دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ مذہبی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف منظم سازش ہے: عمران خان
دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ مذہبی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف منظم سازش ہے: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو سیاست میں جھوٹ کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی مذہبی جنگ یا تناؤ نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک منظم سازش ہے ۔ ایک بھارتی صحافی کے ساتھ انٹرویو میں عمران خان نے کہاکہ اسلام کے خلاف منظم سازشیں ہو رہی ہیں ہندو ، تاملز اور اسرائیل بھی مختلف چالیں استعمال کر رہے ہیں لیکن کسی نے بھی اس کو ہندو انتہا پسند ، تامل انتہا پسند یا یہودی انتہا پسند کا نام نہیں دیا ۔ یہاں تک بی این پی کے انتہا پسندوں کو یہودی انتہا پسندی کا نام نہیں دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ کوئی مذہبی جنگ نہیں بلکہ یہ سیاست میں جھوٹ کا آغاز اوریہ اسلام کے خلاف منظم سازش ہو رہی ہیں ۔ ہندو، تاملز اور اسرائیل مختلف چالیں بھی استعمال کررہے ہیں ۔ لیکن کسی نے بھی اس کو ہندو انتہا پسند ، تامل انتہا پسند یا یہودی انتہا پسند کا نام نہیں دیا یہاں تک بی این پی کے انتہا پسند وں کو یہودی انتہا پسندی کا نام نہیں دیا عمران خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ کوئی مذہبی جنگ نہیں بلکہ یہ سیاست میں جھوٹ کا آغاز تھا اور یہ اسلام کے خلاف ایک منظم سازش ہے جیسا کہ مغربی طاقتوں نے کمیونزم اور نازیوں کو اپنی شاہانہ پالیسیوں کی وجہ سے دھکیلنے کے لئے ان کے خلاف ایک نظریہ تعمیر کیا انہوں نے کہا کہ ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی ریاست اڑیسہ میں 14گرجا گھروں کو نذر آتش کردیا اور انگلینڈ میں بی این پی کے انتہا پسند نسلی فسادات میں ملوث ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہر برادری انتہا پسند ، بنیاد پرست ،اعتدال پسند اور لبرل ہے لیکن اس پر مذہب کے حوالے سے الزام لگانا انصاف نہیں انہوں نے پاکستان کی سیاست کے حوالے سے کہا کہ یہاں پر دو گروپ ہیں ایک موجودہ نظام کا حامی ہے اور دوسرا مخالف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا گروپ اے پی ڈی ایم موجودہ نظام کا مخالف ہے انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم دراصل 25جماعتوں کا اتحاد ہے یہ بات درست ہے کہ یہ چھوٹی پارٹیاں شامل ہیں لیکن یہ نظریاتی طور پر بہت پر عزم اور پکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی پارٹی جماعت اسلامی بھی ہمارے ساتھ ہے اس کے علاوہ سول سوسائٹی اور وکلاء بھی عدلیہ کی بحالی کے لئے سراپا احتجاج ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں مختلف بحرانوں کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بحران پیش نہ آتے تو موجودہ حالت مضبوط رہتی جو اس ملک کے مفاد میں نہیں اور نہ ہم اس کو برداشت کر نے کے متحمل ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں حکمرانوں کی سطح پر کرپشن ہو رہی ہے اور عوام خوار ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گرداب سے نکالنے اور عدلیہ کی بحالی کے لئے ہماری جدوجہد جاری ہے عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں صرف مشرف اور اس کی اتحادی پارٹی ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سے خطرہ ہے جس کے خلاف میں نے برطانیہ اور سکاٹ لینڈ یارڈ میں کیس دائر کیا ہوا ہے باقی مجھے کسی سے خطرہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی سپریم کورٹ نے ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے مجھے صرف دو اشخاص مشرف اور الطاف حسین سے خطرہ ہے عمران خان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک نے پاکستان کی مقامی اور علاقائی سیاسی کا اعتراف نہیں کیا ہے اس لئے امریکہ غلط فیصلے کررہا ہے اور پاکستان کے عوام اس پر سخت برہم ہیں۔
|