واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


سندھ میں بینظیر لہر:شوکت عزیز اور شجاعت کی کراچی آمد،اتحادیوں سے ملاقاتیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-10-07, 08:26 AM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,803
کمائي: 2,339,130
شکریہ: 17,797
12,253 مراسلہ میں 28,473 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default سندھ میں بینظیر لہر:شوکت عزیز اور شجاعت کی کراچی آمد،اتحادیوں سے ملاقاتیں

سندھ میں بینظیر لہر:شوکت عزیز اور شجاعت کی کراچی آمد،اتحادیوں سے ملاقاتیں

سندھ میں بینظیر لہر:شوکت عزیز اور شجاعت کی کراچی آمد،اتحادیوں سے ملاقاتیں

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی پاکستان آمد کے بعد سے ملک بھر میں بالعموم اور سندھ میں بالخصوص بینظیر بھٹو کی مقبولیت کی ایک لہر آئی ہوئی ہے، ہر سیاسی جماعت اور سیاست دان بینظیر سے متاثر نظر آتا ہے اور ان سے مقابلے میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ بینظیر کی مقبولیت کی دھمک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی سنی جا رہی ہے۔ اس لہر کے مقابلے کیلئے ہفتہ کو وزیراعظم شوکت عزیز اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ کراچی کا دورہ کیا اور اپنے اتحادیوں سے صلاح مشورے کئے۔ اس دوران انہوں نے کنگری ہاؤس میں پیر پگارا سے بھی ملاقات کی جبکہ نائن زیرو کے دورے میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے تبادلہ خیال کیا اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے وزیراعظم نے فون پر بات کی۔ تینوں جماعتوں کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز کو اپنے اس مشن میں کامیابی ملی ہے اور جلد ہی عوام کو اس سلسلے میں اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ اور اتحادی جماعتیں مل کر حصہ لیں گی، وہ انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کریں گی اور یہی اتحادی جماعتیں آئندہ بھی حکومت بنائیں گی۔ وہ ہفتہ کو کنگری ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ پیر پگارا سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر چوہدری شجاعت حسین‘ گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیر پگارا سے ملاقات انتہائی مفید رہی ہے، شروع دن سے ہم پیر صاحب کے مشوروں اور خیالات سے مستفید ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے، آج کی ملاقات اس لئے اہم تھی کہ اس میں چوہدری شجاعت بھی موجود تھے۔ ہم سب مل کر پاکستان کی بہتری کیلئے کام کریں گے جس سے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔ اس موقع پر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میں مسلم لیگ کا ادنیٰ کارکن ہوں، مسلم لیگ کے اصل سربراہ پیر پگارا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ پورے ملک سے انتخابات میں حصہ لے گی اور چاروں صوبوں سے پیپلز پارٹی کا صفایا کردے گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیر پگارا سے اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔ پیر پگارا نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری شجاعت سے ملاقات کے بعد ان سے اب کوئی اختلافات نہیں رہے، ان سے پوچھا گیا کہ آپ کسی زمانے میں چوہدری شجاعت کو زیرو کہتے تھے؟ پیر پگارا نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد وہ زیرو سے ہیرو بن گئے ہیں، اب توپوں کا رخ پیپلز پارٹی کی طرف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو پر خودکش حملے کے حوالے سے میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔ ایک اور سوال پر پیر پگارا نے کہا کہ یہ صدر جنرل پرویز مشرف پر منحصر ہے کہ وہ عام انتخابات سے قبل اتحادی جماعتوں کا چھوٹا الائنس بناتے ہیں یا بڑا۔ وہ ماضی کے اتحاد سے کیا سبق حاصل کرتے ہیں اور اپنا ساتھی کن لوگوں کو بناتے ہیں۔ دریں اثناء نائن زیرو کے دورے کے موقع پر وزیراعظم شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت نے رابطہ کمیٹی کے ارکان سے بات چیت کی اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین سے ٹیلیفونک گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد، وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اوردیگرمسلم لیگی رہنما اوروفاقی وصوبائی وزراء بھی موجود تھے۔ بات چیت کے دوران الطاف حسین نے کہاہے کہ ملک انتہائی نازک صورتحال سے گزررہاہے لہٰذا سوات اوروزیرستان میں معاملات کوبات چیت اور افہام وتفہیم سے حل کیاجائے اوراگر تمام ترکوششوں کے باوجودمعاملہ بات چیت سے حل نہ ہوں توسیکورٹی فورسز کسی اپنی کارروائی میں بہت احتیاط سے کام لیں تاکہ معصوم شہریوں کی جانوں کااتلاف نہ ہو۔ سیاسی حالات کاذکرکرتے ہوئے الطاف حسین نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیربھٹو کی وطن واپسی کے موقع پرابتداء میں حکومت نے مفاہمت کیلئے جس تحمل اوروسیع القلبی کامظاہرہ کیااس کوملک اور بیرون ملک سراہاگیالیکن 18اکتوبرکے افسوسناک واقعہ کے بعد طرفین کی جانب سے تندوتیزبیانات کاسلسلہ شروع ہوگیاہے جوقربت کے بجائے دوریاں پیداکرے گا، ایسا نہ ہو کہ مفاہمت اور وسیع القبلی کی کوششیں رائیگاں چلی جائیں۔ الطاف حسین نے وزیراعظم شوکت عزیز، چوہدری شجاعت حسین اوردیگرمسلم لیگی رہنماوٴں سے کہاکہ آئندہ الیکشن کیلئے بھی ہم ملک کی بہتری کیلئے مل جل کرحکمت عملی بنائیں تواس سے ملک وقوم کا بھلا ہوگا۔انہوں نے آئندہ انتخابات کیلئے ہوم ورک کرنے اورمشترکہ کمیٹیاں بنانے کی بھی تجویز پیش کی جس سے وزیراعظم شوکت عزیزاورچوہدری شجاعت حسین نے اتفاق کیا۔ الطاف حسین سے ٹیلی فون پر اور رابطہ کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر عام انتخابات کی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے، مسلم لیگ اور اس کی اتحادی جماعتیں عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے ایک بار پھر حکومت بنائیں گی۔ 18/ اکتوبر کے سانحہ کی غیر ملکی ماہرین سے تحقیقات کے سلسلے میں کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ماہرین سے تحقیقات کی ضرورت نہیں پاکستان کی ایجنسیاں واقعہ کی تحقیقات کررہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نائن زیرو اس لئے آئے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ ہماری اتحادی جماعت ہے ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ دریں اثناء رابطہ کمیٹی کے انچارج انور عالم نے کہا کہ وزیراعظم اور چوہدری شجاعت کے ساتھ گفتگو انتہائی مفید رہی، ہم نے عوام کی حکومت کی ہے اور عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے اب انتخابات میں ہم اپنی خدمات کے حوالے سے عوام کے پاس جائیں گے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حکمراں جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے موجودہ حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے مسلم لیگ ا ور متحدہ کی مشترکہ کمیٹیاں بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ادھر چیف منسٹر ہاؤس میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے ہماری کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے، بلدیاتی نظام کو کسی بھی صورت میں ختم نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ بلدیاتی نمائندوں کو عوام نے منتخب کیا ہے اور وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، آئندہ عام انتخابات کے لئے مسلم لیگ کو منظم کیا جائے گا، سندھ میں مسلم لیگ ”شیر سندھ“ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی قیادت میں اکثریت سے کامیاب ہو گی۔ استقبالیہ میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ مسلم لیگی عہدیداران‘ وزراء‘ مشیران اور ضلعی ناظمین نے شرکت کی۔ استقبالیہ سے مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے بھی خطاب کیا اور پیپلز پارٹی پر زبردست تنقید کی۔ قبل ازیں بعض مسلم لیگی عہدیداروں نے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پر واضح کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے ڈیل کرنے کے تاثر اور انہیں فری ہینڈ دینے سے سندھ میں مسلم لیگ کے لوگوں میں مایوسی پھیل رہی ہے اور آئندہ عام انتخابات میں ان کیلئے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برسہا برس سے ہم پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں لیکن مسلم لیگیوں کے لئے اس طرح کی صورت حال کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ان عہدیداروں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سے ہماری کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہے‘ البتہ جمہوریت کے لیول کو بہتر کرنے کے لئے انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ میں مسلم لیگیوں کو یہ پیغام دوں کہ میری پارٹی صرف پاکستان مسلم لیگ ہے اور میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہوں گا۔ کیونکہ مسلم لیگیوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارباب ساڈا شیر ہے‘ باقی سب ہیر پھیر ہے‘ ہم ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کی قیادت میں سندھ میں کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے شرافت سے کام نہیں تو لیا تو ہم بھی شرافت کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ رات گئی بات گئی۔ چوہدری شجاعت نے کہا کہ بے نظیر بھٹو 8 سال ملک سے باہر رہی ہیں‘ اب آٹھ گنا جھوٹ بول رہی ہیں کہ ان کے جلوس میں دس لاکھ لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو باہر ڈالر کھارہی تھیں لیکن پاکستان آتے ہی 140 آدمیوں کو کھا گئیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر پاکستان کو تیسری مرتبہ لوٹنے آئی ہیں اور پاکستان کو افغانستان بنانا چاہتی ہیں‘ حامد کرزئی اور بے نظیر بھٹو کا ایک ہی ایجنڈا ہے‘ جس کے تحت پاکستان کے اندرونی حالات خراب کر کے بیرونی مداخلت کا جواز پیدا کرنا ان کے عزائم میں شامل ہیں۔ لیکن عوام کی مدد سے پاکستان کو افغانستان بنانے کی سازش کو ناکام بنادیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ہرجانہ مانگنے والے پاکستان کے عوام کا 90 ارب روپے واپس کروائیں۔ عوام کے نعرے لگانے والی بے نظیر بھٹو کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنے بھائی مرتضیٰ بھٹو کی اولاد کو حقوق دیں۔ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ارباب رحیم سے ہرجانہ طلب کر کے خیراتی اداروں کو دیں گے‘ میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ سب سے پہلے مرتضیٰ بھٹو کی یتیم اولاد کو اپنا جائز حق دیں بعد میں یتیم اور خیراتی اداروں میں رقم جمع کرنے کی بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی ہر کسی کو معلوم ہے کہ ان لوگوں کی گاڑی رحمن ملک جیسے کرمنل لوگ چلاتے ہیں جبکہ 18 اکتوبر کو بھی بم بلاسٹ کے بعد بے نظیر بھٹو کی گاڑی رحمان ڈکیت چلا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے پاور شیئرنگ اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کی جائے گی۔ قبل ازیں وزیراعظم اور چوہدری شجاعت نے چیف منسٹر ہاؤس میں ارباب غلام رحیم، سیکریٹری جنرل اور صوبائی وزیر سردار نادر اکمل لغاری اور ایڈیشنل سیکریٹری جنرل سینیٹر غفار قریشی سے الگ الگ ملاقات کی، جس میں مسلم لیگ کو سندھ میں مضبوط بنانے، آئندہ عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ ممکنہ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب گورنر ہاؤس کراچی میں150 ملین ڈالرز کی لاگت سے دو سال کے عرصے میں مکمل ہونے والے افکو پاکستان کے خوردنی تیل کے پلانٹ کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے لیکن عوام کو فکرمند نہیں ہونا چاہئے، ملک میں آئندہ عام انتخابات پرامن ماحول میں شفاف اور غیرجانبدارانہ ہوں گے اور یہ عوام پر منحصر ہوگا کہ وہ ترقی کے عمل کو جاری رکھیں یا پھر ماضی کے دروازوں کو ایک بار پھر دوبارہ سے کھولیں، پاکستان میں ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری کے اضافے کے ساتھ ساتھ معیشت بھی مضبوط ہوئی ہے، ملک میں الیکشن کا ماحول ہے، آئندہ بھی حکومت مسلم لیگ (ق) اور اس کی اتحادی جماعتیں ہی بنائیں گی۔ خطاب کے بعد وزیراعظم اور چوہدری شجاعت نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم سے گورنر ہاؤس کراچی میں اہم ملاقات کی جس میں حکمراں اتحاد سے متعلق معاملات، حکمراں جماعت کے معاملات، ملک میں امن وامان اور سیاست کی مجموعی صورتحال خاص طور پر سندھ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریں اثناء وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے ملک کو اقتصادی بحران اور مشکلات سے نکال لیا ہے جو صدر پرویز مشرف کا کارنامہ ہے ہفتہ کو گورنر ہاؤس میں سرحد ویلیفئر فنڈز کے زیر اہتمام مزدوروں کیلئے تین ہزار فلیٹوں کے سنگ بنیاد اور ممکنہ تاجروں صنعتکاروں اور شخصیات کی خدمات کے اعتراف کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آٹھ سال قبل پاکستان کو ایک ناکام ریاست قرار دیا جارہا تھا آٹھ سال پہلے کا ناکام ملک آج ایک کامیاب ریاست ہے ، ۔

بشکریہ
جنگ
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فری, کراچی, پاکستان, وزیراعظم, نظر, مکمل, موجودہ, مقابلہ, مسائل, معلوم, آج, اسلام, بھائی, بے نظیر, جھوٹ, جواب, جلد, حل, خودکش, خان, رات, سیاست, سال, عالم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیوں کر اس بت سے رکھوں‌جان عزیز The Great شعر و شاعری 2 16-09-09 03:59 PM
کیوں کر اس بت سے رکھوں جان عزیز! خرم شہزاد خرم دیوان غالب 0 14-12-07 02:55 PM
صورتحال بہتر ہوتے ہی ایمرجنسی اٹھالی جائے گی،اسمبلیوں کی مدت میں توسیع مشاورت سے ہوگی،شوکت عزیز عبدالقدوس خبریں 0 05-11-07 08:48 AM
میں،پرویز مشرف اور شوکت عزیز نشانہ بنے،شجاعت ،پرویز الٰہی اور اعجاز الحق پر حملے کیوں نہیں ہوئے،بینظیر خرم شہزاد خرم خبریں 0 26-10-07 10:55 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger