10-12-07, 11:40 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فضل الرحمن سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوئی ہے،امین فہیم
فضل الرحمن سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوئی ہے،امین فہیم
فضل الرحمن سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات ہوئی ہے،امین فہیم
حیدرآباد (بیورو رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر انتخابات صاف اور شفاف نہیں ہوئے تو 9 جنوری سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کردی جائے گی‘ ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے‘ وہ سابق ایم پی اے علی نواز شاہ رضوی کی رہائش گاہ پر پیپلز پارٹی حیدرآباد ڈویژن کے میڈیا سیل کے افتتاح کے موقع پر اخبار نویسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی تھی میرے ہمراہ رضا ربانی اور صفدر عباسی بھی تھے۔ مولانا سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی بات بھی ہوئی ہے ہم نے سینیٹ کے انتخاب میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی حمایت کی تھی۔پریس کانفرنس کے موقع پر پی پی حیدرآباد ڈویژن کے صدر مخدوم جمیل الزماں‘ پی پی حیدرآباد کے صدر زاہد بھرگڑی‘ پرویز انصاری‘ مولا بخش چانڈیو‘ آفتاب خانزادہ‘ عمر حیات اور دیگر بھی موجود تھے۔ مخدوم امین فہیم نے پیپلز پارٹی کے منشور میں صوبائی خود مختاری کا ذکر نہ کیے جانے کے سوال پر کہا کہ حال ہی میں بے نظیر بھٹو نے اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی اور عبدالحئی بلوچ سے ملاقاتیں کیں جس میں ان سے کہا تھا کہ صوبوں کو صوبائی خود مختاری ملنی چاہئے‘ یہ صوبوں کی بھلائی میں ہے اور پی پی اقتدار میں آنے کے بعد صوبوں کو خود مختاری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کے حوالے سے اے آر ڈی اور اے پی ڈی ایم کی دو ٹیموں نے ڈرافٹ بنایا ہے اب دونوں اتحادوں کے سربراہوں کو فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات آزاد اور غیر جانبدار ہوں ہم میاں صاحب یا ان کی پارٹی پر تنقید کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پارٹی میں اختلاف ہوا تو اس کا فائدہ مخالفین کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کو تحریری درخواستیں دی ہیں لیکن ان کے ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن طاقتور ہو ‘ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ججوں کی قربانی ضائع کیے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا۔
|
|
|