صدراورفوج کی مرضی کے بغیر بینظیر اور نوازشریف واپس نہیں آسکتے تھے،الطاف حسین
صدراورفوج کی مرضی کے بغیر بینظیر اور نوازشریف واپس نہیں آسکتے تھے،الطاف حسین
کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے صدر اور فوج کی مرضی کے بغیر بینظیر بھٹو اور نواز شریف وطن واپس نہیں آسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک شدید خطرات سے دو چار ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ماضی کے اختلافات کو بھلا کر ملک کو بچانے اور ملک کی ترقی و تعمیر کیلئے متحد ہوکر سیسہ پلائی دیوار بن جائیں، ماضی میں ایم کیو ایم سے پاکستان کی کسی سیاسی و مذہبی جماعت کو کوئی تکلیف پہنچی ہے تو پہل کرتے ہوئے میں ایم کیو ایم کی طرف سے سب سیاسی و مذہبی جماعتوں سے اس کی معافی طلب کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لیں، اسی طرح جمہوریت کی گاڑی اور جمہوری عمل آگے بڑھے گا اور جب آہستہ آہستہ لوگوں میں شعور آئے گا تو ملک میں صحیح جمہوریت قائم ہوجائے گی۔ یہ بات انہوں نے جناح گراؤنڈ سمیت ملک کے دیگر حصوں میں جنرل ورکرز اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کہی۔ الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ پارلیمانی دور میں بڑے اونچ نیچ کا سامنا کرنا پڑا بسا اوقات یہ خیال آتا تھا کہ یہ دور بھی ماضی کی طرح اپنی میعاد پوری نہ کرسکے گا لیکن مختلف امتحانات سے گزر کر پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسمبلیوں نے اپنی میعاد پوری کی۔ وعدے کے مطابق آئین کے مطابق مقررہ وقت پر الیکشن کا انعقاد ہورہا ہے کیونکہ یہ پانچ سالہ دور بڑا پر آشوب دور رہا ہے۔ طرح طرح کی باتیں سامنے آتی رہیں، کبھی عدالت کا مسئلہ آیا کبھی وکلاء کی ہڑتال، کبھی صحافیوں پر تشدد اور رد عمل میں صحافیوں کا احتجاج، ملک کی دو بڑی پارٹیوں کے سربراہ ملک سے باہر اور اس پر طرح طرح کے تبصرے طرح طرح کی باتیں اور بہت ساری ایسی گتھیاں ایسے سوالات ایسے شکوک و شبہات والے معاملات جن کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا حتمی طور پر مشکل تھا، اسی دوران قبائلی علاقہ جات میں طالبانائزیشن کا دور ،ان کا کنٹرول پھر جرگہ سسٹم کے تحت ہر چیز افغانستان سے بار بار نوک جھونک چلتی رہی پھر معاملہ سوات تک آپہنچا۔ اسی دوران بلوچستان کی صورت حال بھی انتہائی کشیدہ رہی۔ اکبر بگٹی کی شہادت ہوئی، اب اطلاع ملی کہ مری کے صاحبزادے بالاچ مری بھی شاید ہلاک ہوچکے ہیں اور بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کی نظر میں وہ شہید ہوگئے ہیں ۔ اسی دوران خود کش حملوں کا نیا ٹرینڈ سامنے آیا جو تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ بہرحال پارلیمنٹ کے پانچ سال مکمل ہوئے لیکن ابھی تک کوئی واضح صورت حال سیاسی و مذہبی جماعتوں کی طرف سے سامنے نہیں آرہی ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں جاگیردارانہ، وڈیرانہ کلچر گزشتہ 60 برسوں سے مسلط ہے۔ یہ فیڈرل سسٹم یورپ اور امریکا کو بھی سوٹ کرتا ہے۔ لہذا یورپ اور امریکا کی 87 سے آج تک جتنی رپورٹیں ویب سائیڈ پر ہیں،ان میں ایم کیو ایم کے لئے نیک الفاظ استعمال نہیں کئے گئے۔ کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ ملک میں موجود اسٹیٹس کو کہ جاگیردار و سرمایہ داروں، سرداروں کی حکومت رہے اور ملک کے 98 فیصد عوام غلامی کی زندگی گزاریں اور 98 فیصد افرد میں احتجاج اب پیدا نہ ہوسکے کہ وہ اپنے اوپر ڈھائے گئے مظالم پر آواز بلند کرسکیں ان بے زبان 98 فیصد عوام کیلئے متحدہ قومی موومنٹ نے آواز بلند کی تو نہ تو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ عمل پسند آیا اور نہ انکی ڈوریاں ہلانے والے امریکا کو پسند آیا۔ جس نے خزانہ لوٹا، جس نے ماورائے قانون قتل کئے اسی کے لئے امریکا نے وکالت کی لیکن جس کے 5 ہزار کارکن بغیر وجہ کے قتل کردیئے گئے اس کے لئے اچھے الفاظ استعمال نہیں کئے جاتے۔ وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں کی اپنی اپنی جیلیں ہیں۔ لیکن امریکا اور یورپ کو یہ نجی جیلیں اور ان میں رسیوں سے جکڑے لوگ نظر نہیں آتے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ٹی وی دیکھیں بڑے بڑے تجزیہ نگار، کالم نویس، تاریخ دان کہتے ہیں کہ یہ امریکا کون ہوتا ہے جو ہمیں ڈکٹیشن دیتا ہے۔ لیکن تبصرہ کرنے والوں کا جب ذاتی مسئلہ آتا ہے تو اللہ کی طرف دیکھنے کے بجائے امریکا کی طرف دیکھتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ملک سے باہر تھے تو اللہ کی بجائے ان کی نگاہیں امریکا کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ جنرل پرویز مشرف جب جرنیل تھے تو الزام لگایا جاتا تھا کہ یہ امریکا کے سامنے دب گئے ہیں، اب بڑے بڑے رہنما جو وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں ان میں سے کون امریکا کی طرف نہیں دیکھ رہا یہ فرق ہے الطاف حسین اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں میں۔ ہم قرضہ اتار دیں اور کہیں کہ یہ ملک ہمارا ہے آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی کے تماشے میں کردار نظر آتے ہیں انہیں چلانے والے ہاتھ نظر نہیں آتے۔ 1999ء میں جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالا تو پی سی او کے تحت چیف جسٹس چوہدری افتخار سمیت دیگر ججوں سے حلف لیا، اس وقت یہ حلف لینے کیلئے راضی تھے۔ سعید الزماں صدیقی، ناصر اسلم زاہد اور دیگر ججوں نے حلف نہیں لیا تو ان کی چھٹی کردی گئی۔ پی سی او کا اطلاق غلط تھا اس وقت سیاسی جماعتیں اور وکلاء برادری عدلیہ کی آزدی کے لئے میدان میں کیوں نہ آئیں، کتنی مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اسے غلط کہتے ہوئے تحریک چلانے کا کہا تھا لیکن اب دوبارہ پی سی او کی تحت حلف لیا گیا تو یہی سیاسی و مذہبی جماعتیں اور وکلاء میدان میں آگئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ 3 نومبر والی پوزیشن واپس لاؤ تو کسی نے مطالبہ نہیں کیا کہ1999ء والی پوزیشن واپس لاؤ،انہوں نے سوال کیا بینظیربھٹو 8سال ملک سے باہر رہیں،تو کیا انہیں الطاف حیسن اور ایم کیو ایم نے باہر بھیجا تھا وہ اپنی مرضی سے گئی تھیں۔ نواز شریف جیل میں تھے تو ان کو الطاف حسین نے باہر بھیجا تھا یا وہ باقاعدہ معاہدہ کر کے گئے تھے۔ یہ قومی رہنما 8 سال تک قوم سے مسلسل جھوٹ بولتے رہے کہ کوئی معاہدہ نہین کیا بعد میں کہنے لگے کہ دس سال نہیں پانچ سال کا معاہدہ کیا۔ صدر اور پاکستانی فوج کی مرضی کے بغیر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف وطن واپس نہیں آسکتے تھے۔ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر جماعتوں نے 73ء کا آئین بنایا تھا تو وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نہیں بنے تھے۔ کیا بھٹو نے آئین میں تبدیلیاں نہیں کی تھیں۔ کیا ایمرجنسی نہیں لگائی تھی۔ یہ صرف ایک آدمی پر امریکا کا آدمی ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔ بتائیں کہ تمام اسلامی ممالک کی ڈوریاں یہاں سے ہلتی ہیں اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو اپنی کلیئرنس کیلئے کہاں سے سفارش کرنی پڑتی ہے، اس لئے کسی ایک پر الزام لگانا درست بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ امریکا مداخلت کررہا ہے۔ ڈکٹیشن دے رہا ہے تو امریکا اگر مداخلت نہیں کرے گا تو کیا نیپال، بھوٹان مداخلت کریں گے۔ امریکا سے امداد لے رہے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں 10 ملین ڈالر کس نے دیئے جب وہ اتنی رقم دے گا تو حساب نہیں کرے گا۔ 60 سال میں پاکستان کے خزانے سے اربوں کو یوں لوٹنے والے بڑے لوگوں بڑے ڈاکوؤں میں سے کسی کو سزا ہوئی اگر ان لٹیروں ڈاکوؤں کو سزا نہیں ہوئی تو ملک کی تمام جیلوں کو ختم کرکے تمام قیدیوں کو رہاکردیں کیا جیلیں چھوٹے ڈاکوؤں چوروں اور چھوٹے جرائم کرنے والوں کیلئے ہیں۔ دولت مندوں کیلئے کوئی سزا نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کو دہشت گرد اس لئے کہتے ہیں کہ رات کو سوتے میں انہیں خواب آتے ہیں کہ ایم کیو ایم کا اقتدار آگیا ہے۔ ایم کیو ایم کا دور حکومت آیا تو ملکی دولت لوٹنے والوں کو سرعام سزا ہوگی۔ وہ وقت بھی آئے گا جب پورے ملک میں ایم کیو ایم کا نام گونجے گا۔ انہوں نے کہا کہ نازک وقت ہے ملک خطرے میں ہے، سب کا فرض ہے ملک کو بچائیں ملک کو نازک صورت حال سے نکالیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ ملک بچانا ہے، سیسہ پلائی دیوار بن کر مل کر ملک کو بچائیں تو کوئی چھوٹی بڑی طاقت ملک کی طرف غلط نظر نہیں ڈالے گی ۔ اب دوسری جماعتوں کو چاہئے کہ جس خلوص و محبت سے ملک کے نام پر الطاف حسین نے اپیل کی ہے، دوسری جماعتیں بھی اس کا جواب دیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|