عدلیہ نے حدود سے تجاوز نہیں کیا،آئینی طور پر اب بھی جج ہوں،آج سپریم کورٹ جاؤں گا،جسٹس بھگوان داس،پی سی او غیر قانونی ہے،جسٹس صبیح
عدلیہ نے حدود سے تجاوز نہیں کیا،آئینی طور پر اب بھی جج ہوں،آج سپریم کورٹ جاؤں گا،جسٹس بھگوان داس،پی سی او غیر قانونی ہے،جسٹس صبیح
سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پی سی او کو غیر قانونی قرار دیدیا ہے، اس لئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ اپنی ڈیوٹی کے لئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی بھر قانون پر عمل کیا ہے اور اس کے مطابق زندگی گزاری ہے۔ سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے کیلئے ہائی کورٹ جاؤں گا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر کسی نے ہائی کورٹ میں جانے سے روکا یا مزاحمت کی تو ان کا ردعمل کیا ہوگا۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ صبیح الدین احمد نے کہا کہ ہم اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے جارہے ہیں کوئی دنگا فساد کرنے نہیں۔ دریں اثناء ٹی وی رپورٹ کے مطابق جسٹس رانا بھگوان داس نے برطانوی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی اطلاع ملی تو ہم نے اسی وقت اس اقدام کو غیر آئینی اور غلط سمجھ کر اسے مسترد کردیا تھا۔ 7 ججوں کے بنچ نے پی سی او کے خلاف حکم امتناعی ہفتہ کے روز ہی جاری کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جتنے جج سپریم کورٹ میں موجود تھے، ان کی نظر میں یہ سارا عمل غیر آئینی اور غیر قانونی تھا۔ 7 رکنی بنچ نے متفقہ طور پر پی سی او کو مسترد اور ماورائے آئین قرار دے دیا تھا اور وہ آرڈر میڈیا کو اسی وقت مل گیا تھا، اس کے بعد تقریباً ساڑھے 8/بجے ہم گھر چلے گئے۔ اس سوال پر کہ آیا ان سے حکومت نے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ انہیں فارغ کردیا گیا ہے ؟ جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ حکومت نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا، گھر پر گارڈز اور سیکورٹی موجود ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قانونی اور آئینی طور پر وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے اب بھی جج ہیں، اس سوال پر کہ پی سی او کے تحت ملک میں نظام چل رہا ہے اور آئین معطل ہے، اس میں آپ کی گنجائش کہاں ہے، جسٹس صاحب نے کہا کہ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا، چیف جسٹس سے میری مختصر اور خیر و عافیت کی بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ اتنی جلدی ملک میں عبوری آئین نافذ ہوگا اور اصل آئین معطل کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے کام کر رہی تھی اور صدر کا عدلیہ پر یہ الزام غلط ہے کہ عدلیہ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ سوموٹو ایکشنز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب تو عوام دے سکتے ہیں کہ سوموٹو ایکشن غلط تھے یا صحیح۔ جج خود اپنے فیصلے پر تبصرہ نہیں کرتا اس کے فیصلے بتاتے ہیں کہ وہ صحیح تھے یا غلط ، جن جج صاحبان نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا ان کے بارے میں جسٹس بھگوان داس نے کہا کہ ہر ایک کا اپنا ضمیر ہے، اپنا نقطہ نظر ہے میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔ ہم چاہیں گے کہ پیر کے روز عدالت جائیں، اگر جانے کی اجازت نہ ملی تو واپس آجائیں گے، جج سڑکوں پر مظاہرے تو نہیں کرتے، ہمیں کیا کرنا چاہئے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میں اپنے کردار اور عمل سے مکمل طور پر مطمئن ہوں، مجھے اپنے کردار پر کوئی افسوس یا شرمندگی نہیں ہے اگر غیر قانونی اقدامات ہوتے ہیں تو اس کے ذمہ دار ایسا کرنے والے ہوتے ہیں، ججز نہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|