طالبان کو آزاد انہ کارروائیوں کی اجازت کا سب سے پہلا شکار پاکستان ہو گا،امر
طالبان کو آزاد انہ کارروائیوں کی اجازت کا سب سے پہلا شکار پاکستان ہو گا،امر
واشنگٹن (جنگ نیوز) امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ طالبان کو آزادانہ کارروائیوں کی اجازت کا سب سے پہلا شکار پاکستان ہوگا اور امریکا افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی ترقی کیلئے مثبت ایجنڈا تیار کرنے کیلئے نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز امریکی تھنک ٹینک کے ”ہیروٹیج فاؤنڈیشن“ میں خطاب کرتے ہوئے کیا، کونڈو لیزا رائس نے کہا کہ ہم پاکستان میں جمہوری انتخابات کے پرزور حامی تھے اور نئی سول حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، یہ پاکستان کیلئے ایک پیش قدمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلاشبہ صورتحال سے نبردآزما ہونا خودمختار ریاست پاکستان کا حق ہے لیکن ہم نے واضح کر دیا ہے کہ علاقے کے ساتھ کوئی بھی سمجھوتہ بہت واضح ہو کہ دہشت گردوں کو کوئی پناہ نہ مل سکے اور آزادی کے ساتھ دہشت گرد کارروائی نہ کر سکیں۔ انہوں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ عوام نے ووٹ کے ذریعے انتہا پسندوں کو مسترد کر دیا تاہم انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کا علاقے سے صفایا ہونا چاہئے، ہم اس علاقے کیلئے حکومت کے ساتھ مثبت ایجنڈے کی تیاری کیلئے کوشاں ہیں، یہ ایجنڈا اس غریب علاقے میں ترقی اور لوگوں کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے کا ہے۔ رائس نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان کے ساتھ ایسا کوئی بھی معاہدہ جس سے طالبان کو محفوظ پناہ گاہوں کی اجازت ملے یا وہ آزادانہ طور پر کارروائیاں کرسکیں تو اس کا شکار سب سے پہلے اسلام آباد ہوگا۔
|