06-12-07, 10:16 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,569
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیاسی پارٹیاں الیکشن پر بے یقینی کا شکار، انتخابی مہم تیز نہ ہو سکی
سیاسی پارٹیاں الیکشن پر بے یقینی کا شکار، انتخابی مہم تیز نہ ہو سکی
سیاسی پارٹیاں الیکشن پر بے یقینی کا شکار، انتخابی مہم تیز نہ ہو سکی
اسلام آباد (طارق بٹ) اس مرتبہ انتخابی عمل میں روایتی چہل پہل نظر نہیں آرہی اور اس کی بڑی وجہ کچھ بڑی سیاسی جماعتوں کی انتخابات میں نیم دلانہ شرکت اور دہشت گردی کے خطرات ہیں، الیکشن کمیشن کے عہدیداران جو عشروں سے پارلیمانی انتخابات کے دوران ہونے والی انتخابی مہمات کو دیکھتے رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ابھی انتخابی ماحول بننا باقی ہے۔ اُن میں سے کچھ کے مطابق 8جنوری کو الیکشن کے انعقاد پر بے یقینی اور گومگو کی کیفیت پائی جاتی ہے حالانکہ سرکاری سطح پر مقررہ وقت پر انتخابی عمل کے انعقاد میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ عناصر جن میں مایوس لوگ بھی شامل ہیں بار بار اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر بڑی سیاسی پارٹیوں نے واک آؤٹ کردیا تو انتخابات شیڈول کے مطابق نہیں ہو سکیں گے۔ حکام نے اِس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ انتخابی مہم کیلئے کم وقت دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1997ء کے عام انتخابات کیلئے 24 روز 2002ء کے انتخابات کیلئے 23 روز دیئے گئے اور اتنا ہی عرصہ حالیہ انتخابات کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ ان کی رائے میں انتخابی مہم کیلئے عرصے کا آغاز 15 دسمبر سے شروع ہوگا۔ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے نااہلی نے بھی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شبہات بڑھا دیئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سپریم لیڈر نواز شریف کی طرف سے بائیکاٹ کے برسرِ عام متواتر اعلانات کے باوجود دوسرے رہنما بشمول شہباز شریف مختلف حلقوں کیلئے امیدواروں کا انتخاب کرنے میں مصروف ہیں۔ مسلم لیگ ن میں انتخابات میں حصہ لینے اور نہ لینے کے حوالے سے واضح طور پر دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک گروپ بس کو مس نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ایسا کرنے سے پارٹی اگلے مزید چند برسوں کیلئے پارلیمانی سیاست سے آؤٹ ہو جائے گی۔ دوسرا گروپ چاہتا ہے کہ پرویز مشرف کے زیرانتظام ہونے والے سارے عمل کو بُری طرح سے متاثر کرنے کیلئے بائیکاٹ کیا جائے۔ پی ایم ایل (ن) کے ورکرز جن کے بارے میں توقع تھی کہ اعلیٰ قیادت کی واپسی کے بعد انتخابی مہم میں حصہ لیں گے، اب نواز شریف کے موقف کے باعث ابھی تک سرگرم نہیں ہوئے ہیں۔ ایک دوسری پارٹی جماعت اسلامی جو عموماً اپنی پروپیگنڈہ مشینری کی وجہ سے انتخابی مہم کو عموماً انتہائی گرم کر دیتی ہے، اس مرتبہ انتخابات سے لاتعلق نظر آتی ہے۔ ایک اور سیاسی قوت پاکستان پیپلز پارٹی ہی وہ پارٹی ہے جو اب تک بہت سے حلقوں کیلئے امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہے، ماضی میں یہ جماعتیں بھرپور انتخابی مہم چلاتی رہی ہیں، جس کے باعث ووٹروں کو یہ یقین ہو جاتا تھا کہ انتخابات یقینی طو رپر منعقد ہوں گے۔ انتخابی بخار نہ چڑھنے کی ایک اور وجہ انتخابی ریلیوں اور جلسوں میں خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے خطرات ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں اور ورکرز کے تحفظ کیلئے سیاسی پارٹیوں کی بڑے بڑے عوامی جلسوں کے انعقاد کے حوالے سے حوصلہ شکنی کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ق ہی واحد پارٹی ہے جسے 8جنوری کے انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے کوئی شک نہیں ہے اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہے، لیکن یہ صرف حلقے کی حد تک محدود ہے۔ ویسے بھی ق لیگ اتنی مقبول نہیں ہے کہ وہ بڑے بڑے عوامی جلسے منعقد کر سکے۔ اس کے امیدواروں کی اکثریت اپنے اپنے علاقوں میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے یونین کونسل ناظمین اور مقامی کونسلرز کو مہم میں بھرپور طور پر شامل کیا ہوا ہے اور یہی لوگ انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔
|
|
|