سول سروس اکیڈمی:زیرتربیت افسروں کااحتجاج،سیاہ پٹیاں باندھیں
سول سروس اکیڈمی:زیرتربیت افسروں کااحتجاج،سیاہ پٹیاں باندھیں
اسلام آباد …(رپورٹ / انصار عباسی )ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ(ڈی ایم جی) کے زیر تربیت افسران جنہیں بیوروکریسی کی کریم بھی کہا جاتا ہے جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور دوسروں کی حراست کیخلاف احتجاج میں اپنی کمیونٹی پر سبقت لے گئے ہیں۔ ایک زیر تربیت افسر نے نمائندے کو اعتماد میں لے کر بتایا کہ 3نومبر کے اقدام اور اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے معزول ارکان کی گرفتاری سمیت پریشان کن اقدامات پر ڈی ایم جی کے زیر تربیت افسروں کا اجلاس ہوا۔انہوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا۔ ا حتجاج کی وجہ انہوں نے جسٹس خلیل الرحمن رمدے ، ایڈووکیٹ منور علی شاہ اور حامد علی خان سمیت اپنے اساتذہ کی گرفتاری کی مذمت کرنا بتائی۔ ایک اوراہم پیشرفت یہ ہے کہ ڈی ایم جی کی ایک نوجوان افسر سارہ سعید جو حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور رجسٹرار تعینات ہوئی تھیں نے ذاتی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے فاضل عدالت سے باہر اپنی تعیناتی کیلئے درخواست دیدی ہے۔سارہ سعید کو سپریم کورٹ میں حماد رضا کے قتل کے بعد خالی ہونیوالی ایڈیشنل رجسٹرار کی پوسٹ پر اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے تعینات کیا تھا۔حماد رضا بھی ڈی ایم جی افسر تھے۔ ایمرجنسی کم مارشل لاء کے نفاذ، معزول چیف جسٹس اور بہت سے دیگر ججوں کی برطرفی کے بعد اس وقت کے رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین کو ہٹا کر سیکرٹری لاء کمیشن تعینات کردیا گیا۔ ڈاکٹر فقیر حسین کی روانگی کے بعد سارہ سعید کو سپریم کورٹ کا رجسٹرار بنا دیا گیا۔ جب ڈی ایم جی خاتون اپنے کیریئر کے درمیان میں سپریم کورٹ سے جار ہی ہیں سول سروس اکیڈمی لاہور میں ان کے زیر تربیت ڈی جی ایم گروپ کے جونیئرز سیاہ پٹیاں باندھ کر کلاس میں آئے تو سب حیران رہ گئے۔ سول سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل مجیب الرحمن شامی نے نامہ نگار سے فون پر رابطے سے گریز کیا۔ تاہم اکیڈمی کے ایک ذریعے نے تصدیق کی کہ کئی زیر تربیت افسروں نے پرامن طور پر احتجاج کیا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے ، منصور علی شاہ اور حامد علی خان سول سروس اکیڈمی کے باقاعدہ فیکلٹی ممبر ہیں۔ جسٹس رمدے ضابطہ فوجداری ، حامد علی خان آئینی امور جبکہ منصور شاہ زیر تربیت افسروں کو انتظامی قوانین پڑھاتے ہیں۔ اگرچہ اس غیرمعمولی احتجاج نے اکیڈمی انتظامیہ کے کچھ افسران کو پریشان کردیا۔ تاہم سول سروس اکیڈمی انتظامیہ پرامن احتجاج کرنیوالے زیر تربیت افسروں کو قائل کرنے کیلئے کچھ نہ کرسکی جنہوں نے احتجاج ریکارڈ کرانے کے ایک روز بعد سیاہ پٹیاں اُتاردیں۔ جسٹس رمدے لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر حراست میں ہیں اوراُنہیں جمعہ نماز تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے نامہ نگار کو لاہور سے فون پر بتایا کہ انہیں یقین نہیں کہ ان کو حج کیلئے سعودی عرب جانے کی اجازت دی جائے گی جس کیلئے انہوں نے پہلے ہی درخواست دے رکھی تھی ۔زیر تربیت افسروں سے پہلے یہ اسلام آباد کی بیوروکریسی تھی جس نے معزول چیف جسٹس اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے دیگر ججوں سے زبردستی گھر خالی کرانے اور انہیں ان کے آبائی شہروں میں بھیجنے کی سختی سے مخالفت کی تھی۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں اسلام آباد کی بیورو کریسی نے معزول ججوں کو زبردستی ان کے آبائی شہروں میں بھیجنے کے آپشن کی حمایت نہیں کی تھی اور انہیں رضاکارانہ طور پر جانے کیلئے قائل کرنے پر اصرار کیا تھا۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|