قومی اتفاق رائے سے کالاباغ ڈیم 7سال میں بن سکتا ہے،طارق حمید
قومی اتفاق رائے سے کالاباغ ڈیم 7سال میں بن سکتا ہے،طارق حمید
اسلام آباد (جنگ نیوز) نگران وفاقی وزیر پانی و بجلی طارق حمید نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم تیکنیکی نہیں، سیاسی مسئلہ ہے، قومی سطح پر اگر اتفاق رائے ہو جائے تو یہ ڈیم سات سال میں مکمل ہو سکتا ہے، ملک میں بجلی کی طلب اور پیداوار 2010ء میں برابر ہو جائے گی، بجلی بچانے کیلئے وزارت سرکاری اداروں اور ہسپتالوں کو ایک لاکھ انرجی سیور مفت فراہم کرے گی، قومی واٹر پالیسی کا مسودہ منظوری کیلئے کابینہ کو ارسال کر دیا گیا ہے، نیپرا کے قوانین میں کسی قسم کی کمی نہیں، موٴثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں ایک خصوصی انٹرویو میں نگران وزیر پانی و بجلی طارق حمید نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر تکنیکی یا فنی مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس کو اپنی اوّلین ترجیحات میں رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتفاق رائے سے اس کی تعمیر کا ٹاسک دیا جائے تو سات سال میں اس کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ کالا باغ سمیت پانچ بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کا کام 2016ء تک مکمل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ 2016ء تک ملک میں پن بجلی کی پیداوار سے ہماری طلب سے زیادہ بجلی دستیاب ہو گی، بجلی کی طلب پوری کرنے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے واپڈا کو پلانٹ لگانے کی اجازت دیدی ہے۔انہوں نے بتایا کہ منگلا ڈیم توسیعی منصوبہ 2008ء میں مکمل ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ جناح بیراج ہائیڈل منصوبے کی تکمیل 2010ء میں ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ تین پلانٹ کرائے پر حاصل کئے جا رہے ہیں۔ پی پی آئی بی 2008ء میں 2 اور 2009ء میں 6 منصوبے لا رہی ہے۔ تین سال میں مزید 27 سو میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود حکومت نے نیپرا کی طرف سے تجویز کردہ 33 فیصد اضافہ کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور صرف 10 فیصد تک اضافہ کیا۔ باقی 23 فیصد کی مد میں حکومت نے 58 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ انہوں نے بتایا کہ رات آٹھ بجے تک تجارتی مراکز بند کرنے سے تین سو میگاواٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی بچانے کی مہم جلد چلائی جا رہی ہے جس کے تحت پہلے مرحلہ میں سرکاری اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری اداروں کو ایک لاکھ انرجی سیور مفت فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل واٹر پالیسی کا مسودہ کابینہ سے منظوری کیلئے ارسال کر دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہی کابینہ اس کی منظوری دیدے گی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|