سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیارات ختم کرنے کیلئے آئینی ترمیم پر غور
سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیارات ختم کرنے کیلئے آئینی ترمیم پر غور
اسلام آباد (طارق بٹ) سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے اختیارات ختم کئے جا رہے ہیں اس کے لئے صدر پرویز پی سی او کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ایک آئینی ترمیم کریں گے۔ اس بات کا اشارہ حکمران اتحاد کے ایک اجلاس جس میں صدر پرویز نے بھی شرکت کی، کے بعد سامنے آیا۔ حکمران اتحاد کا یہ اجلاس وفاقی کابینہ کے وزیراعظم کے زیر صدارت غیر رسمی اجلاس کے بعد منعقد ہوا۔ اجلاس میں شریک ایک شخص نے دی نیوز کو بتایا کہ اجلاس میں صدر پرویز پرزور دیا گیا کہ چونکہ پی سی او کے نفاذ کے بعد انہیں آئین میں ترامیم کا حق حاصل ہو گیا ہے چنانچہ وہ مسائل جو کہ راستے کی رکاوٹ بنتے ہیں اور بعض مرتبہ پریشان کن ثابت ہوتے ہیں ان کا خصوصاً سپریم کورٹ کے حوالے سے ان کا آئینی ترامیم کے ذریعے کوئی حل نکال لینا چاہیے تاکہ وہ دوبار تنگ نہ کر سکیں۔ ذرائع کے مطابق صدر نے حکمران اتحاد کے اراکین کو کہا کہ وہ ایک کمیٹی بنائیں اور وزیرپارلیمانی امور شیر افگن کے ساتھ مل کر تجاویز کو حتمی شکل دیں۔ اس سلسلے میں صدر نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی کے ان تجربات کو مدنظر رکھنا ہو گا جب آئین بحال تھا۔ صدرنے ایمرجنسی کے نفاذ کے دن قوم سے اپنے خطاب میں از خود نوٹس اختیارات کا تذکرہ کیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق عوام کی طرف سے 500 کے قریب شکایات سپریم کورٹ کے اس سیل میں روزانہ موصول ہوتی ہیں جو کہ فارغ کئے گئے چیف جسٹس نے عوام کے مسائل کے حل کے لئے بنایا تھا۔ ان پٹیشنز کی ایک بہت بڑی تعداد کو متعلقہ محکموں میں عملدرآمد کے لئے بھیج دیا جاتا تھا اس سلسلے میں ایک مانیٹرنگ سسٹم بھی قائم کیاگیا تھا اس اجلاس میں شامل بعض شرکاء نے صدر کی توجہ اس طرف بھی دلائی کہ قومی اسمبلی میں اجلاس کے موقع پر کورم کے حوالے سے بھی ایسی آئینی ترامیم کی ضرورت ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہے۔ انہوں نے صدر کو یہ بھی بتایا کہ کورم کے حوالے سے ایسی پابندیاں بعض ممالک کی پارلیمنٹس میں بھی نہیں ہیں۔ صدر پرویز نے اجلاس کو بتایا کہ ان کے علم میں ہے کہ حکمران لیگ کے بعض اراکین آئندہ انتخابات کے حوالے سے مختلف آراء رکھتے ہیں۔ صدر نے بتایا کہ بعض اراکین جنوری میں انتخابات چاہتے اوربعض ابھی التوا چاہتے ہیں، اس سلسلے میں صدر نے کہاکہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت تمام اراکین کی رائے کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اجلاس میں شریک ایک اور رکن نے بتایا کہ صدر نے حکمران اتحاد کے رہنماؤں کو بتایا کہ ایمرجنسی صرف اس صورت میں اٹھائی جائے گی جب تمام مطلوبہ مقاصد حاصل کرلئے جائیں گے۔ صدر نے اجلاس کے بعض شرکاء کی جانب سے غیر ملکی دباؤ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے غیر ملکی رہنماؤں کی ٹیلی فون کالز آتی ہیں اور میں ان کی بات سنتا ہوں مگر میں وہ کروں گا جو کہ پاکستان کے لئے بہتر ہوگا۔ صدر پرویز نے ایمرجنسی کے حوالے سے حمایت کرنے پر حکمران اتحاد کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں حکمران اتحاد کے امیدوار کامیابی حاصل کریں۔ انہوں نے ان وجوہات کی تفصیل بھی پیش کی جس کی بنا پر ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا اور جن کا انہوں نے قوم سے تقریر میں ذکر بھی کیا تھا۔ اجلاس کے کچھ شرکاء کا کہنا تھا کہ انتخابات کی تاریخ کا اس وقت تک اعلان نہیں کا جانا چاہیے جب تک سپریم کورٹ میں موجود تمام اہم مقدمات نمٹا نہیں دیئے جاتے، خاص طور پر وہ کیس جو صدر پرویز کی صدارتی امیدوار کی اہلیت سے متعلق ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|