی، انتظامی اور فوجی حکمت عملیوں میں اشتراک پیدا کریں اور اس امر کو کسی حالت میں اپنی نگاہ سے اوجھل نہ ہونے دیں کہ درپیش مسائل کے حل میں عوام کی خواہش حمایت اور تعاون ہی ہمیشہ فیصلہ کن عنصر ثابت ہوتا ہے اور ہمیں ان کو ساتھ لے کر ہی دہشت گردی، تخریب کاری اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔ فوجی سربراہ نے ملک کو درپیش سنگین خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے مذکورہ بالا خطاب میں ہر محاذ پر کی جانے والی قومی کوششوں کو آپس میں مربوط بنانے اور ان میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت کو جس انداز میں اجاگر کیا ہے اس کی اہمیت و افادیت سے کسی بھی باشعور پاکستانی کو کوئی انکار نہیں ہو سکتا کیونکہ تمام ریاستی ستونوں میں جتنی زیادہ ہم آہنگی و مفاہمت ہو گی اتنی ہی زیادہ قوت اور طاقت کے ساتھ وہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے پر قادر ہو سکیں گے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر ملک کے وسیع تر مفاد اور قومی ترجیحات کو ہر حالت میں فوقیت دینے کے حوالے سے دیکھا جائے تو کسی بھی بحرانی دور میں ہمیں نہ تو عوام ہی ملک سے ایسی جذباتی وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں جو قومی امنگوں کی پاسداری و پاسبانی کرنے کی عکاس ہو نہ ریاستی اداروں میں ہی ایسا ارتباط اور اشتراک و تعاون نظر آیا ہے جو انہیں سنگین مشکلات کی تلاطم خیز موجوں سے بچا کر ساحل مراد پر پہنچانے کا ضامن نظر آتا ہو اسی صورتحال کا یہ نتیجہ ہے کہ جب بھی کوئی افتاد پڑتی ہے تو ہمارے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں ہمیں اس سے نکلنے کی کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی اور مخمصے کے اس عالم میں ہم اپنی طاقت کو یکجا کر کے جرأت و عزیمت سے اس کا مقابلہ کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگ جاتے ہیں جس سے ہماری رہی سہی قوت میں بھی دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں اور اس خلفشار میں دشمن کے آسانی سے بچ نکلنے اور نیا وار کرنے کی منصوبہ بندی کا موقع مل جاتا ہے۔ ملک کی ممتاز، عالمی شہرت یافتہ سیاستدان اور پی پی پی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت سے جنم لینے والا بحران بھی ایسا ہی ایک موقع تھا جس کے فوری اور وسیع تر اثرات سے نمٹنے کے لئے ہمیں بڑے صبر استقامت اور حوصلہ مندی کی ضرورت تھی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے قومی منظر نامے میں اس کی دور دور تک کوئی جھلک دکھائی نہیں دی۔ کراچی، دادو، میر پور، سکھر ایسے بڑے شہروں اور سندھ کے متعدد دیگر شہروں اور قصبات میں پٹرول پمپوں، بنکوں، ریلوے ٹرینوں کو نذر آتش کرنے نیز یوٹیلیٹی سٹوروں اور نجی دکانوں کو لوٹنے کے جو المناک واقعات ان ایام میں چشم حیرت نے ہی نہیں کیمرے کی آنکھ نے بھی ریکارڈ کئے اس سے تو یوں لگتا تھا جیسے رقص ابلیس کا ایک ایسا ہنگام ہے جس کے تھمنے کے دور دور تک کوئی آثار موجود نہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایسی صورتحال میں جرائم پیشہ عناصر بھی خوب کھل کھیلتے ہیں اور دشمن بھی اپنے مفادات کی فصلیں کاٹنے میں کوئی کمی نہیں کرتا لیکن اگر عوام جوش کو ہوش پر غالب نہ آنے دیں، سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو تحمل سے کام لینے کی تلقین کریں اور انتظامیہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے فعال اور مستعد ہو تو پھر اول تو گھیراؤ جلاؤ کی نوبت ہی نہیں آنے پاتی اور اگر خدانخواستہ ایسا کوئی موقع آ بھی جائے تو پھر اس سے ہونے والا نقصان اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے اور اس کی تلافی کرنا بھی ممکن ہوتا ہے لیکن ان پُر آشوب دنوں میں جو کچھ ہوا اس سے ایک کھرب سے زائد خطیر رقم کی قومی و نجی املاک ہی نہیں جلیں عوام کے معمولات زندگی بھی اس طرح درہم برہم ہو کر رہ گئے کہ ان کے لئے اپنی روز مرہ ضروریات کا پورا کرنا ہی ناممکن ہو کر رہ گیا یہ تو عوام کا حال تھا رہی انتظامیہ تو وہ اس قدر غیر فعال، اور لاچار دکھائی دیتی تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے شہریوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور یہ ایک ایسی سرزمین بے آئین ہے جس میں آئین بے بس ہی نہیں لاوارث اور یتیم ہے سوال یہ ہے کہ آخر شہری انتظامیہ اور پولیس وقت پر شہریوں کی امداد کے لئے حرکت میں کیوں نہیں آئی اور اگر وہ اپنے آپ کو حالات پر قابو پانے کی صلاحیت سے عاری خیال کر رہی تھی تو اس کے ارباب اختیار نے بروقت رینجرز اور فوج کی مدد طلب کرنے سے پہلو تہی کیوں کی اور یہ قدم اس وقت کیوں اٹھایا جب سب کچھ جل جانے اور لٹ جانے کے بعد ہر طرف بربادیوں کے میلے لگے ہوئے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے بھی اسی نوع کی غلطیوں کا ارتکاب کیا گیا، ان کی موت کو کبھی پستول کی گولی، کبھی لیزر گن سے کی جانے والی فائرنگ اور کبھی سن روف کے لیور لگنے کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کی موت کے اسباب کا تعین کرتے ہوئے اس قدر بیان بدلے گئے کہ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کسی غیر ملکی تفتیشی ادارے سے کرانے یا نہ کرانے کا معاملہ بھی مختلف ریاستی اداروں میں یکسانی فکر و نظر کے اسی فقدان کا مظہر ہے کہ پہلے اس پر آمادگی سے صاف انکار کیا گیا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں اور پھر سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لینے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا گیا یہ الگ بات ہے کہ پی پی پی نے اس کو ماننے سے گریز کرتے ہوئے اس سلسلے میں اپنا ایک اور مطالبہ داغ دیا مگر اس سے پتہ ضرور چلتا ہے کہ انتظامی سطح پر ریاستی اداروں میں جو فکری ہم آہنگی اور ربط ہونا چاہئے اس کے فقدان کی جھلک ہمیں ہر نازک مرحلہ پر دکھائی دیتی رہی۔ بجلی اور سوئی گیس کی خوفناک لوڈ شیڈنگ اور آٹے کی گرانی نے جو افسوسناک صورتحال پیدا کر دی ہے وہ بھی اسی امر کی غمازی کرتی ہے کہ ہمارے پالیسی ساز محض اعدادوشمار کی جادوگری سے ایک خوشنما منظر نامہ تشکیل دینے میں تو مہارت رکھتے ہیں لیکن دوررس منصوبہ بندی کرنا اور آنے والے حالات کا صحیح صحیح اندازہ کر کے ان کے مطابق ایسی حکمت عملیاں بنانا جو قوم و ملک کو آئندہ بحرانوں سے بچا سکیں ان کے بس کی بات نہیں ان حالات میں سالار لشکر جنرل کیانی کی طرف سے سیاسی، سماجی، معاشی انتظامی اور فوجی محاذ پر ایک ایسی جامع قومی حکمت عملی تشکیل دینے کی تجویز جسے عوام کی بھرپور تائید اور حمایت حاصل ہو وقت کی آواز ہے توقع کی جانی چاہئے کہ اسے عمل مسلسل کے قالب میں ڈھالنے کے لئے مقتدر حلقے بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے اور سیاسی پارٹیاں اور عوام بھی اسے کسی طرح نظر انداز نہیں کریں گی۔ پاکستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں یہ ناگزیر ہے کہ تمام طبقے سر جوڑ کر بیٹھیں اور مستقبل میں استحکام کے حصول کے لئے جامع حکمت عملی ترتیب دیں جس میں بالآخر جمہوری اداروں کا استحکام اور بالادستی مقصود ہو ہر فرد کیلئے قانون کا یکساں نفاذ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور آزادی تحریر و تقریر کی ضمانت دی جائے۔ شہریوں کے نقصانات کا درست سروے ضروری ہے اطلاعات کے مطابق پولیس نے کراچی اور دیگر شہروں میں پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد احتجاج اور ہنگاموں کی لہر کے دوران لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران کئی ملزموں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کا لوٹا ہوا سامان برآمد کرلیا ہے۔ 27دسمبر کے سانحے کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے جرائم پیشہ عناصر نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور اس کی آڑ میں باقاعدہ لوٹ مار شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف بنک بلکہ صرافوں کی دکانیں اور دیگر اشیاء کے اسٹور لوٹ لئے گئے۔ لوٹ مار کی ایک وجہ جیلوں اور قیدخانوں سے بڑی تعداد میں جرائم پیشہ قیدیوں کا فرار ہوجانا بھی ہوسکتی ہے لیکن اس کا ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ ان ہنگاموں کے دوران پولیس اور انتظامیہ نے لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا۔ اب جبکہ حکومتی سطح پر لوٹ مار کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کے نقصان کا اعتراف کرنے کے بعد اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگانے کی بات کی جارہی ہے اور پولیس کی جانب سے لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے تو اسے مزید منظم بناکر لوٹے گئے مال کی زیادہ سے زیادہ بازیابی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہنگاموں میں لوگوں کے نقصانات کا سرکاری سطح پر ازالہ کرنے کیلئے ان کی درست فہرستیں بنانا بھی ضروری ہے۔ ان فہرستوں کی تیاری کا کام منظم طریقے پر ہونا چاہئے اس کیلئے کسی ایک ادارے یا ٹیم کو فہرست کی تیاری سونپی جائے۔ جو پوری طرح چھان پھٹک کے بعد یہ جامع سروے مکمل کرے تاکہ جو لوگ لوٹ مار کا نشانہ بنے ہیں ان کے نقصانات کا پوری طرح ازالہ ممکن نہ ہو تو کچھ نہ کچھ مدد ضرور ملے۔ اس طرح کاروبار کی تباہی سے تہی دامن ہونے والوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد ملے گی۔ اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ ماضی کے بعض واقعات کی طرح اس بار ایک سے زیادہ رپورٹوں کی وجہ سے کوئی کنفیوژن پیدا نہ ہو۔ کھاتیداروں کی سہولت کے لئے اسٹیٹ بینک کی ہدایات اسٹیٹ بینک کی جانب سے وقتاً فوقتاً بینکوں کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں جن میں سے بعض کا مقصد عام لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا اور کھاتیداروں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں کافی عرصے قبل یوٹیلٹی بل جمع کرانے والوں کے لئے سائے اور پانی کا انتظام کرنے کی تاکید کی گئی تھی جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر صارفین کو بہتر ماحول فراہم کیا گیا۔ تاہم اب بھی کئی برانچوں میں صورتحال جوں کی توں ہے اور قطاروں میں کھڑے ہوئے افراد گرمیوں کی دھوپ اور سردیوں کی ٹھنڈی ہواؤں کے رحم و کرم پر نظر آتے ہیں۔ اس سے مرکزی بینک کی قوت نافذہ کے بارے میں منفی تاثرات جنم لیتے ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔ ایک عام شکایت یہ ہے کہ بیشتر بینکوں نے اپنے کھاتیداروں کو باضابطہ طور پر مطلع کئے بغیر اکاؤنٹ میں کم از کم بیلنس کی غیرمعمولی حد مقرر کردی ہے جو بعض مالیاتی اداروں میں پانچ ہزار، بعض میں دس ہزار اور کچھ میں پچاس ہزار روپے ہے۔ اس سے کم سرمایہ ہونے کی صورت میں بینک ان کے اکاؤنٹ سے اچھی خاصی رقم بطور جرمانہ وضع کرلیتا ہے۔ بہت سے اکاؤنٹ ہولڈرز کی آمدنی اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کھاتوں میں بھاری رقم رکھ سکیں۔ مرکزی بینک نے اس شکایت کے ازالے کے لئے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے کلائنٹس کو خطوط کے ذریعے مذکورہ شرط سے آگاہ کریں۔ تاکید کی گئی تھی کہ جو افراد اپنی کم آمدنی، ضعیف العمری اور دوسری وجوہ سے کم از کم بیلنس کی شرط پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں ایسے سیونگ اکاؤنٹ کی سہولت فراہم کی جائے جس میں مذکورہ پابندی نہ ہو اور لوگوں کو اپنی غربت کی سزا جرمانے کی صورت میں نہ بھگتنی پڑے۔ اس سرکلر پر بیشتر بینکوں کی طرف سے عمل نہیں کیا گیا۔ کھاتیداروں کو نئے آپشن سے تحریری طور پر تو کیا مطلع کیا جاتا، جو افراد اپنی معلومات کی بیناد پر بیلنس کی شرط سے مبرا کاؤنٹ کھولنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں انہیں بھی مختلف حیلوں بہانوں سے اس سہولت سے محروم کیا جارہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو کھاتیداروں کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی ہدایت پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے فوری اور موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہنگامہ, پھول, پولیس, پاکستانی, واقعات, قدم, لوٹے, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, منصوبہ, ممکن, مسائل, الزام, انتظامیہ, احتجاج, بے نظیر, تحریری, حل, خلاف, راستہ, زندگی, عہد, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دھاگوں تک رسائی کیسے ممکن ہو بزم خیال تجاویز اور شکایات 15 25-11-11 09:40 PM
منتظر الزیدی پر تشدد کرکے زبردستی وزیراعظم کے نام معافی نامہ لکھوایا گیا ۔ عودے الزیدی چیتا چالباز خبریں 4 02-08-11 11:06 PM
بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے آئر لینڈ کے مزید دو سینئر پادری مستعفی گوہر گپ شپ 1 27-12-09 04:04 AM
نہ جانے ظرف زیادہ تھا کم یا انا زیادہ تھی The Great احمد فراز 0 28-08-09 10:00 PM
خصوصی افراد کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے، سہراب سرکی عبدالقدوس شعبہ طب 0 26-10-07 07:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger