واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


قصّہ جلسوں جلوسوں اور میچوں کی حاضری کا,,,,قصہ مختصر…عظیم سرور

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-10-07, 10:30 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قصّہ جلسوں جلوسوں اور میچوں کی حاضری کا,,,,قصہ مختصر…عظیم سرور

قصّہ جلسوں جلوسوں اور میچوں کی حاضری کا,,,,قصہ مختصر…عظیم سرور

بات ہو رہی تھی 30 لاکھ افراد کی کہ وہ کتنی جگہ میں سما سکتے ہیں۔ محفل میں موجود ہر شخص نکتہ آفرینیاں کر رہا تھا۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے میں ایک تِل لے کر گھوم رہا تھا اور اس تِل کے دھرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔ ایک صاحب پوچھ رہے تھے کیا شارع فیصل اتنی بڑی ہے؟ دوسرے صاحب کہہ رہے تھے کہ جب ایک بوتل میں جن سما سکتا ہے تو شارع فیصل پر 30 لاکھ افراد کیوں نہیں آ سکتے؟ آخر قطرے میں دجلہ بھی تو دکھائی دے جاتا ہے۔ لوگوں کے اجتماع یا ہجوم کی بات ہے تو مجھے 1970ء کی دہائی کے اوائل کا ایک فٹ بال میچ یاد آجاتا ہے۔ کراچی میں پاکستان، ترکی اور ایران کا فٹ بال ٹورنامنٹ ہاکی اسٹیڈیم میں ہو رہا تھا کہ اس وقت کراچی میں کوئی معیاری فٹ بال سٹیڈیم نہ تھا۔ ہاکی اسٹیڈیم بھی تعمیر کے ابتدائی مرحلے میں تھا اور اس کے اطراف میں چند سیڑھیاں ہی بنی تھیں۔ پاکستان اور ترکی کا فٹ بال میچ تھا جس کی کمنٹری کے لئے ترکی ریڈیو کی ٹیم آئی ہوئی تھی۔ ریڈیو پاکستان کی طرف سے میں کمنٹری ٹیم کا انچارج تھا۔ ترک کمنٹیٹر بڑے ولولہ انگیز انداز میں کمنٹری کر رہا تھا۔ ایک مرحلے پر اس نے مجھ سے پوچھا میچ کے تماشائیوں کی تعداد کتنی ہو گی؟ میں نے پہلی بار اتنا بڑا ہجوم دیکھا تھا۔ ساری سیڑھیاں بھری ہوئی تھیں۔ میں نے کہا ” پچاس ہزار ۔ !! “ ترک کمنٹیٹر کا چہرہ سرخ ہو گیا اس نے زور سے ہاتھ جھٹک کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ اور ترکی میں کمنٹری کرتے ہوئے ہاتھ کی انگلیاں لہرا کر کہا۔ اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی تعداد 5 ہزار تک ہے۔ میں شرمندہ سا ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد مجھے ہنسی آ گئی اور آج تک جب بھی وہ ترک کمنٹیٹر یاد آتا ہے جو پچاس ہزار کا ہندسہ سن کر ناراض ہوا تھا تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ اس کے بعد بہت سے ہجوم دیکھنے کا موقع ملا اور میں نے کبھی ہندسوں سے کھیلنے کی کوشش نہیں کی۔ 1974ء میں جب لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس ہوئی تو اس کے مختلف مقامات پر مجھے کمنٹری کا موقع ملا۔ بادشاہی مسجد کے جھروکے میں کھڑے ہو کر کمنٹری کرتے ہوئے دل چاہا کہ کہہ دوں۔ لاکھوں فرزندانِ اسلام جمع ہیں لیکن پھر ترکی کمنٹیٹر کا چہرہ نظروں کے سامنے آ گیا۔ لاہور کے کرکٹ اسٹیڈیم کا نام جس دن قذافی اسٹیڈیم رکھا گیا وہ دن بھی اسلامی سربراہ کانفرنس کے دوران میں آیا۔ قذافی اور بھٹو صاحب وہاں آئے۔ قذافی نے پُر جوش تقریر کی۔ اس دن اسٹیڈیم آنے کے راستوں پر رکاوٹیں لگا دی گئی تھیں۔ اسٹیڈیم میں نفری کا اجتماع تھا۔ ایک سا لباس، ایک سا ہیئر کٹ۔ منظم انداز میں تالیاں۔ نعرے اس طرح سے لگ رہے تھے جہاں سب رکاوٹوں کے باوجود کچھ عوام کی رسائی ہو گئی تھی تاہم یہ بہت بڑا اجتماع تھا۔ میرے ساتھ کمنٹری ٹیم میں اشفاق احمد اور شعیب ہاشمی تھے۔ میں نے اشفاق احمد صاحب سے پوچھا۔ ” خان صاحب ! کتنے لوگ ہوں گے؟ “ اشفاق صاحب نے کہا۔ ” کبھی تعداد کے چکر میں نہ پڑنا۔ ایسے موقعوں کے لئے بہت سی اصطلاحات ہیں۔ مثلاً ٹھاٹھیں مارتا سمندر، حد نظر تک سر ہی سر۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں وغیرہ وغیرہ ان کو استعمال کرو۔ کراچی میں امام خانہ کعبہ کی آمد اور امامت کے موقع پر بہت بڑا اجتماع تھا۔ اسپورٹس اسٹیڈیم کے میدان میں جو اس زمانے میں بہت وسیع تھا جمعے کی نماز ہوئی تھی اور اس کی حاضری بلاشبہ لاکھوں میں تھی۔ اس کے بعد مجھے 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے جنازے کے جلوس اور تدفین کی کمنٹری کا موقع ملا۔ جنرل ضیاء کی قبر جس جگہ بنائی گئی تھی اس کے قریب ریڈیو کمنٹری کے لئے مچان بنایا گیا تھا۔ یہاں سے کمنٹری کرتے ہوئے نمازہ جنازہ میں شریک حد نظر تک موجود لوگوں کو دیکھا جا سکتا تھا اور بلاشبہ فیصل مسجد کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ جب میں کمنٹری کر رہا تھا تو ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل جناب سلیم گیلانی نے مجھ سے کہا کہ اداکار محمد علی اور وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف بھی کمنٹری کرنا چاہتے ہیں۔ جب وہ قریب آئیں تو مائیک ان کو دے دینا۔ چنانچہ میں نے محمد علی کو مائیک دیا۔ وہ پانچ منٹ تک بولے۔ ان کی ریکارڈنگ آج بھی ریڈیو پاکستان کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے عین وقت پر کمنٹری کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ نماز جنازہ میں کتنے لوگ تھے اس کے بعد میں کوئی اعداد جاری نہ ہوئے۔ اسی سال میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے آسٹریلیا کے دورے کی کمنٹری کے لئے آسٹریلیا گیا، میلبورن کرکٹ گراؤنڈ پر پاکستان اور آسٹریلیا کا ون ڈے میچ تھا۔ گراؤنڈ کے ہر گیٹ پر الیکٹرانک کاؤنٹر لگے ہوتے ہیں چنانچہ ایک موقع پر اسکرین پر میچ کے حاضرین کی تعداد 87 ہزار بتائی گئی۔ میں نے کمنٹیٹر حسن جلیل سے کہا۔ اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی تعداد تو 87 ہزار بتائی جا رہی ہے ویسے کتنے ہوں گے تمہارے خیال میں؟ حسن جلیل نے کہا۔ ” میں پاکستانی خیال کے مطابق بتاؤں تو یہ 4 ملین لوگ ہوں گے۔ “ میں نے اس کے اعداد سے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔ ” مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کیونکہ میں بھی پاکستانی ہوں “۔ جہاں ہجوم اور اجتماع کا معاملہ آتا ہے وہاں ہم پاکستانی مبالغے کی تمام حدود پار کر جاتے ہیں۔ شیخ ضمیر الدین مرحوم کہا کرتے تھے ” بھئی آسان طریقہ ہے۔ نشر پارک کا رقبہ نکال لو۔ فرض کرو اس کی لمبائی 800 گز اور چوڑائی 800 گز ہوئی تو کل رقبہ 64000 مربع گز نکلا۔ اب سیدھی سیدھی بات ہے کہ جلسے میں ایک فرد کو بیٹھنے کے لئے ایک مربع گز کی جگہ درکار ہوتی ہے۔ میدان کا ایک تہائی حصہ اسٹیج اور اسٹیج کے پیچھے دوسرے انتظامی امور کے لئے خالی چھوڑا جاتا ہے۔ دو تہائی جگہ اگر پوری بھی بھر جائے تو جلسے کی حاضری 40 ہزار ہو گی۔ سائینٹیفک طریقہ تو یہی ہے جس پر دنیا میں جلسوں اور جلوسوں میں حاضری کا اندازہ قائم کیاجا تا ہے لیکن ہمارے ہاں فوجی دروازے، ناصر باغ، نشتر پارک یا کسی چوراہے اور سڑک کا کبھی رقبہ نہیں نکالا گیا۔ اگر ایسا ہو جائے تو تمام جلسوں اور تمام جلوسوں کی حاضری صحیح صحیح بتائی جا سکتی ہے۔ پندرہویں صدی ہجری کے پہلے حج کے موقع پر مجھے ریڈیو پاکستان کی طرف سے نمائندگی اور کمنٹری کا اعزاز ملا۔ میدان عرفات میں نضرہ ( میدان عرفات میں مزدلفہ کی طرف کوچ کا لمحہ ) کی کمنٹری کے لئے بڑا مچان بنایا گیا تھا۔ اس میں اسلامی دنیا کے ریڈیو کے نمائندے حروف تہجی کے لحاظ سے باری باری کمنٹری کر رہے تھے۔ الجزائر، افغانستان اور بنگلہ دیش کے بعد میرا نمبر آ گیا۔ ابھی کوچ کی توپ نہ داغی گئی تھی۔ میں نے دیکھا میدان عرفات کا افق دور تک پھیلا ہوا ہے۔ میدان عرفات کی سڑکوں اور میدانوں پر لوگ کوچ کیلئے تیار کھڑے تھے۔ ہزاروں بسیں، ان گنت خیمے، لاکھوں لوگ۔ عجیب سماں تھا۔ اس سال حجاج کی تعداد بیس لاکھ بتائی گئی تھی۔ یہ روئے ارض پر انسانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میدان عرفات کی وسعت کو بیان کس طرح کروں۔ یہاں مسجد نمرہ کے سوا کوئی عمارت نہیں۔ میدان ہیں، کشادہ سڑکیں ہیں، ٹیلے ہیں۔ اور سب آباد ہیں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میدان عرفات میں حج کے موقع کا اجتماع اب بھی سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے اور اب اس کی تعداد 30 لاکھ ہوتی ہے۔ 30 لاکھ حجاج کرام کی صبح ہی سے میدان عرفات میں آمد شروع ہوجاتی ہے۔ میدان میں 19 کشادہ 10,10 میل طویل متوازی سڑکیں ہیں۔ اور ان کے درمیان میں آدھ آدھ میل چوڑے اور 8 دس میل لمبے 21 میدان ہیں۔ یہ پورا علاقہ حجاج کرام سے بھر جاتا ہے تب جا کر اس اجتماع کو 30 لاکھ کا اجتماع کہا جاتا ہے۔ تقریباً 20 ہزار بسیں حجاج کو لے کر آتی ہیں۔ زیادہ تر لوگ منیٰ سے پیدل آتے ہیں۔ بسوں کے 20 اسٹینڈ ہیں۔ مغرب ہوتے ہی جب حجاج کے کوچ کے لئے توپ داغی جاتی ہے تو یہ حجاج وہاں سے مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں اور 21 میدان، 19 متوازی سڑکیں ایک ساتھ چل پڑتی ہیں یہ سمندر کی موجوں کا سماں ہوتا ہے۔ لیکن یہ 30 لاکھ لوگ میدان عرفات کو پوری رات میں خالی کرتے ہیں اور مزدلفہ میں صبح تک میدان عرفات والوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے۔ 30 لاکھ افراد کا ایک جگہ نظارہ کرنا ہو تو اس سال 9 ذی الحجہ کو حج کی ٹیلی وژن کوریج دیکھئے گا۔ میدان عرفات میں میلوں کے وسیع و عریض رقبے پر انسانوں کا سمندر دیکھئے گا۔ یہ لوگ شام کے وقت توپ داغے جانے کے بعد میدان عرفات کو پوری رات میں خالی کرتے ہیں اور کہنے والے کہتے ہیں جب 18 اکتوبر کی رات شارع فیصل پر دھماکہ ہوا تو پانچ سات منٹ میں پوری شارع فیصل خالی ہو گئی تھی اس پر پہلے تیز رفتاری سے بی بی کی کار دوڑی پھر دیر تک ایمبولینسیں زخمیوں اور لاشوں کو لے کر تیز رفتاری سے اسپتالوں کی سمت جاتی رہیں۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کراچی, پاکستانی, قصہ, نواز شریف, نماز, میدان عرفات, موقع, مسجد, ایران, اسکرین, اسلامی, حسن, خان, دھماکہ, دل, ریڈیو پاکستان, رات, سال, شام, شخص, علی, صبح, صحیح, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سرخ پھولوں کا فسوں سیپ شاعری اور مصوری 1 29-12-10 05:15 PM
گل وسوں باہر ہو گئی گوہر اپکے کالم 0 20-02-10 11:14 PM
برطانیہ :طیاروں ' گاڑیوں' ٹرینوں اور بسوں کی رفتارسست کرنے کا فیصلہ instafotos خبریں 0 01-07-08 03:30 PM
پاکستانی قوم : میانہ روی سے کوسوں دور ! ! ! میاں شاہد عمومی بحث 0 17-06-08 11:20 AM
کوہاٹ :دو بسوں کے درمیان تصادم، ایک ہی خاندان کے چھ افراد جاں بحق ابن ضیاء خبریں 0 08-01-08 01:22 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger