06-12-07, 10:03 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیاسی رہنماؤں کو ڈیڈ لاک سے بچنے کو کہاہے،پاکستان کو سیاسی گر داب سے نکا لنا چاہتے ہیں،تر ک صدر
سیاسی رہنماؤں کو ڈیڈ لاک سے بچنے کو کہاہے،پاکستان کو سیاسی گر داب سے نکا لنا چاہتے ہیں،تر ک صدر
سیاسی رہنماؤں کو ڈیڈ لاک سے بچنے کو کہاہے،پاکستان کو سیاسی گر داب سے نکا لنا چاہتے ہیں،تر ک صدر
انقرہ(جنگ نیوز) ترکی کے صدر عبدالله گل نے کہا ہے کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات پوری دنیا کیلئے مثال کی حیثیت رکھتے ہیں، ہم پاکستان کو سیاسی گرداب سے نکالنا چاہتے ہیں، سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات خوشگوار رہے، انہیں ڈیڈ لاک سے بچنے کو کہا، مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے ورنہ ملک کو نقصان ہوگا، پاکستانی قیادت نے آئندہ عام انتخابات شفّاف اور آزادانہ منعقد کرانے کا یقین دلایا ہے، صدر پرویز نے وردی اتار کر عوام سے کئے گئے اپنے وعدے کی پاسداری کی ہے۔ دورہ پاکستان مکمل کر کے ترکی جاتے ہوئے انٹرویو میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیاستدانوں نے جس طریقے سے پاکستان میں سیاسی بحران پر قابو پانے کے لیے ترکی کی کوششوں کو سراہا ہے اس پر ہم پاکستان کے سیاستدانوں کے شکر گزار ہیں۔ عبداللہ گل نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بڑے خوشگوار فضا میں مذاکرات کیے اور تما م سیاست دانوں نے برادر ملک ہونے کے ناطے ترکی کے اس کردار کی تعریف کی ہے۔ صدر گل نے کہا کہ پاکستان کے جن سیاسی رہنماؤں سے مذاکرات ہوئے ان تمام نے ہماری ان کوششوں اور ہماری نیک نیتی کی قدر کی ہے اور اسے کسی بھی صورت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے تعبیر نہیں کیا ہے بلکہ اسے ایک برادر اور دوست ملک کی پُر خلوص کوشش اور خیر سگالی کے جذبے سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں جن سے انہوں نے ملاقات کی ہے تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں جو جمہوری منزل کو حاصل کرنے کے لیے ایک بہت ہی خوش آئند بات ہے اور اس سے پاکستان میں جمہوریت کوپھلنے پھولنے میں بڑی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کی سوچ ایک د وسرے سے مختلف ہوسکتی ہے لیکن ان کے دل صرف پاکستان ہی کی محبت کے جذبے سے سرشار ہیں جوکہ ملک کے اتحاد اور یک جہتی کی بھی آئینہ دار ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے ان رہنماؤں کو ڈیڈ لاک سے گریز کرنے اور تمام مسائل کو صرف اور صرف مذاکرات کے ذیعے ہی حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ مذاکرات کے علاوہ کوئی اور راستہ اپنانے یا پھرطاقت کے استعمال سے ملک ہی کو نقصان پہنچے گااور اس سے کوئی اور فائدہ حاصل کرے گا جس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ملکی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کی اپیل بھی کی اور کہا کہ یہی ایک جمہوری راستہ ہے اور اسی جمہوری راستے سے حاصل کردہ کامیابی پائیدار اور طویل المدت ثابت ہوگی۔
|
|
|