صحافی تنظیموں نے میڈیا کی بندش اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا، جدوجہد کا عزم
صحافی تنظیموں نے میڈیا کی بندش اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا، جدوجہد کا عزم
ملک بھر میں صحافیوں کی تنظیموں نے میڈیا کی بندش اور ایمرجنسی کو مسترد کردیا ہے اور جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا ہے ان تنظیموں نے پریس کلبس کے گھیراؤ کی شدید مذمت اور چینلز کی نشریات کی بحالی کا مطالبہ کیا جبکہ سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کابھی اعلان کیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر شمیم الرحمن اور جنرل سیکریٹری جاوید اصغر چوہدری سمیت اراکین ایگزیکٹو کونسل کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد نجی نیوز چینلز کی بندش اور ملک بھر کے پریس کلبوں کا قانون نافذ کرنے و الے اداروں کی جانب سے گھیراؤ کیے جانے کی شدید مذمت کی گئی ہے اس ضمن میں جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اور حکومتی ہدایات پر نجی نیوز چینلز و ریڈیو چینلز کی بندش کو آزادیٴ اظہار کے حکو متی دعوؤں کی یکسر نفی قراردیا گیا ہے۔ کے یو جے نے مطالبہ کیاہے کہ عوام الناس کو حالات حاضرہ سے آگاہی کے لیے نجی نیوز چینلز اور ریڈیو چینلز کی نشریات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد میڈیا ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کو راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کہ آزادیٴ صحافت کیلئے بھرپور جدوجہد کی جائے گی اور آج پیر کے روز سے ملک بھر کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کیا جائے جبکہ منگل کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کا اجلاس طلب کرلیاگیا ہے اس بات کا فیصلہ اتوار کے روز راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کیمپ آفس میں آر آئی یو جے کی کال پر ہونے والے ہنگامی اجلاس کے دوان کیا گیا اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر ہماعلی، راولپنڈی اسلام آیاد پریس کلب کے صدر مشتاق منہاس سیکریٹری جنرل و صدر آر آئی یو جے محمد افضل بٹ، پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس، فوزیہ شاہد، پرویز شوکت، سی آر شمسی، محمد شہریار خان، سہیل اقبال، فاروق فیصل، بلال تھہیم، طلعت حسین، محسن رضا، ابصار عالم، کاشف عباسی سمیت مختلف اخبارات و جرائد، نیوز ایجنسی اور بین الاقوامی اخبارات کے بیورو چیف سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر عارف حمید بھٹی کی زیر صدارت لاہور پریس کلب میں ایک اجلاس ہوا جس میں صحافیوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کو آزادیٴ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ آزادیٴ صحافت کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اس موقع پر مغوی صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ادھر پیرس کے میڈیا اور پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کے ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان پر ملاجلا ردعمل دیکھنے میں آیا فرانسیسی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا جن میں لی فگار ولی موند اخبارات سمیت ٹی وی چینل5 اور دیگر نے ایمرجنسی پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ جنرل پرویز نے اسلامائزیشن کے خطرات کو جواز بناتے ہوئے آئین کو معطل کرتے ہوئے جو ایمرجنی نافذ کی ہے اور قومی اور صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں کو بحال رکھا ہے اس سے عدلیہ اور میڈیا متاثر ہوا ہے۔ فرانس میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں جن میں پاکستان پیپلزپارٹی فرانس کے صدر خان زائد خان، ہیومن رائٹس انٹرنیشنل ڈیسک انچارج فیاض چوہدری اور دیگر سرگردہ لوگوں نے ایمرجنسی کے نفاذ پر سخت مایوسی غصے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دیار غیر میں تارکین وطن پاکستانیوں کیلئے پریشانی اور شرمندی کا موجب قرار دیا ہے۔ مزید براں دنیا بھر کے صحافیوں کی عالمی تنظیم ودآؤف آف بارڈر نے پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی پریس آرڈیننس کے اجرا اور پرائیویٹ ٹی وی چینل کی نشریات بند کیے جانے کی پُرزور الفاظ میں شدید مذمت کرتے ہوئے ترمیمی پریس آرڈیننس کو فوری واپس لیا جائے اور پرائیویٹ ٹی وی چینل کی نشریات فوری طور پر بحال کی جائیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|