شریف برادران پیر تک پاکستان نہ آئے تو الیکشن نہیں لڑسکیں گے
شریف برادران پیر تک پاکستان نہ آئے تو الیکشن نہیں لڑسکیں گے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) عام انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد ملک کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گیا ہے حزب اختلاف کی جماعتیں کسی احتجاج سے اور تحریک کے بجائے انتخابی تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہیں ایمرجنسی کا نفاذ‘ صدر کی وردی اور عدلیہ کا معاملہ بھی پس منظر جاتا نظر آرہا ہے۔ مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے اور انہوں نے انتخابات کیلئے اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں تاحال امیدواروں کا فیصلہ نہیں کر پائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف پیر 26 نومبر تک اگر پاکستان نہیں آئے تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے کیونکہ الیکشن کمیشن نے شرط عائد کی ہے کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدوار کو ریٹرننگ آفیسر کے روبرو خود پیش ہونا پڑے گا۔ میاں نواز شریف اگر الیکشن سے باہر رہتے ہیں تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو نقصان ہو گا۔ دوسری جانب تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر عائد آئینی پابندی کے سبب عام انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو کے وزیراعظم بننے کے چانسز بھی کم ہیں اگر صدر جنرل پرویز مشرف سے ان کا تصادم جاری رہتا ہے تو پھر وہ مذکورہ پابندی کے سبب اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وزیراعظم نہیں بن سکیں گی اور یہ پابندی ختم کرانے کے لئے انہیں اسمبلی سے رجوع کرنا ہو گا جہاں انہیں اس پابندی کے خاتمے کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی اس دوران پی پی پی کو عارضی وزیر اعظم کے لئے کسی پارٹی رہنما کو سامنے لانا ہو گا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|