رحمن ملک اب آصف زرداری کے چیف سیکورٹی ایڈوائزر ہونگے
رحمن ملک اب آصف زرداری کے چیف سیکورٹی ایڈوائزر ہونگے
اسلام آباد (رپورٹ:طارق بٹ) سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے چیف سکیورٹی ایڈوائزر رحمن ملک اب اسی حیثیت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری کے لئے حکومت سے تحفظ کے لئے روابط قائم کرنے کے فرائض انجام دیں گے۔ سابق ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کہا میرے فرائض وہی ہیں کہ زرداری کی سکیورٹی اور حفاظت کو یقینی بنانے کی غرض سے درمیانی ذریعہ کے طور پر کام کریں جیسا کہ میں بینظیر بھٹو کے لئے کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی زندگی میں اس کردار کے علاوہ پیپلز پارٹی یوتھ ونگ کے اجلاسوں کا انعقاد بھی میرے فرائض میں شامل تھا تاکہ ووٹنگ کے روز بیلٹ بکس جلانے یا دیگر دھاندلیوں کو روکنے کے لئے ہر پولنگ اسٹیشن پر چار کی تعداد میں تعیناتی کے لئے کارکنوں کی تربیت کی جائے۔ ان کے مطابق زرداری کے تحفظ کے لئے انہوں نے وزارت داخلہ سے رابطے شروع کر دیئے اور پی پی پی لیڈر کے لئے مطلوبہ سکیورٹی مہیا کرنے کے بارے میں صوبائی انسپکٹرز جنرل پولیس کو ہدایات دیئے جانے کا کہا ہے۔ لیاقت باغ راولپنڈی میں جب بینظیر قتل ہوئیں تو مطلوبہ سکیورٹی موجود نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ زرداری کی حفاظت کا فرض بدستور اس مقصد کے لئے متعین پولیس اور دیگر اداروں کے ذمہ رہے گا اور میں موزوں سکیورٹی کور دیئے جانے کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے رکھوں گا۔ بینظیر کا تحفظ سینئر پولیس افسر ریٹائرڈ میجر امتیاز کی ذمہ داری تھا انہیں اسی غرض سے تعینات کیا گیا۔ زرداری کی سکیورٹی کا چارج سنبھالنے کے بعد رحمن ملک نے داخلہ سیکرٹری سید کمال شاہ کو ایک خط میں کم از کم پچاس اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس اور چار گشتی پولیس گاڑیوں کے زرداری کی قیام گاہ، نوڈیرو ہاؤس لاڑکانہ اور ان کے دوروں کے دیگر مقامات پر فوری مہیا کرنے کا کہا۔ وہ انتخابی مہم کے دوران زرداری کے عام جلسوں اور دیگر اجلاسوں کے دوران کسی دھماکہ خیز آلہ کا پتہ چلانے کے لئے تربیت یافتہ جاسوس کتوں کی موجودگی بھی چاہتے ہیں۔ انہوں نے زرداری کے عوامی جلسوں کے سلسلے میں بلٹ پروف اسکرین کے لئے بھی کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر صوبے میں ایک سینئر پولیس افسر کسی ہنگامی یا معمول کی ضروریات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے متعین کیا جائے۔ وہ مقامی سطح پر زرداری کی نقل و حرکت کے دوران ہر صوبائی صدر مقام پر ان کے ساتھ قابل عمل فنکشنل جیمرز چاہتے ہیں جو تمام فریکوئنسی کا احاطہ کرسکیں۔ تمام انسپکٹر جنرل پولیس کو کہا جائے کہ وہ متعلقہ صوبے اور اسلام آباد میں ان کے قیام کے دوران کم از کم چار موبائلز اور کافی پولیس فورس مہیا کریں جو نقل و حرکت کے دوران ان کی گاڑی کو چاروں اطراف سے کور کریں۔ رحمن ملک نے کہا زرداری کو اب مختلف گروپوں اور بیرونی تنظیموں کی جانب سے سنگین خطرات درپیش ہیں، جن کے بارے میں حکومت پہلے ہی باخبر ہے۔ 15 دسمبر 2007ء کے ایک سابقہ مکتوب کی کاپی انہوں نے مہیا کی، جس میں وزارت داخلہ نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے اسکواڈ کے ہمراہ ایک جیمرز ٹیکنیشین کو اس شعبہ میں کمیابی کے باعث مستقل طور پر متعین کرنا غالباً ممکن نہیں ہوگا۔ اس میں کہا گیا کہ تمام صوبوں کی پولیس کو بینظیر بھٹو کی نقل و حرکت کے دوران انہیں جہاں تک دستیابی ممکن ہو، قابل عمل اور کارآمد جیمرز مہیا کئے جانے کا کہہ دیا گیا۔ مکتوب کے مطابق صوبائی پولیس بینظیر بھٹو کے صوبوں اور اسلام آباد میں قیام کے دوران چار پولیس موبائل فراہم کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ ان کے مستقل اور عارضی رہائش گاہوں پر کافی تعداد میں فورس متعین کرنے کا بھی کہا گیا۔ خط کے مطابق پاکستان میں مشاق کتوں کی تعداد انتہائی قلیل ہے اور یہ ہر جگہ دستیاب نہیں اور طویل دورانیہ کے لئے کام کرنے کے ناقابل ہیں تاہم جہاں تک ممکن ہوا مہیا کئے جاسکتے ہیں۔ بلٹ پروف روسٹرم دستیاب ہونے پر فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں موجود نہیں تاہم بلٹ پروف کاریں استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جس کے لئے وزارت داخلہ عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ جاری کر چکا ہے۔ خط میں وزارت نے ایک مرتبہ پھر وسائل کے اندر رہتے ہوئے بینظیر بھٹو کو سکیورٹی پیدا کرنے کی تمام تر کوششوں کی یقین دہانی کرائی۔رحمن ملک کو بینظیر بھٹوکی شہادت کے المیہ پر اس وقت عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب وہ ہسپتال کے راستے میں تقریباً وفات پا چکی تھیں اور رحمن ملک جیو ٹی وی کو بتا رہے تھے کہ محترمہ کسی نقصان سے بچ گئیں اور وہ محفوظ ہیں۔ دبئی میں بیٹھے ہوئے آصف زرداری نے انکشاف کیا کہ بینظیر کی حالت خطرناک ہے،اور چند لمحوں میں ان کی موت کا اعلان ہوگیا۔
|