19-12-07, 08:33 AM
|
#1
|
|
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیاسی جماعتیں فرد واحد کی آئینی ترامیم کی پارلیمنٹ میں توثیق نہ کریں،سپریم کورٹ کے سابق ججوں کا مطالبہ
سیاسی جماعتیں فرد واحد کی آئینی ترامیم کی پارلیمنٹ میں توثیق نہ کریں،سپریم کورٹ کے سابق ججوں کا مطالبہ
سیاسی جماعتیں فرد واحد کی آئینی ترامیم کی پارلیمنٹ میں توثیق نہ کریں،سپریم کورٹ کے سابق ججوں کا مطالبہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ کے سابق ججوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فرد واحد کی آئینی ترامیم کی پارلیمنٹ میں توثیق نہ کریں ۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی، سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ناصر اسلم زاہد، سپریم کورٹ کے سابق جسٹس خلیل الرحمن، سپریم کورٹ کے سابق جسٹس وجیہہ الدین احمد ، سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مامون قاضی، سپریم کورٹ کے سابق جسٹس کمال منصور عالم پر مشتمل قانون کی حکمرانی کیلئے کمیٹی نے مقامی ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پرویز مشرف کی جانب سے آئینی ترامیم کو مسترد کردیا اور کہا کہ کسی شخص کو آئین میں ترمیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی مدت پوری کرنا کوئی کارنامہ نہیں ،بے عمل اسمبلی 5کے بجائے دس سال بھی چل سکتی ہے ۔ صرف پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کرنے کا اختیار ہے۔ سپریم کورٹ نہ تو آئین سازی کرسکتی ہے اور نہ ہی اپنے اختیار کسی کو دے سکتی ہے۔ فرد واحد کی جانب سے ترمیم، پارلیمنٹ کے اختیارات پر قبضہ ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ فرد واحد نے جو آئینی ترامیم کی ہیں وہ پارلیمنٹ میں اس کی توثیق نہیں کریں گی۔ پرویز مشرف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ترمیمی آئینی اقدامات واپس لیں۔ آئندہ عام انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے غیر جانبدارانہ الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو آئینی ترامیم 60 سال میں نہ ہوسکیں وہ آدھے گھنٹے میں ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتیں اسمبلی جانے کے بعد غیر آئینی اقدامات کی توثیق کردیتی ہیں وہ عوام کو یقین دہانی کرائیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ اسمبلی کی مدت پوری کرنا کوئی کارنامہ نہیں، بے عمل اسمبلی 5 سال کیا 10 سال کی مدت پوری کرسکتی ہے۔
|
|
|