دوران ڈرائیونگ موبائل بلاک کرنے کا سافٹ ویئر
دوران ڈرائیونگ موبائل بلاک کرنے کا سافٹ ویئر
دوران سفر موبائل فون استحکام کرنے سے بڑھتے ہوئے حادثات کی شرح کم کرنے کیلئے جہاں احتیاط اور جرمانے کی سزائیں جاری ہیں وہاں سائنس دانوں نے ایک ایسا کمپیوٹر سافٹ ویئر بھی تیار کر لیا ہے جو چلتی کار، بس، ویگن یا ٹرک میں ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے آدمی کا موبائل فون خود بخود بلاک کر دے گا۔ اس سیٹ پر بیٹھ کر اس وقت کال سنی نہیں جا سکے گی جب تک گاڑی کا انجن بند نہیں ہو جائے گا۔
اس دوران ایس ایم ایس یا ایم ایم ایس کی وصولی اور روانگی بھی منقطع ہو جائے گی۔ یہ سافٹ ویئر کینیڈا کی ایک فرم نے تیار کیا ہے۔ فرم کے مطابق یہ خود کار نظام ماہانہ فیس کے تحت فراہم کیا جائے گا۔ رائل سوسائٹی برائے حادثات سے بچائو نے اس نظام کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سڑکوں کے حادثات میں 4 گنا کمی واقع ہو جائے گی۔
سکیورٹی سے متعلق ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مختلف کمپنیوں کے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی موبائل فون سکیورٹی انتظامات کو بے کار کرنے اور جرائم کے نئے انداز متعارف کرانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی انفارمیشن سکیورٹی سینٹر کی سالانہ سائبر رپورٹ برائے جرائم و خوف کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے حامل موبائل فونز رکھنے والے متعدد صارفین کو علم نہیں کہ ان کے سافٹ ویئر پر وائرس بالکل اسی طرح حملہ کر سکتا ہے جس طرح کمپیوٹر پر حملہ کرتا ہے اور یہ وائرس مختلف جگہوں پر کئے جانے والے سکیورٹی کیمروں، سکیننگ مشینوں اور دیگر انتظامات کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
جب تک صارفین اس جدید ٹیکنالوجی کو وائرس سے پاک رکھنے کے متعلق مکمل آگاہی حاصل نہیں کریں گے یہ خدشہ بدستور قائم رہے گا۔ اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے مکمل استعمال کے بغیر یہ خدشہ ٹل نہیں سکتا، اگر کسی ہائیکر نے اس طریقہ سے سکیورٹی نظام کو بے کار کرنے کی کوشش کی تو وہ جرائم کے نئے طریقے کو بھی متعارف کرائے گا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں نت نئے انداز اور جدید سے جدید سہولیات پر مبنی فون اور موبائل فون کمپنیاں رابطے کے نئے طریقہ کار فراہم کر رہے ہیں اور اسی تیزی سے یہ لوگوں میں مقبول بھی ہو رہے ہیں جس سے خدشات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
فون کالز کرنے، وصول کرنے اور ٹیکسٹ میسج ارسال کرنے یا وصول کرنے، بلیو ٹوتھ اور دیگر الیکٹرانکس طریقہ کار سے اس وائرس کے پھیلنے کا امکانات کو کم کرنے کیلئے دنیا میں کئی ایک کمپنیوں نے سوچ بچار شروع کر دیا ہے
|